اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے منگل کو تہران میں ایران اور اٹلی کے اعلی رتبہ وفود کی نشست میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ تہران - روم تعلقات میں مزید تیزی پیدا کرنے کے لئے ضروری زمین ہموار ہو چکی ہے کہا کہ اٹلی کے وزیراعظم کا دورہ ایران دونوں ملکوں کے تعلقات کے فروغ میں اہم قدم ہے-
صدر روحانی نے کہا کہ پابندیوں کی منسوخی کے بعد اٹلی، یورپی یونین کے ساتھ ایران کے تعلقات کو فروغ دینے میں پیشقدم رہا ہے -
ایران کے صدر نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور اٹلی نے نقل و حمل ، شاہراہوں ، شہری ترقی اور ماحولیات کے شعبے میں تعاون کرتے رہے ہیں کہا کہ علاقے میں ایران کی ممتاز پوزیشن، سیکورٹی اور استحکام نے اس ملک میں غیرملکی سرمایہ کاری کے لئے بہترین ماحول فراہم کیا ہے-
صدر حسن روحانی نے اسی طرح دنیا کے مختلف ممالک میں موجود مسائل دور کرنے کے لئے ایران اور اٹلی کے درمیان تعاون کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ تہران ، علاقے کے مسائل کے حل کے لئے ہمیشہ فعال رہا ہے اور سیاسی راہ کے استعمال کو مسائل کے حل کے لئے بہترین راستہ سمجھتا ہے-
صدر روحانی نے دہشت گردی کو دنیا کے تمام ممالک کے لئے ایک بڑا خطرہ قرار دیا اور کہا کہ اجتماعی تعاون سے دہشت گردی کا مسئلہ،حل کیا جاسکتا ہے لیکن پورے اسلام پر دہشت گردی کا جھوٹا الزام لگانا اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو اس کی سزا دینے کا مطلب سماج میں ایک گہرا اختلاف پیدا کرنا ہے جو کبھی حل نہیں ہو سکتا-
اس موقع پر اٹلی کے وزیر اعظم میٹیو رنتیزی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ اٹلی ، ایران کے ساتھ اپنے معاہدوں کو انجام تک پہنچانے کے لئے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرے گا کہا کہ اٹلی ، یورپی یونین کے ساتھ ایران کے تعلقات کے نئے دور کا راستہ کھول سکتا ہے اور اس سلسلے میں وہ اپنا کردار بخوبی ادا کرنے کی کوشش کرے گا-
اٹلی کے وزیر اعظم نے کہا کہ آج ایران ، علاقے کا سب سے پائدار ملک شمار ہوتا ہے اور اسلامی جمہوریہ کے بغیر علاقے میں امن و استحکام ممکن نہیں ہے-
اٹلی کے وزیر اعظم نے جامع مشترکہ ایکشن پلان میں یورپی فریق کے وعدوں پر عمل درآمد میں تیزی لانے کے لئے اٹلی کی ہمہ گیر کوشش پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ جامع مشترکہ ایکشن پلان پر پوری طرح عمل درآمد اور تعاون شروع ہونے میں ہر دن کی تاخیر سے ، یورپی ممالک کو سب سے زیادہ نقصان ہوگا-
۔۔۔۔۔۔۔
/169