اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایک روسی نیوزایجنسی آر ٹی کے ساتھ انٹریو میں ترکی کی انسانی حقوق ایسوسیشن کے سربراہ’’اوض ترک دوگان ‘‘نے کہاکہ انقرہ نے کردآبادی والے علاقوں میں جو جنگ چھیڑ رکھی ہے وہ شامی تنازعے کے ابتدائی مراحل سے کہیں زیادہ مہلک ہے ۔
انہوں نے کہاکہ ترکی کے کردشہر سیزر جیسے کرد شہروں میں ترک فوج نے جو آپریشن انجام دئے ہیں اس میں کم ازکم 200 سے زائد افراد ہلاک جبکہ سینکڑوں بری طرح گھائل ہوئے ہیں ۔
انہوں نےکہاکہ اردوگان کی غیردانشورانہ پالیسیوں سےترکی جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا ہے اور کردوں کے خلاف ترکی کے اقدامات غیر قانونی ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ حکومت انقرہ کردآبادی کے خلاف جارحیت کو عالمی برادری کی نظروں سے پوشیدہ رکھنے کی کوشش کررہی ہے ۔
انہوں نے کہاکہ سرشہر میں بھی عام شہریوں کے ہلاک ہونے کی تعداد 100 سے تجاوزکرگئی ہے ۔
ترکی نے گذشتہ ہفتے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق تنظیموں کے مطالبے کے بعد بعض کردآبادی والے علاقوں سے کرفیو ہٹادیا ہے ۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کچھ ہفتے قبل اپنے بیان میں کہا تھاکہ کردآبادی والے علاقوں میں جاری کرفیو اور ترک فوج کے آپریشن کے باعث ہزاروں افراد کی زندگیاں خطرے سے دوچار ہوگئی ہیں ۔
ایمنسٹی انٹرنیشل نے کردوں کے خلاف حکومت کے کریک ڈاون کو کردوں کو اجتماعی سزا دینے سے تعبیر کیاتھا ۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نےکہا تھاکہ کردآبادی والے علاقوں میں ترک فوج نے آپریشن میں طاقت کا حد سے زیادہ استعمال کیا ہے یہاں تک کہ رہائشی علاقوں میں بھاری ہتھیار استعمال کئے گئے ہیں ۔
واضح رہے کہ ڈھائی سال کی جنگ بندی کے بعد جولائی 2015 ءمیں ترک حکومت اور کردستان ورکر پارٹی کے درمیان جھڑپیں ایک بار شرو ع ہوگی تھیں جس کے بعد رجب طیب اردوگان نے ان کردآبادی والے علاقوں میں کرفیو نافذ کرکے’’ پی کے کے‘‘کے خلاف بڑے پیمانے پرآپریشن شروع کردیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲