اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں عیسائیوں کے حقوق کیلیے سرگرم ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ 2014 کے مقابلے میں گزشتہ سال ملک میں عیسائیوں اور ان کی تنظیموں کے خلاف آٹھ ہزا رسے زائد حملے ہوئے ہیں۔
تنظیم 'کیتھولک سیکولر فورم' نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ گزشتہ برس آزادی کے بعد سے بھارت میں عیسائیوں کیلیے سب سے بدترین سال رہا۔ عیسائیوں اور ان کے اداروں کو مجرمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
سی ایس ایف نے بتایا کہ مذکورہ آٹھ ہزار واقعات میں چار ہزار خواتین اور دو ہزار بچے شامل تھے۔ اپنے عقیدے کی تبلیغ کرنے کی پاداش میں مسیحیوں پر کم از کم 365 سنگین نوعیت کے حملے کیے گئے اوران حملوں میں آٹھ مسیحی مارے گئے جن میں سات پادری شامل تھے۔
تنظیم کے جنرل سیکرٹری جوزف ڈیاز نے بتایا کہ 2014ء کے مقابلے میں گزشتہ برس مسیحیوں کے خلاف حملوں میں کم از کم بیس فیصد کا اضافہ ہوا۔ جبکہ سنگین نوعیت کے حملوں کی تعداد میں تین گنااضافہ ہوا ہے۔ 2014ء میں ایسے حملوں کی تعداد 120تھی لیکن گزشتہ برس یہ تعداد بڑھ کر 365 ہوگئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسیحیوں اور ان کی تنظیموں کے خلاف سب سے زیادہ حملے مدھیہ پردیش میں ہوئے، جہاں بی جے پی کی حکومت ہے۔
جوزف ڈیاز نے بھارت کے گجرات کے بعد مہاراشٹر کو ہندو انتہاپسندی کا مرکز قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس کے ایک کارکن نریندر مہاراج کا دعویٰ ہے کہ اس نے 2015ء میں دو ہزار مسیحیوں کو دوبارہ مذہب تبدیل کرا کے ہندو بنایا ہے۔
جوزف ڈیاز نے مزید بتایا کہ ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اس کی مربی تنظیم آر ایس ایس کے کارکنوں کے حوصلے کافی بلند ہوگئے ہیں اور جن علاقوں میں آر ایس ایس کا غلبہ ہے وہاں مسیحیوں کے خلاف تشدد کے واقعات زیادہ پیش آرہے ہیں جب کہ متاثرین کو دھمکی دی جارہی ہے کہ ان معاملات کو پولیس میں درج نہ کرائیں اور نہ ہی میڈیا میں لےکر جائیں۔
.......
/169