اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ وہ وعدہ کرتے ہیں کہ خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم داعش کو ’دفن‘ کردیں گے۔
دولت اسلامیہ داعش کے جنگجوؤں کی حال ہی میں افغان سکیورٹی فورسز اور طالبان جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں۔
بی بی سی کو دیے گے انٹرویو میں افغان صدر نے کہا کہ دولت اسلامیہ داعش کی جڑیں افغانستان میں نہیں ہیں اور ان کی درندگی کی وجہ سے افغان عوام ان سے دور ہو گئی ہے۔
افغانستان میں دولت اسلامیہ داعش کے نئے ریڈیو سٹیشن کا آغاز
انھوں نے دولت اسلامیہ داعش کے خلاف علاقائی اور عالمی سطح پر کارروائی پر زور دیا۔
ڈیووس میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم کے دوران اشرف غنی نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ افغانستان کو ایک بڑے خطرے کا سامنا ہے۔
انھوں نے کہا ’میری زیادہ تر کوششیں علاقائی ہم آہنگی پیدا کرنے پر ہیں۔ وہ خطہ جہاں ماضی میں دشمنیاں رہی ہیں۔‘
طالبان کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں انھوں نے متنبہ کیا کہ اگر اپریل تک طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع نہ ہوئے تو تصادم میں تیزی آئے گی جس کے اثرات پورے خطے پر پڑیں گے۔
’وقت ہمارے ساتھ نہیں ہے۔ ہم سب کو معلوم ہے کہ فروری اور مارچ بہت اہم مہینیں ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ آبزرورز کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ افغانستان میں جنگ بڑی جنگ کا ایک جزو ہے جو پاکستان کو بھی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔
’یہ مسائل ۔۔۔ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ان کا حل صرف ایک ملک میں طاقت کا استعمال نہیں ہے۔‘
انھوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو بھی ان گروپوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے جو مذاکرات کی حمایت نہیں کرتے۔
.......
/169