7 مارچ 2016 - 14:16
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے خلیج فارس تعاون کونسل کے اقدام کی مذمت کی

یہ فیصلہ خلیج فارس تعاون کونسل کا اپنا فیصلہ نہیں بلکہ یہ ان خفیہ نشستوں کا نتیجہ ہے جو عربی ممالک کے حکام صیہونی حکام سے کرتے آ رہے ہیں۔ لیکن یاد رہے کہ ان کے اس اقدام سے اسلامی مزاحمت کمزور پڑنے والی نہیں ہے بلکہ الٹا دن بدن صیہونی ریاست کی نابودی کے لیے مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خلیج فارس تعاون کونسل نے اسلامی مزاحمت کے خلاف اپنے دشمنانہ اقدامات جاری رکھتے ہوئے ایک بار پھر اپنے بیان میں حزب اللہ لبنان کو دھشتگرد گروہ قرار دے دیا اور اعلان کیا کہ دھشتگردوں سے مقابلہ کے قوانین حزب اللہ لبنان کے خلاف بھی جاری ہوں گے۔
خلیج فارس تعاون کونسل کے اس غیراصولی اقدام کے خلاف جہاں کئی اسلامی تنظیموں نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اس کی مذمت کی وہاں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے بھی ایک بیان جاری کر کے اس تنظیم کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اسلامی ممالک کے سربراہان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے فیصلے میں ترمیم کریں۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے اس بیان میں آیا ہے کہ حزب اللہ لبنان کو اس وجہ سے دھشتگرد قرار دیا جا رہا ہے چونکہ حزب اللہ نے مزدور عربی حکومتوں کے حقیقی چہرے سے پردہ فاش کیا ہے اور صیہونی ریاست کے ساتھ ان کے خفیہ تعلقات کو دنیا والوں کے سامنے برملا کیا ہے۔
اس بیان میں مزید آیا ہے خلیج فارس تعاون کونسل کی جانب سے حزب اللہ کو دھشتگرد قرار دینے پر مبنی اقدام کوئی ایسا اقدام نہیں جو پہلی بار یا غیر متوقع طور پر انجام پایا ہو بلکہ جب سے استعماری طاقت برطانیہ نے علاقے میں بعض عربی ملکوں کو جنم دیا تب سے علاقے میں ان ملکوں کا کام برطانیہ کی نوکری کرنا اور اسلامی امت کے درمیان فتنہ کی آگ بھڑکانا ہے۔
یہ فیصلہ خلیج فارس تعاون کونسل کا اپنا فیصلہ نہیں بلکہ یہ ان خفیہ نشستوں کا نتیجہ ہے جو عربی ممالک کے حکام صیہونی حکام سے کرتے آ رہے ہیں۔ لیکن یاد رہے کہ ان کے اس اقدام سے اسلامی مزاحمت کمزور پڑنے والی نہیں ہے بلکہ الٹا دن بدن صیہونی ریاست کی نابودی کے لیے مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے۔
اسمبلی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ دنیا دیکھ رہی ہے کہ دھشتگرد کون ہے القاعدہ، داعش، جبہۃ النصرہ اور دیگر دسیوں جرائم پیشہ ٹولیوں کو جنم دینے والے اور ان کی ہمہ گیر حمایت کرنے والے عربی ممالک اگر حزب اللہ کو دھشتگرد گروہ کہیں تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے چونکہ واحد حزب اللہ ہے جس نے ان ممالک کی دراندازی کو لگام چڑھا رکھی ہے اگر علاقے میں حزب اللہ نہ ہوتی عربی ممالک کے بھیڑیا صفت حکمران پورے مشرق وسطیٰ کو چیر پھاڑ چکے ہوتے۔
عربی ممالک نے ہمیشہ فلسطین کے مظلوم عوام کے قاتل کی حمایت کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ ہماری مسلمانی صرف نام کی مسلمانی ہے ہم میں اور صیہونی یہودیوں میں صرف نام کا فرق ہے کردار کا نہیں جبکہ واحد گروہ حزب اللہ ہے جس نے ان کے باپ کو ناکوں چنے چبوائے ہیں فلسطینیوں کی ہر آن حمایت کی ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے خلیج فارس تعاون کونسل کی اس نازیبا حرکت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور عربی حکمرانوں اور اسرائیل کے پٹھؤوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ہوش کے ناخن لیں اور اس طرح کے بیان جاری کرنے سے پرہیز کریں۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے آخر میں اسلامی مزاحمت اور اس کے تمام رہنماوں خاص طور پر سید حسن نصر اللہ نیز صیہونی دشمنوں اور تکفیری مزدوروں کے خلاف مصروف پیکار تمام مجاہدین سے اپنی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲