13 اپریل 2016 - 17:53
شامی عوام نے جاری بحران کے باوجود پارلیمانی انتخابات میں حصہ لیا

شام کے عوام ملک میں جاری بحران کے باوجود پارلیمانی انتخابات میں حصہ لیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ شام میں ساڑھے چار سال سے زیادہ عرصے سے جاری بحران کے باوجود یہ دوسرا موقع ہے جب اس ملک کے عوام نے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لیا ہے۔ ۔قبل ازیں شام کے عوام نے سن دوہزار بارہ میں پارلیمانی اور سن دوہزار چودہ میں صدارتی انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا۔

بدھ کے روز ہونے والے انتخابات میں پارلیمنٹ کی دوسو پچاس نشستوں کے لیے تین ہزار کے قریب امیدوار میدان میں ہیں ۔ انیس سو نوے کے آئین کے تحت شامی پارلیمنٹ کی آدھی نشستیں، ملازمت پیشہ افراد اور کسانوں کے لیے مختص ہیں۔

شام کے صدر بشار اسد نے انتخابات کے موقع پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شام خطے کے ان چند ملکوں میں سے ایک ہے جو اپنی خودمختاری اور اقدار اعلی پر سودے بازی کرنے کے لیے تیار نہیں اور اسی وجہ سے ہم پر جنگ اور بحران مسلط کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شامی عوام اور فوج کی استقامت اور دوست ملکوں کے تعاون سے شام کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی نصیب ہوئی ہے۔

ادھر شام کے وزیر اطلاعات عمران الزعبی نے حالیہ انتخابات کو حکومت اور آئین پر عوام کے اعتماد کی علامت قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ انتخابات اندرون و بیرون ملک واضح پیغام کے حامل ہیں اور اس کے ذریعے عوامی رجحان کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جنیوا میں جاری بحران شام کے سیاسی حل کے عمل کا ، موجودہ آئین سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نئے آئین کی تدوین تک موجودہ آئین ہی ملکی انتظام کی بنیاد ہے۔

بحران شام کے حل کی غرض سے جنیوا میں جاری مذاکرات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مذاکرات کو کامیاب بنانے کی ذمہ داری صرف شامی حکومت کے وفدکی نہیں ہے بلکہ مخالفین کے وفد کو بھی صداقت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ مخالفین کی ریاض کمیٹی ، مذاکرات کی کامیابی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کررہی ہے لیکن ہم مذاکراتی عمل کو ڈی ریل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

درایں اثنا شام کےنائب وزیر خارجہ فیصل مقداد نے کہا ہے کہ اگر چہ اقوام متحدہ کے نمائندے اسٹیفن ڈی مستورا اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ تمام مذاکرات ان کی نگرانی میں ہونے چاہیں تاہم دمشق حکومت ،مخالفین کے وفد کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی مخالف نہیں ہے۔

شام کی حکومت نے اعلان کیاہے کہ ملک میں تیرہ اپریل کو ہونے والے انتخابات کے پیش نظر دمشق کا وفد پندرہ اپریل سے جنیوا امن مذاکرات کے لیے آمادہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲