اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق جامع مشترکہ ایکشن پلان پر عمل درآمد کے تناظر میں ایران پر عائد ایٹمی پابندیاں منسوخ ہوگئیں لیکن جامع مشترکہ ایکشن پلان پر عمل درآمد کے ساتھ ہی وہائٹ ہاؤس نے اتوار کو پہلے سے تیار منصوبے کے تحت ایران کے خلاف نئی پابندیاں نافذ کردی ہیں -
یہ پابندیاں، جامع مشترکہ ایکشن پلان اور ایٹمی پابندیوں کی منسوخی سے تضاد نہیں رکھتیں لیکن ان کی ماہیت سے پتہ چلتا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ کی دشمنانہ پالیسیاں جاری ہیں-
ایٹمی سمجھوتے نے اگرچہ ایک بہانہ چھین لیا اور ایران کے خلاف امریکہ کی ہنگامہ آرائی ختم کردی ہے لیکن اس موضوع کو امریکہ کی ایران مخالف پالیسیوں میں تبدیلی کا معیار نہیں سمجھا جا سکتا- امریکی حکام ایٹمی سمجھوتے کے موضوع میں جامع مشترکہ ایکشن پلان کا تجزیہ کرتے وقت تشویش پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں-
ان تجزیوں میں اس نکتے پر تاکید کی جاتی ہے کہ پابندیاں اٹھائے جانے اور غیرملکی بینکوں میں ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور مجموعی طور پر پابندیوں کی منسوخی ، ایران کی جانب سے دہشت گردی کی حمایت میں اضافے کا باعث ہوگی-
امریکی کانگریس کی داخلی سلامتی کمیٹی کے ریپبلکن سربراہ مائک مک کول نے اس سلسلے میں کہا کہ امریکی حکومت ، ایران کے منجمد اربوں ڈالر بحال کر رہی ہے لیکن ان کے دعوے کے مطابق یہ اقدام، ایران کی جانب سے دہشت گردی کی مالی مدد ، سرکوبی کے اقدامات کے تسلسل اور امریکہ و اس کے اتحادیوں کی مخالفت کی کوششوں میں اضافے کا باعث ہوگا-
ان بیانات کو امریکہ کے داخلی مسائل کے زیر اثر بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ جو بعض اوقات فیصلوں پر بھی منتج ہوتے ہیں- چنانچہ امریکہ کی وزارت خزانہ نے اتوار کی شام ایک بیان میں ایران کے میزائل پروگرام کے باعث ایران پر عائد پابندیوں کی فہرست میں نئے افراد اور کمپنیوں کے نام کے اضافے کی بھی خبر دی ہے-
امریکی صدر باراک اوباما نے بھی ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن بقول ان کے اپنی اور اپنے اتحادیوں کی سیکورٹی کے لئے ان اقدامات کو جاری رکھے گا-
اوباما نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک دوسرے اختلاف کے حل کی خبر دی کہ جس کا تعلق ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے دور سے ہے، یہ اختلاف چار سو ملین ڈالر کے بارے میں تھا کہ جو ایران نے اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے ہتھیار خریدنے کے لئے امریکہ کو ادا کئے تھے ، جو شاہ ایران کا تختہ الٹنے کے باعث آج تک تہران کے حوالے نہیں کئےگئے جسے ایران اب سینتیس برسوں بعد عالمی عدالت سے رجوع کر نے کے بعد ایک ارب تین سو ملین ڈالر سود سمیت واپس لے رہا ہے-
میزائل پروگرام کے حوالے سے نئی پابندیاں عائدکرنے سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ واشنگٹن نے صرف پابندیوں کی شکل تبدیل کی ہے لیکن درحقیقت نئی اور پرانی پابندیوں کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا-
یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ علاقائی مسائل، اور انسانی حقوق و دہشت گردی کے مسئلے میں ایران اور امریکہ کے درمیان بنیادی اختلافات پائے جاتے ہیں - ان مسائل کے حل کے لئے وقت درکار ہے- واشنگٹن جسے دہشت گردی کی حمایت یاایران کی میزائلی صلاحیت و طاقت کو دیگر ممالک کی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دے رہا ہے ؛ وہ ایرانو فوبیا ہے اور ایک ایسا بہانہ ہے جس کے ذریعے امریکہ ایران کے خلاف پابندیاں باقی رکھنا چاہتا ہے- اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے ان رویوں اور حقائق کے پیش نظر اتوار کی شام تہران میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جامع مشترکہ ایکشن پلان امریکہ پر اعتماد پر منتج نہیں ہوگا-
۔۔۔۔۔۔۔
/169