5 مارچ 2016 - 16:51
گلگت بلتستان اور ریاست کی وحدت کا مسئلہ

حکومت پاکستان کو اب اس خطے کی حساس نوعیت اور جغرافیائی ، تاریخی اورسیاسی صورتحال اور پاکستان کی داخلی و خارجی سلامتی کو درپیش چیلنجز کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرنا ہونگے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔

تحریر : سیّد تصور حسین نقوی ایڈووکیٹ
گلگت  بلتستان کے مستقبل کے حوالے سے ایک عرصہ سے وہاں کے رہنے والوں سمیت آزاد ومقبوضہ کشمیر کے لوگوںکے اندر اضطرابی کیفیت پائی جاتی ہے ۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے اعلان  اور گوادر کاشغر لگ بھگ تین ہزار کلومیٹر شاہراتی روٹ میں سے بیس فیصد یعنی سوا چھ سو کلو میٹرروڈ اس علاقے سے گذارنے کے پلان کے بعد اس میں مذید اضافہ ہو ا ہے اور گلگت  بلتستان کے حقوق کا معاملہ یہاں سے ہوتا ہوا اس وقت اسلام آباد کے سیاسی ایوانوں ، آزادو مقبوضہ کشمیر  کے عوام اور سیاسی حلقوں سمیت بیرونِ ملک پاکستانیوں و کشمیریوں میں زیر بحث آنے والا سب سے بڑا موضوع  بن چکاہے۔ حکومت پاکستان، چین  اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی خواہش ہے کہ ان علاقوں کو پاکستان کے دوسرے صوبوں کی طرح ایک صوبے کا درجہ دیا جائے تاکہ چین کے ساتھ تجارت اور اسے اس خطے میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے ایک راستہ مہیا کیا جائے اور ساتھ ہی ١٣ سو کلو میٹر طویل شاہراہ قراقرم کے ذریعے  چین و وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ پاکستان کے رابطے اور تجارت کو مذید مستحکم بنایا جائے۔ایک تجویز ہے کہ حکومت پاکستان ١٩٦٣ کے پاک چین سرحدی معائدے کی طرز پر دستور میں ترمیم کر کے لکھ دے کہ جب بھی جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا تو گلگت بلتستان کے عوام  اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے اور اسکا از سر نو تعین کرنے میں آزاد ہونگے ۔یہ بھی تجویز دی جارہی ہے کہ آئین ِ پاکستان١٩٧٣ء کی دفعہ  ٢٥٧ کے تحت ذیلی دفعہ کا اضافہ کرکے رائے شماری کے انعقاد تک ان علاقوں  اور یہاں کے لوگوں کو ملک کے باقی صوبوں اور لوگوں کے برابر حقوق دئیے جائیں۔   بدقسمتی سے گلگت بلتستان کے عارضی بندوبست کو جسے آزاد کشمیر کے ساتھ ملحق ہوجانا چاہیے تھا تاکہ ڈورہ راج سے آزاد کروائے جانے والے آزاد علاقوں کی ایک نمائیندہ حکومت بنتی جو باقی ماندہ مقبوضہ کشمیر کو آزاد کروانے کی ذمہ داریاں سنبھالتی اور ڈوگرہ راج کے دوران نظرانداز و پسماندہ شدہ علاقوں کی تعمیر و ترقی اور اقتصادی، تعلیمی، صحت سمیت دیگر شعبوں پر توجہ مبذول کرتی اور لوگوں کوقانون و انصاف کے مطابق انکے حقوق دلاتی لیکن ایسا نہ ہو سکا۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جہاںنادیدہ قوتوں نے گلگت  بلتستان کا آزاد جموں و کشمیر کیساتھ تعلق قائم نہ ہونے دیا وہیں حکومت ِآزاد کشمیر اور یہاں کی سیاسی جماعتوں ، سول سوسائیٹی اور عام عوام نے بھی اپنے طور پر گلگت  بلتستان کی حکومت،عام عوام اور سول سوسائیٹی کے ساتھ مراسم بنانے کی بھی کوشش نہیں کی اور اس طرح دونوں خطوں کے درمیان سیاسی، معاشرتی، معاشی ، فکری ، نظریاتی ، تاریخی ، جغرافیائی ہم آہنگی ہونے کے باوجود دوریوں اور غلط فہمیوں اوروہاں کے عوام کے دلوں اور ذہنوں میں آزاد کشمیر کے حکمرانوں کے بارے میں نفرت کے جذبات نے جنم لیا۔ آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتیں جو  اس وقت  احتجاج کر رہی ہیں وہ خود عملی طور پر گلگت  بلتستان کے خطہ سے عرصہ دراز سے لاتعلق رہیںاور انہوں نے وہاں  اپنی نہ تو کوئی تنظیم سازی کی  اور نہ ہی آزاد کشمیر کے کسی سیاسی رہنما نے وہاں کا دورہ کیا۔ ماسوائے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ اور جماعت ِ اسلامی  کے کسی  اور جماعت نے اس طرف بالکل کوئی توجہ نہیں دی۔آزاد کشمیر کے اکثر سیاسی رہنما  یورپ ، امریکہ  اور بالخصوص برطانیہ کا  دورہ کرتے  رہتے  رہے لیکن گلگت بلتستان کے لوگوں کو اپنا چہرے کی زیارت کرانا گوارہ نہ کی۔بیس کیمپ کے حکمرانوں کی تحریک آزادی کشمیر کی اہمیت و افادیت سے غفلت، کشمیر کی قومی وحدت کو برقرار رکھنے میں شرمناک حد تک  پہلوتہی ،کمزوری اور ناکامی کے علاوہ وہاں کے عوام کے آئینی و سیاسی حقوق اور وہاں کی پسماندگی و معاشی صورتحال پر بات نہ کرنے کی  وجہ سے وہاںکے عوام آزاد حکومت اور یہاں کے عوام سے الگ تھلگ اور اکیلے  ہو کر رہ گئے اور  وہاں کے عوام و ذمہ داران نے ہمیشہ اپنی پسماندگی اور سیاسی حقوق نہ ملنے کا ذمہ دار حکومت آزاد کشمیر کو قرار دیا۔اُنکا یہ بھی کہنا ہے کہ گزشتہ سات دہائیوں سے آزاد کشمیر کے اور جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ انکا کوئی رابطہ نہیںاوراُنکے سماجی ، سیاسی ، معاشی اور معاشرتی رشتے پاکستان کے ساتھ استوار ہو چکے ہیں ۔ یہ مسئلہ ١٩٤٩ ء میں معائدہ کراچی  کے بعد پیدا ہوا جب آزاد کشمیر  کے اس وقت کے صدر سردار ابراہیم خان،  چوہدری غلام عباس  اور پاکستان کے وزیر بے محکمہ مشتاق احمد گورمانی نے معائدہ کراچی  پر دستخط کیے اور گلگت بلتستان کے انتظامی اُمور کوپاکستان  کے سپرد کردیا  لیکن حکومت پاکستان کی عدم توجہی کی وجہ سے گلگت  بلتستان کو کوئی  انتظامی  سیٹ اپ نہ دیا گیا۔ پھر ١٩٧٤ء میں آزاد کشمیر کو پارلیمانی سیٹ اپ دیا گیا اس وقت بھی گلگت  بلتستان کو اس سیٹ اپ میں شامل کیا گیا نہ آزاد حکومت و کشمیری عوام نے  ان کے حق میں کوئی آواز اٹھائی اور نہ  ہی وہاں کے بنیادی مسائل کے حل  کے لیے کوئی میکنزم بنایا گیا۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ آئینی،  قانونی ، جغرافیائی اور تاریخی اعتبار سے یہ علاقے ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہیں  اور یہ خطہ پورے کشمیر کی طرح ابھی تک متنازعہ  ہیں جس کا ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے اور اسکا حتمی فیصلہ بھی پورے کشمیر کے ساتھ ہوگا ۔ اس علاقے نے اپنے الحاق کا کوئی فیصلہ نہیں کیا  نہ اس کاتو کوئی ثبوت موجود ہے اور نہ ہی کسی کے پاس اس کا اختیار ہے۔ تاریخ حقائق سے یہ ثابت ہوتی ہے کہ گلگت  بلتستان کا خطہ ریاست جموں و کشمیر کا  زمانہ قدیم سے حصہ رہا ہے۔ کشمیر کے مسلمان حکمران سلطان شہاب الدین نے  ( ١٣٦٠ء ۔ ١٣٨٧ ئ)  یہ علاقے جموں و کشمیر کی سلطنت میں شامل کیے جو انیس صد سنتالیس تک کشمیر کا حصہ رہے۔ ریاست جموں و کشمیر کا کل رقبہ چوراسی ہزار چار سو  اکہتر مربع میل  پر محیط ہے جس میں گلگت  بلتستان کا رقبہ کم و بیش اٹھائیس ہزار مربع میل شامل ہے اورجسے سروے آف پاکستان اور اقوام متحدہ نے آج تک کشمیر کا حصہ تسلیم کیا ہوا ہے ۔ مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ کے دور میں جب مجلس قانون ساز کا عمل قیام میں لایا گیا تویہاں سے پانچ ارکان نامزد ہوئے جو اس علاقے کی نمائیندگی کرتے تھے  اور یہ سلسلہ ١٩٤٧  ء  تک جاری  رہا۔  برطانوی ہند کے دور میں روس کی جانب سے مداخلت کے  خطرے کے پیش ِ نظر  برطانوی ہند کی حکومت  نے کشمیر  کے حکمران مہاراجہ رنبیر سنگھ سے معائدہ گلگت  کے تحت  یہ علاقہ  ١٩٣٥ء   میں ساٹھ سال کے عرصہ تک  اپنی تحویل  میں لے لیااور معائدہ کی رو سے یہ تسلیم کیا گیا کہ یہ علاقے ریاست جموں  و کشمیر کا حصہ رہیں گے اور سرکاری عمارتوں پر ریاست کا پرچم لہرایا جائے گا ۔لیکن جب  معائدہ کے  بارہ سال بعد  انگریزوں نے ہندوستان چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو یکم اگست ١٩٤٧ء کو یہ علاقے  مہاراجہ کو واپس کر دیئے گئے  اور مہاراجہ نے بریگیڈئر گھنسارا سنگھ کو گلگت کا گورنر بنا کر بھیج دیا۔ بعد ازاں  جب ڈوگرہ حکومت  کے خلاف علم ِ بغاوت بلندہو ا توڈوگرہ فوج کو شکست دیکر اُسے گرفتار کر لیاگیاجسے بعد میں مرحوم خورشید حسن خورشید کے  ساتھ تبادلہ میں رہا کردیا گیا۔ ٢٨ اپریل ١٩٤٩ء کو وزارت ِ امور کشمیر ، حکومت پاکستان، حکومت آزاد کشمیر  اور مسلم کانفرنس  کے درمیان  معائدہ کراچی  کے تحت  گلگت  بلتستان  عارضی  طور پرانتظام و انصرام کی غرض سے حکومت ِ پاکستان کے سپردکیا گیا اور کہا گیا کہ حکومت ِ آزادکشمیر کے وسائل اسکے لئے ناکافی تھے کہ وہ یہاں کا انتظام و انصرام چلا سکے۔ حکومت پاکستان نے محمد عالم خان کو اس علاقے کا پولیٹیکل ایجنٹ بنا کر  یہاں بھیج دیا۔ بعد ازاں  ١٩٤٨ ء میں پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پیش کیے جانے والے کیس میں  گلگت  بلتستان سمیت شمالی علاقہ جات کو کشمیر کا حصہ قرار دیا گیا ۔
مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی نے بخشی غلام محمد کے دور میں جب ١٥ فروری  ١٩٥٤ء کو بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا اور پھر  ٢٦  جنوری  ١٩٥٧ء کو ریاستی آئین میں کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیا جس پر پنڈت جواہر لعل نہرو نے ٢٩  مارچ  ١٩٥٦ء  کو لوک سبھا  میں کہا کہ کشمیر اب آئینی  طور پر بھارت  سے الحاق کر کے کشمیر کا حصہ بن گیا  ہے اور اب رائے شمار کی باتیں فضول ہیں۔اس پر اقوامِ ِ متحدہ  نے ٢٤ جنوری  ١٩٥٧ء  کو قرار داد نمبر ١٢٢  منظور کی  جس میں اپنی سابقہ  قراردادوں  کا حوالہ دیتے ہوئے  واضع کیا کہ ریاست کے کسی بھی حصہ کو اپنے  طورپر  مستقبل  کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں اور نہ ہی  اس کی کوئی حیثیت ہے۔ پاکستان اسی قرارداد کو لے کر پوری دنیا میں کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کو  چیلنج کرتا ہے اوراسی قرار داد کا اطلاق گلگت  و بلتستان  اور آزاد کشمیر پر  بھی ہوتا ہے۔١٣ اگست ١٩٤٨ء   اور ٥ جنوری ١٩٤٩ء کو اقوام متحدہ کی منظور کردہ قراددوں میں بھی پاکستان و بھارت دونوں نے گلگت  بلتستان کو کشمیر کا حصہ تسلیم کیاہوا ہے۔٢٨ اپریل ١٩٤٩ء  کو حکومت پاکستان کے وزیر مشتاق احمد گورمانی ، آزاد جموں و کشمیر کی طرف سے صدر ریاست سردار محمد ابراہیم خان اور رئیس الاحرار چوہدری غلام عباس نے بھی جس معائدے پر دستخط کئے اس میں اِسکی آئینی و قانونی حیثیت کو تسلیم کیا گیااور یہی معائدہ کراچی وہ واحد دستاویز ہے جو ثابت کرتا ہے کہ گلگت  بلتستان کشمیر کا حصہ ہے ۔ ٢ مارچ ١٩٦٣ء کو چین کے ساتھ سرحدی معائدے میں بھی ان علاقوں کو ریاست جموں و کشمیر کا حصہ گردانا گیا اور اس بات کو واضح طور پر معائدے میں لکھا گیا کہ ریاست جموں و کشمیر کی مکمل آزادی کے بعد اس معائدے کی دوبارہ توثیق کرائی جائے گی۔ بھارتی طیارہ اغواء کیس میں بھی سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے ان علاقوں کو ریاست کا حصہ قرار دیا گیا۔ آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عبدالمجید ملک کی سربراہی میں متفقہ طور پر گلگت و بلتستان کے درخواست گزاروں کی طرف سے درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے گلگت و بلتستان کو جموں و کشمیر کا حصہ قرار دیا گیا جسکی بعد ازاں آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے توثیق بھی کی اور ایکٹ١٩٧٤ء کے دائرہ عمل میں شامل کرنے کا حکم دیا گیا کہ حکومت اس سلسلہ میں ضروری آئینی انتظامات کرے لیکن مرکزی حکومت کی  مداخلت کی وجہ سے ایساممکن نہ ہوسکا۔ پاکستان کے آئین کی شق ٢٥٧ کے تحت بھی کشمیر ی عوام کی خواہشات کے بارے میں ایک واضح مؤقف اپنایا گیا ہے ۔ تاریخی حقائق کی روشنی میں یہ بات بڑی واضح ہے کہ ریاست جموں و کشمیر ایک ایسامتنازعہ خطہ ہے جس کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے اور گلگت بلتستان ریاست کا حصہ ہے جسے تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ آر پار کے کشمیریوں کا یہ مؤقف ہے کہ جغرافیائی، تاریخی ، قانونی و آئینی اعتبار سے ریاست کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا اور اگر ایساکیا گیا تو اسکے بڑے  بھیا نک  نتائج برآمد ہونگے۔ اگر پاکستان گلگت  بلتستان کو آئینی صوبہ بناتا ہے یا  اقوام ِ متحدہ کی قراردادوں کے برعکس عملی اقدامات اٹھاتا ہے تو بین الاقوامی سطح پر یہ مسئلہ ختم ہو جائے گااور ہندوستان کو اس سے کشمیر علیحدہ کرنے کا سیاسی اور اخلاقی حق حاصل ہوجائے گا اور اس کو کشمیر پر اسکے روائیتی اٹوٹ انگ کے مؤقف کو دوام ملے گا اورپاکستان کا یہ اقدام بالواسطہ طور پر ہندوستان کی مدد کے مترادف ہوگا۔ لہذا یہ بات بڑی واضح ہے کہ ریاست جموں و کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے اور اسکی مکمل آزادی کے لیے جتنی بھی قربانیاں دینا پڑیں وہ دی جائیں گی لیکن آزادی پر کوئی سمجھوتا نہیںہو سکتا۔ایسے میں جب گلگت بلتستان  کے حقوق کا معاملہ اسلام آباد کے ایوانوں سمیت آزادو مقبوضہ کشمیر کی عوام و قیادت میں زیر بحث ہے ، پاکستان کو چاہیے کہ وہ معائدہ کراچی کو منسوخ کر کے گلگت  بلتستان اور آزاد کشمیر کو ایک انتظامی یونٹ بنا کرمکمل اندرونی خو دمختاری دیکر کر اس یونٹ کو سٹیٹ سبجیکٹ رول کے ماتحت کرے  تاکہ نہ تو کشمیر کے مسئلے کوکوئی نقصان پہنچے اور نہ ہی کسی کے حقوق متاثر ہوں ۔ ایک انتظامی یونٹ کے تحت کر کے ہی  اور ایک باقاعدہ ریاست کا درجہ اور مکمل اختیارات ملنے کے بعد ہی آزاد کشمیر اور گلگت  بلتستان ملکر ایک حقیقی  بیس  کیمپ کا کرداراور آزادی کے لئے منظم جدو جہد کر سکیں گے ۔اسی طرح انکے حقوق کے حوالے سے اٹھنی والی آوازوں کو بھی ٹھنڈا اورکشمیری رائے عامہ کے جذبات کو بھی ٹھیس پہنچنے سے بچایا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف مسئلہ کشمیر کو بھی پہنچنے والے ناقا بل ِ تلافی نقصان سے محفوظ کیا جا سکتا ہے اور دونوں خطوںکو یکجا کر کے ایک وحدت کی صور ت رکھنے سے مقبوضہ کشمیر اور عالمی  برادری کو بھی انصاف اور اصولی مؤقف  پر مبنی  پیغام دیا جا سکتا ہے۔اسوقت یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ آزاد کشمیر  اور گلگت  بلتستان  کے روایتی  راستے  کھولیں جائیں ۔  ١٩٤٧ء کے بعد بند ہونے والے ا ستور سے تاؤ بٹ تک روایتی  راستے کو کھولنے کے منصوبے  شونٹھر ٹاپ پر  ترجیحی بنیادوں پر  کام کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ گلگت سے مظفر آباد سفر کے لیے اسلام آباد کے بجائے  براہ راست مظفرآباد  تک آسان رسائی ممکن ہو نے اور روایتی راستے کھولنے  سے جہاں سفری آسانیاں  پیدا ہوں گی وہیں تجارت  اور دیگر  روابط سے دلوں کی قدورتیں بھی ختم ہوسکیں گی، اس لیے حکومت پاکستان کو اس تجویز پر بھی غور کرنا  چاہیے  تاکہ سابقہ  غلطیوں  کا ازالہ کیا جاسکے اور عوام کے دلوں میں نفرت اور احساسِ محرومی کو بھی کم کیا جسکے ۔  یہ  بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اگر پاکستان گلگت  بلتستان کی آئینی و قانونی حیثیت تبدیل کرکے اس میں اپنی رٹ قائم کرتا اور اسکی حیثیت تبدیل کرتا ہے تو ایک طرف جموں و کشمیر کی تقسیم کی راہ ہموار ہوگی تو دوسری طرف ہندوستان کا مؤقف بھی مضبوط ہوگا اور  اُسے یہ سیاسی و اخلاقی حق حاصل ہوجائے گا کہ مقبوضہ کشمیر کو  ہندوستان میں ضم کرلے ۔کشمیری سالوں سے اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیںاور اس دوران لاکھوں جانوں کا نذرانہ بھی پیش کر چکے ہیں ۔پاکستان اور چائینہ کے اقتصادی راہداری منصوبوں اور اسکے تناظر میں کئے گئے معائدوں کو تقویت بخشے کے لیے کشمیر کی آئینی ، قانونی و جغرافیائی حیثیت کی تبدیلی لاکھوں شہدا ء کے خون سے غداری کے مترادف ہوگا اور کشمیر میں چلنے والی آزادی کی تحریک کو  ناقابل ِ تلافی نقصان پہنچے گا۔  یہ اقدام کشمیری عوام کے جذبہ حق خود ارادیت کی تجارت سمجھا جائے گا جو پاکستان کے خلاف شدید نفرت اور خدا نخواستہ کسی نئی تحریک کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔  لہذا ایسا فیصلہ کرتے وقت کشمیریوں کی قربانیوں ، احساسات اور جذبات کا احترام بھی ملحوظِ خاطر رکھنا بہت ضروری ہے۔ اگر پاکستان خود اقوام ِ متحدہ  کی قرار دادوں کے برعکس عملی اقدامات کرے گا تو بھارت کاکام آسان ہو جائے گا اور بین االاقوامی سطح پر مسئلہ ختم بھی ہوجائے گا۔کشمیری یہ سمجھتے ہیں کہ ریاست جموں و کشمیر ناقابلِ تقسیم قومی وحدت ہے  اور اسکی تقسیم کے عوض اقتصادی راہداری کسی قیمت قبول نہیں۔ گلگت  بلتستان کو صوبہ بنانے کے حوالے سے جہاں آزاد کشمیر کے اندر سے بلکہ مقبوضہ کشمیر اور بیرون ملک بسنے والے کشمیریوں کیطرف سے نہ صرف سخت رد عمل آسکتا ہے بلکہ سخت گیر تحریک کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔ حکومت پاکستان کو اب اس خطے کی حساس نوعیت اور جغرافیائی ، تاریخی اورسیاسی صورتحال اور پاکستان کی داخلی و خارجی سلامتی کو درپیش چیلنجز کو مدنظر رکھ کر  فیصلے کرنا ہونگے۔ کہیں ایسا نہ ہوکہ گلگت بلتستان کے عوام کی ہمدردیاں حاصل کرتے ہوئے پہلے سے موجود ہمدردوںاور الحاقِ پاکستان کے نظریات رکھنے والوں اور بلا تنخواہ محافظوں کی حمایت سے ہاتھ دھونا پڑھ جائیں۔ ۔۔۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲