23 جنوری 2016 - 18:18
جاوید چوہدری کے کالم کا پوائنٹ ٹو پوئنٹ جواب

پاکستان کے صحافی جاوید چوہدری نے سعودیہ اور ایران دورے سے متعلق جھوٹ پر مبنی ایک کالم 21 جنوری کو لکھا جس کا مختصر سا جواب جو ہمیں موصول ہوا شائع کیا جاتا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔

جاوید چوہدری نے آپنے کالم میں جو تحریر کیا ہے اس سے سعودی ریال کی جھنکارصاف سنائی دے رہی ہے۔۔

پہلا جھوٹ یہ کہ پاکستان میں 15% شیعہ رہتے ہیں اور باقی کے 85% کی وابستگی سعودیہ عرب کے ساتھ ہے، اس لئے پاکستان کبھی بھی سعودیہ سے تعلقات خراب نہیں کر سکتا! حساب لگانے سے قبل کم سے کم اقلیتوں کے 12 فیصد کو تو باہر نکال دیتے، اور جناب کو معلوم ہو تو شیعوں کی تعداد کم سے کم 30% ہے، دوسرا یہ کہ باقی لوگ جو سنی العقیدہ ہیں ان میں سے 10% سلفیوں، دیوبندیوں، غیر مقلدوں کے علاوہ کسی کی بھی سعودیہ سے جذباتی لگاؤ نہیں ہے۔ ہاں حرمین سے پورے پاکستان کے شیعہ سنی کو پیار ہے۔۔۔ مگر خائنِ حرمین کے جانثار آپ کے 10% بھی نکل آئیں تو بہت۔

دوسرا جھوٹ یہ کہ پاکستان ماضی کے احسانات اور مہربانیوں کا بدلہ نہ دے کر احسان فراموش نہیں کہلوانا چاہتا۔ کون سے احسانات!؟  تازہ ترین احسان ہزار پاکستانی حاجیوں کی منیٰ میں شہادت اور لاشوں کی بے حرمتی ہے، گزشتہ احسانات میں، سپاہ صحابہ ، طالبان ، لشکر جھنگوی ، داعش اور ایسے کئی انسان کش اور دھشتگرد ٹولے شامل ہیں۔
آپ کو صاف صاف لکھنا چاہیے کہ آپ جیسے ریال خور اور نواز شریف جیسے سعودی کٹھپتلیاں خود کو پناہ دئے جانے کے احسان کا بدلہ اتارنا چاہتے ہیں۔
تیسرا جھوٹ یہ کہ پاکستانی قیادت نے ازخود یہ کام کیا ،،، تو ساری کہانی سامنے آ چکی ہے کہ جب سعودیہ کے بادشاہ اور شہزادوں کے گلے میں آ گئی ،،،، اور معیشت گرنے کی رفتار کئی گنا ہونے کا انڈیکیشن آ گیا اس نے اپنے بچے جمورے کو ثالثی کی درخاست کی۔۔۔۔۔ اس پر آپ کی بات انتہائی نا معقول ہے۔

چوتھا اور بڑا جھوٹ جو آپ نے لکھا کہ ایران میں قیادت کی طرف سے اہتمام اور گرمجوشی زیادہ نہیں دکھائی دی۔۔۔۔ تو میرے بھائی ، تصاویر سب کہانی کہہ رہی ہیں کہ کہاں نواز شریف کو انسان سمجھ کر مسکرا کر ملا جا رہا تھا اور کہاں ناچنے والا پپٹ سمجھ کر ہلایا جا رہا تھا،رہی بات دعوتوں کی تو بلاشبہ انقلاب کے بعد ایران کی سادگی ہمیشہ سے ایک مثال رہی ہے ،،ہاں اگر آپ شاہ کے زمانے میں گئے ہوتے تو وہ آپ کو سعودی حکمرانوں سے زیادہ عیاشی پیش کرتا۔ ایران کے سپریم لیڈر کے گھر کی تصاویر تو آپ نے دیکھی ہی ہوں گی، وہ، وہ ہے جس کی ایک جنبشِ ابرو پر پورا ایران نچھاور ہو جائے، مگر اس کی سادگی اصلِ اسلام کی آئینہ دار ہے ، ثالثی مشن پر اتنے افراد کو اور آپ جیسے سیلفی فیم کو لے جا کر  میاں صاب نے اپنی ذہنی حیثیت کا اظہار کیا ہے۔۔۔۔
 آلِ سعود کی جس مہمان نوازی کا آپ تذکرہ کر رہے ہیں وہ انہیں معلوم ہے کہ آپ کی اوقات دسترخوان والی ہی ہے۔
ایران کے صدر کی نواز شریف سے جو گفتگو سامنے آئی ہے وہ اصل دعوت کا درجہ رکھتی ہے اگر عقل والا سمجھنے والا ہو تو۔

رہی بات وجاہت کی تو اگر ممنوعہ مقامات پر فوٹوگرافی کی ہوگی تبھی کیمرہ لیا گیا اور میموری کارڈ ضبط ہوا ، ایران میں بدمعاشی کی اجازت  نہیں کہ تم کہیں بھی دندناتے پھرو!! ریمنڈ ڈیوس بن کر۔۔۔
 رہی بات ٹریٹ کرنے کی تو میرے عزیز ،، آپ کو جیسا سعودیہ ٹریٹ دیتا اور کرتا ہے ویسے یہ لوگ کبھی نہیں کریں گے۔۔۔ کیونکہ یہ اصل شرفاء ہیں ، یہ رشوت ، شراب و کباب کچھ نہیں دینے کے آپکو۔۔۔۔  

تحریر: یاسر علی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲