15 اپریل 2016 - 15:24
استنبول اجلاس میں آل سعود کی شکست / ایران نے او آئی سی کے اختتامی بیان پر اعتراض کرتے ہوئے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا

اسلامی جمہوریہ ایران نے استنبول میں اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے اختتامی بیان پراعتراض کرتے ہوئے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق استنبول میں اسلامی تعاون تنطیم کے سربراہی اجلاس کا آخری سیشن ایسے وقت میں منعقد ہوا جب اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی اور وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اس میں شریک نہیں تھے۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے او آئی سی کے سربراہی اجلاس کے اختتامی بیان میں ایران اور حزب اللہ کے خلاف بعض شقیں شامل کیے جانے پر شدید اعتراض کرتے ہوئے آخری سیشن میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ صیہونی لابی کے دباؤ پر او آئی سی کے سربراہی اجلاس کے اختتامی بیان میں کئی ایران مخالف شقین اور حزب اللہ لبنان کے خلاف ایک شق شامل کی گئی ہے۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اجلاس سے پہلے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اسلامی تعاون تنظیم کو اپنے ایران مخالف موقف پر پشیمان ہونا پڑے گا۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے ،جن کا ملک جمعے سے او آئی سی کی صدارت سنبھال رہا ہے، اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ،کہا کہ اس اجلاس کے فیصلوں سے مسلمانوں میں ترقی، فلاح و بہبود، انصاف اور امن کی امیدیں پیدا ہوں گی ۔

انہوں نے سربراہی اجلاس کے اختتامی بیان کو پڑھ کر سنانے سے گریز کرتے ہوئے دعوی کیا کہ حالیہ اجلاس تنظیم کے رکن ملکوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی اور تعاون کے نعرے کے تحت منقعد ہوا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے جمعرات کے روز او آئی سی کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ او آئی سی میں تفرقہ انگیزی کی کوئی گنجائش نہیں اور عالم اسلام میں پائے جانے والے اختلافات اور غلط فہمیوں کو سفارت کاری کے ذریعے دور کیا جانا چاہیے۔

صدر ڈاکٹر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہر قسم کی جارحیت، خطرات ، تسلط پسندی اور دہشت گردی کے مقابلے کے لئے ہمیشہ مسلمانوں اور مسلم ملکوں کا حامی اور پشت پناہ رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169