اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے لندن میں برطانوی پارلیمنٹ اور ہاؤس آف لارڈز کے ارکان کے ساتھ ملاقات میں، اندرونی مسائل اور علاقائی و بین الاقوامی معاملات کے بارے میں ایران کے موقف کو کھل کر بیان کیا اور یہ بات زور دے کر کہی کہ ایران کے خلاف پابندیوں سے مغرب والوں کا ایک مقصد بھی پورا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران کے خلاف مغرب کا دباؤ کارگر ثابت ہوتا تو امریکہ کبھی مذاکرات کی میز پر نہ آتا۔ وزیر خارجہ محمدجواد ظریف نے بحران شام کے بارے میں ایران کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ شام میں ایرانی فوجی مشیروں کی تعیناتی ، اس ملک کی حکومت کی درخواست پر عمل میں آئی ہے اور امریکیوں کے دعوے کے برخلاف شام میں ایرانی فوج موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے بحران کی ابتدا ہی میں مطالبہ کیا تھا کہ فوری جنگ بند کی جائے اور شامی دھڑوں کے درمیان مذاکرات کرائے جائیں۔
ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے ایران میں پھانسی کی سزاؤں کے بارے میں کہا کہ ایران میں صرف منشیات کے مسلح گینگ کے ارکان کو پھانسی دی جاتی ہے اور یورپ لے جائی جانے والی منشیات کا تقریبا پچاسی فی صد حصہ ایران میں ضبط کرلیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کے مسلح اسمگلروں کے گینگ عام طور پر القاعدہ اور طالبان جیسے دہشت گرد گروہوں کے حامی ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران میں کسی بھی شخص کو نظریاتی اختلاف کی وجہ سے پھانسی نہیں دی گئی۔ جبکہ مغربی حکومتوں کے خطے کی بعض ایسی حکومتوں کے ساتھ انتہائی دوستانہ تعلقات ہیں جہاں ایک دن میں درجنوں لوگوں کو سزائےموت دے دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پھانسی کی سزاؤں اور انسانی حقوق کے معاملات کےحوالے سے مغربی حکومتوں اور تنظیموں سے گفتگو کے لیے تیار ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ نے ایرانیوں کے لیے ویزہ کی پابندیوں سے متعلق امریکی کانگریس کے نئے قانون کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ گیارہ ستمبر اور اس پہلے سے لیکر آج تک دہشت گردی کی کسی بھی کارروائی میں کوئی ایرانی شہری ملوث نہیں رہا لیکن اس کے باوجود امریکہ ایرانیوں کے خلاف ناروا سلوک اپنائے ہوئے ہے ۔
ایران میں پارلیمنٹ اور ماہرین کی کونسل کے انتخابات کے بارے میں وزیر خارجہ محمدجواد ظریف نے کہا کہ خطے کے بہت سے ملکوں کے برخلاف جہاں انتخابات کا انعقاد ایک خواب سے کم نہیں ہے ، ایران میں تمام معاملات انتخابات کے ذریعے طے پاتے ہیں اور مختلف طرح کے انتخابات کرائے جاتے ہیں ، لیکن بہت کم ایسا ہوتا کہ مغربی ممالک ایران کے علاوہ کسی اور ملک میں ہونے والے انتخابات کے بارے میں اپنے نظریات زبان پر لاتے ہوں۔
ڈاکٹر محمدجواد ظریف نے ایران کے صیہونیت مخالف موقف پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ صیہونیزم کوئی ایسی آئیڈیا لوجی نہیں ہے جس سے رابطہ استوار کیا جاسکتا ہو، کیونکہ اسرائیل اپنے قیام سے لے کر آج تک فلسطین، لبنان اور خطے کے دیگر علاقوں کے لوگوں کا قتل عام کر رہا ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ خطے کی مشکلات کے حوالے سے ایران کی سرزنش کی جاتی ہے جس کا کوئی جواز نہیں ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ نے امریکہ کے بعض صدارتی امیدواروں کے ایران مخالف بیان کو ان کی انتخابی مہم کا حربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو جامع ایٹمی معاہدے اور مشترکہ جامع ایکشن پلان پر علمدرآمد روک دیئے جانے کے حوالے سے کوئی تشویش نہیں ہے۔
.....
/169