28 جنوری 2016 - 11:51
پابندیوں کے خاتمے کے بعد سے دنیا کے ایک سو چھپن اقتصادی اور تجارتی وفود ایران کا دورہ کر چکے ہیں

ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد اور پابندیوں کے خاتمے کے بعد سے دنیا کے ایک سو چھپن اقتصادی اور تجارتی وفود ایران کا دورہ کر چکے ہیں۔ اب تک ایران آنے والے وفود میں اکہتر یورپی، اکتالیس ایشیائی نیز عرب و افریقی ملکوں کے چونتس وفود شامل ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق لندن میں ایران کے ناظم الامور ، محمد حسن حبیب اللہ زادہ نے کہا ہے کہ ایران تیل و گیس کے باون ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے سن دو ہزار بیس تک اپنی تیل کی پیداواری سطح کو پچاس لاکھ بیرل یومیہ تک لے جانے کا ارادہ رکھتا ہے جس کے لیے ایک سو پچاسی ارب ڈالر سرمائے کی ضرورت ہے۔

لندن میں گلوبل ڈپلومیٹک فورم کے تحت ایران میں سرمایہ کاری کے مواقع کے عنوان سے منقعدہ اجلاس میں مختلف ملکوں کے سفیروں اور تجارتی اتاشیوں نیز عالمی اقتصادی ماہرین سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے ناظم الامور کا کہنا تھا کہ ہمارے تیل و گیس کے عظیم ذخائر میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی بے مثال اور لامحدود گنجائش موجود ہے۔ ایران کے ناظم الامور نے ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بھی ایران میں سرمایہ کاری کا ایک اہم ترین میدان قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں صرف اپنے فضائی بیڑے کے لیے تقریبا پانچ سو ہوائی جہازوں کی ضرورت ہے اور یہ گنجائش ہوائی جہاز بنانے والی مختلف کمپنیوں کے لیے مسابقت کا بہترین میدان ہے۔

حبیب اللہ زادہ نے آٹوموبائل انڈسٹری کو بھی ایران میں سرمایہ کاری کا بہتر شعبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس شعبےمیں پےپناہ گنجائش پائی جاتی ہے اور ایرانی صنعت کار ٹیکنالوجی کے حصول اور تعاون کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ لندن میں ایران کے ناظم الامور نے ملک کے تاریخی ورثے اور قدرتی علاقوں کا ذکر تے ہوئے سیاحت کے شعبے کو بھی غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے انتہائی پرکشش شعبہ قرار دیا۔

ایران کی وزارت خارجہ میں سیاسی اور عالمی امور کے ڈائریکٹر جنرل حمید بعیدی نژاد کے مطابق جامع ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کے پہلے ہی دن مختلف عالمی بینکوں میں ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی، بیرون ملک ایرانی بینکوں کے شعبے دوبارہ کھل جانے اور سوئفٹ سسٹم میں ایران کی واپسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایران عالمی اقتصادی اور مالی منڈی میں بھرپور طریقے سے واپس آ گیا ہے۔

کینیڈا کے وزیر خارجہ اسٹیفن ڈیون نے بھی منگل کے روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ طے پانے والے ایٹمی معاہدے کے تحت اس کے خلاف عائد تمام یک طرفہ پابندیاں ختم کر رہا ہے اور یوں ایران کے ساتھ کینیڈین کمپینوں کے تعاون کا راستہ ہموار ہو جائے گا۔ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ کینیڈا ایران کے بارے میں اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لائے گا۔ انھوں نے تہران میں اپنے ملک کا سفارت خانہ پھر سے کھولے جانے کا بھی عندیہ دیا۔

گزشتہ ہفتے کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن پیئر جیمز ٹروڈو نے بھی اس امیدکا اظہار کیا تھا کہ ایران اور کینیڈا کے تعلقات بحال ہو جائیں گے۔

سولہ جنوری دوہزار سولہ سے ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کا باضابطہ اعلان کیا گیا تھا اور اسی روز سے تہران کے خلاف امریکہ اور یورپ کی عائد کردہ ظالمانہ پابندیاں ختم کر دی گئی تھیں۔

تہران میں مقیم سویڈن کے سفیر پیٹر ٹیلر نے بھی منگل کے روز تہران چمبر آف کامرس کے سربراہ مسعود خوانساری کے ساتھ ملاقات میں کہا تھا کہ سوئس بینک ایران کے ساتھ کریڈٹ تعلقات بحال کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ انہوں نے تہران چیمبر آف کامرس کو سوئس کمپنیوں کے ساتھ شراکت اور تعاون کی بھی دعوت دی۔ تہران چیمبر آف کامرس کے سربراہ نے وولوو اور اسکانیا سمیت معروف سویڈش کمپنیوں کی ایران میں موجودگی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف پابندیاں ختم ہو گئی ہیں اور دونوں ممالک ماضی کی بنیادوں پر مستقبل کے تعلقات استوار کر سکتے ہیں۔

ایران کے ایٹمی توانائی کے قومی ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے تہران میں جنوبی کوریا کے سفیر کم سونگ ہو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے مختلف ملکوں کے ایران کے ساتھ تعاون کی راہ میں حائل رکاوٹیں ختم ہو گئی ہیں۔

ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کے بعد کی صورتحال میں ایران میں بڑی عالمی کمپنیوں کی مسابقتی موجودگی کا راستہ ہموار ہو گیا ہے اور ایران اور دنیا کے مختلف ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ کا نیا باب کھل گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169