10 فروری 2016 - 20:44
تہران ہو گر عالم مشرق کا جینیوا ...

ہر ذی شعور انسان اس بات سے واقف ہے کہ دنیا میں جاری دہشت گردی کا سرغنہ امریکہ اور اسرائیل ہیں جن کی دہشت گردی زباں زد خاص و عام ہے اور دنیا میں دہشت گردی کے تمام واقعات میں امریکہ و اسرائيل یا پھر ان کے پروردہ گروہ ملوث ہیں

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔  فروری 1979 میں برپا انقلاب اسلامی نے اپنے عزم و استقلال سے جدید شعبوں سائنس و ٹیکنالوجی جیسے خلا میں جاندار بھیجنا اور سائبر جنگ میں امریکی ڈرون طیارے کو زمین پر اتارنا حتی کہ امریکہ کی طرف سے سرکاری طور پر یہ بات قبول بھی کرنا، ایران کے یہ وہ اقدامات ہیں جنہوں نے دنیا کو انگشت بادندان کر رکھا ہے۔۔۔اس سے اسلام کے خلاف مغرب کے اس پروپیگںڈے بالخصوص میڈیا کے زور پر کہ جب دنیا پر روس و امریکہ کی باہمی اجارت داری تھی تو مشہور زمانہ ٹائم میگزین نے اپنی ٹائیٹل پیج پر سرورق لکھ دیا تھا۔۔۔اسلام از ڈیڈ۔۔یعنی نعوز بااللہ اسلام مر چکا اور اسلام حکومت نہیں کرسکتا۔۔۔لیکن امام خمینی کی طرف سے انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد اسی ٹائم میگزین کو اپنی کور و ٹائیٹل بدلنی پڑی کہ اسلام الائیو اگین۔۔ یعنی اسلام پھر زندہ ہوگیا۔۔۔ٹائم میگزین اور یورپئین کی خدمت میں عرض ہے کہ آجکل جدید سائنس و ٹیکنالوجی کی بنیاد ان مسلمان سائنسدانوں نے رکھی جیسے جابر بن حیان ،نصیر الدین طوسی وغیرہ کہ جنہوں نے علم امام  جعفر صادقؑ، محمدؑ وآل محمدؑ یعنی اہلبیت اطہار ع کے گھرانے سے حاصل کیا  وہی گھرانہ جس کی امام خمینیؒ اور انقلاب اسلامی بارہا تائید کرتا ہے کہ یہ انقلاب اہلبیتؑ اور امام حسینؑ کے طفیل ہے۔ نا کہ یذید لعین اور بنی امیہ کی ڈکٹیٹر شپ جس نے اس وقت بھی اسلام کے لبادے میں اسلام کو بدنام کیا اور آج بھی القاعدہ و طالبان کی صورت میں یزید لعین کے پیروکار سیریا شام عراق اور پاکستان میں اسلام اور شریعت کے نام پر دین مبن کو مسخ کر رہے ہیں۔۔۔آج کے ان یزیدیوں کی خلقت و پیداوار میں انکل سام کا بھی پورا ہاتھ ہے اور یہ ویڈیو لنک اس کی گواہی ہے۔۔

http://www.globalresearch.ca/hillary-clinton-we-created-al-qaeda/5337222

علاوہ ازیں عرب ممالک و مشرق وسطی میں ڈکٹیٹرز کے خلاف عوامی بیداری اور ڈکٹیٹرز کے خلاف قیام کے بعد امریکہ اور یورپ میں سودی و سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف وال سٹریٹ تحریک انقلاب اسلامی و فکر امام خمینی کی کامیابی اور بیسویں صدی کے انقلاب اسلامی کے عظیم نعمت سے سبق لینے کا نتیجہ ہے۔
۔ انقلاب اسلامی کے اوائل ہی میں جب امریکہ نے عراق میں بٹھائے اپنے پٹھو اور درجنوں اتحادی ممالک کے ذریعے ایران پر حملہ کردیا تو یہی مقصد تھا کہ اس انقلاب کا ابتدا ہی میں گلا دبایا جائے، لیکن جب ایران کے عوام نے دس سالہ مسلط جنگ میں عظیم الشان دفاع مقدس کا فریضہ سر انجام دیا تو امریکہ نے نیا حربہ یعنی پابندیاں اپنایا، اس وقت پابندیوں کی یہ حالت تھی کہ کوئی ملک ایران کو خاردار تار تک دینے پر آمادہ نہ تھا ۔لیکن بانی انقلاب اسلامی نے ان پابندیوں کو ایرانی قوم کے لئے نعمت سے تعبیر کردیا کہ اس طرح ایرانی قوم اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر خودکفیل ہو جائے گی اورت دنیا نے دیکھا بھی کہ الحمد اللہ
آج خاردار تار تو کیا اس عظیم ملت نے اپنے قائدین و رہبران بانی انقلاب طاغوت شکن امام خمینیؒ اور رہبر انقلاب سید علی خامنہ ای کی بابصیرت قیادت میں خاردار تار تو کیا زمین سے لے کر خلا تک کو مسخر کرکے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام ہر زمانے کے مسائل کا حل ہے، چاہے وہ پہلی صدی ہجری ہو یا اکیسیویں صدی، کیونکہ یہ امام خمینیؒ ہی کے جملے ہیں کہ
لاشرقیہ لا غربیہ
اسلامیہ اسالامیہ
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ امام خمینیؒ  کی فکر ناب محمدی(ص) اسلام اور عالمی بیداری سے استعماری قوتیں بالخصوص امریکہ اتنی خوفزدہ تھی ،اور اب بھی ہے کہ امریکہ نے ناب محمدی(ص)اسلام اور امام خمینیؒ  کی فکر کے مقابلے میں اپنے زرخریدوں القاعدہ و طالبان کا امریکائی اسلام پروان چڑھا کر دنیا بھر میں اسلام جیسے پرامن و مکمل ضابطہ حیات دین کو بدنام کردیا۔ جس کا اظہار امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے بھی برملا کیا کہ ہم نے وہابی نظریے کے شدت پسندالقاعدہ و طالبان کی بنیاد رکھی۔ خوارج نما درندوں القاعدہ و طالبان کے بنانے سے امریکہ کے دو مقاصد تھے۔ پہلا مقصد ’’افغانستان پر قابض روس کو افغانستان سے شکست دے کر دنیا پر امریکی اجارت داری‘‘ اور دوسرا مقصد ’’عالمی اسلامی بیداری بالخصوص فکر امام خمینیؒ اور ناب محمدی (ص)اسلام کے مقابلے میں خوارج نما درندوں القاعدہ و طالبان کا امریکائی اسلام پروان چڑھا کر دنیا بھر میں اسلام جیسے پرامن و مکمل ضابطہ حیات دین کو بدنام کرنا تھا۔ یعنی اگر مسلم دنیا حتیٰ کہ افریقہ کے بعض غیر مسلم مظلومین امام خمینیؒ اور ناب محمدی (ص) اسلام کو آئیڈیل سمجھ کر بیدار ہونے لگیں تو انہیں امام خمینیؒ کو شیعہ قرار دے کر امام خمینیؒ کے مقابلے میں اسامہ بن لادن جیسے کاغذی ہیرو و قیادت کی پیروی کر کے اسامہ
کو ایک آئیڈیل کے طور پر متعارف کروایا گیا۔ حالانکہ امام خمینیؒ نے لاشرقیہ و لاغربیہ، اسلامیہ اسلامیہ ۔۔۔اور امام علی ؑ کے وصیت کے مطابق کہ ’’ہر ظالم کے مخالف اور ہر مظلوم کے مددگار بن جاؤ‘‘ کے مصداق دنیا بھر کے مظلومین بالخصوص فلسطین(یاد رہے فلسطین میں کوئی بھی شیعہ مسلمان آبادی نہیں) کے مسئلے کو عالمی مسئلہ بنا دیا۔

امریکی عوام ہو یا دنیا بھر کے عوام جو القاعد و طالبان کو امریکہ کے دشمن سمجھتے ہیں وہ حقائق کو نظر انداز کرکے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ یہ امریکی سی آئی اے کی مدد سے القاعدہ و طالبان کا وحشی و غیر انسانی وہابی طرز فکر ہی تھا جس نے امریکہ کو عراق و افغانستان پر قبضے کا جواز فراہم کیا اور اب اسی زریعے سے پاکستان پر قبضے کا سوچ رہا ہے۔ ذیادہ دور اور تاریخی مثال چھوڑئیے
حالات حاضرہ  کا مثال لیجیے ایک طرف امریکہ القاعدہ و طالبان کو میڈیا کے ذریعے اپنا دشمن قرار دیتی ہے اور دوسری طرف سوریا دمشق میں دنیا بھر یمن سعودی عرب،عراق ،پاکستان وزیرستان اور افغانستان سے القاعدہ و طالبان جنگجووں کو اسلحہ و پیسہ دے کر دمشق میں قتل و غارت اور خودکش حملے کرکے اسرائیل مخالف دمشق کی حکومت کا تختہ الٹنے کے نام پر معصوم شہریوں کے خون سے ہولی کھیل کر
رقص ابلیس برپا کر چکاہے۔ یاد رہے کہ دمشق اور حلب کو اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے دنیا کے پرامن ترین شہر قرار دے کر ثقافتی ورثہ قرار دیا تھا۔ لیکن جس طرح سے القاعدہ و طالبان نے عراق افغانستان و پاکستان کے امن اور ثقافتی ورثے و مقدس مقامات کو تباہ و برباد کرکے خودکش حملے کئیے آج دمشق میں بھی یہی ناٹک جاری ہے، کیونکہ دمشق کی حکومت عرب ممالک میں وہ واحد ملک ہے جو اسرائیل مخالف اور فلسطین قبلہ اول مزاحمت و انتفاضہ یعنی حماس و حزب اللہ کی کھلم کھلا حمایت کرتی ہے۔ لگے رہو القاعدہ و طالبان اپنے آقا امریکہ و اسرائیل کی حمایت میں ،اگر پھر بھی کسی کو شک ہے تو یہاں سوشل میڈیا سے امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کی وہ ویڈیو کلپ لنک قارئین کے لئے دی جا رہی ہے جس میں ہلیری کلنٹن نے اقرار جرم کر لیا ہے کہ القاعدہ و طالبان کا وحشی و غیر انسانی وہابی طرز اسلام بنانے کا خالق کوئی اور نہیں امریکہ(سب سے بڑا شیطان) ہی ہے۔

http://www.globalresearch.ca/hillary-clinton-we-created-al-qaeda/5337222

http://www.youtube.com/watch?v=J1CW2XuDAQ4
 ہر ذی شعور انسان اس بات سے واقف ہے کہ دنیا میں جاری دہشت گردی کا سرغنہ امریکہ اور اسرائیل ہیں جن کی دہشت گردی زباں زد خاص و عام ہے اور دنیا میں دہشت گردی کے تمام واقعات میں امریکہ و اسرائيل یا پھر ان کے پروردہ گروہ ملوث ہیں۔ اس بات سے بھی سبھی متفق ہیں کہ القاعدہ اور طالبان کی داغ بیل امریکہ نے ڈالی اور القاعدہ و طالبان کی سرپرستی کئی برسوں تک امریکہ کے ہاتھ میں رہی ہے اور آج بھی طالبان اور القاعدہ کی صفوں میں امریکی خفیہ ایجنسی کے اہلکار موجود ہیں جو القاعدہ اور طالبان کی سرپرستی کررہے ہیں اور ان کو بہانہ بنا کر اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی گھناؤنی سازش کے علاوہ افغانستان، لبییا و عراق کو تباہ کر چکے ہیں اور اب انہی القاعدہ و طالبان کی مدد سے فلسطین کے طرفدار اور اسرائیل مخالف سوریا دمشق کی حکومت کے خلاف برسرپیکارہیں ۔

 انقلاب اسلامی کی کامیابی کو آئیڈیل کہہ کر علامہ اقبال نے بھی پیشن گوئی کی تھی کہ۔

دیکھا تھا افرنگ نے ایک خواب جنیوا
ممکن ہے کہ اس خواب کی تعبیر بدل جائے

تہران ہو گر عالم مشرق کا جینیوا
شاید کہ کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲