ماسکو میں ایرانی سفیر محمود رضا سجادی نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہاہے کہ صدردمتری میدویدیف کی دعوت پرصدر محمود احمدی نژاد شنگھائی سربراہی اجلاس میں شرکت کیلئے جون کے مہینے میں روس جائيں گے۔شنگھائی تعاون تنظیم میں روس، چین ، قازقستان ، کرغیزستان ، تاجکستان ، ازبکستان شامل ہیں جبکہ ایران ، پاکستان ،بھارت اور منگولیا کو دوہزار پانچ میں مبصر کی حیثیت سے رکن بنایا گيا تھا۔دوسری طرف امریکہ نے ایران کی طرف سے لگائے گئےکرد باغیوں کی حمایت کے الزام کی تردید کی ھے ۔اس ضمن میں وائس آف امریکہ کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگان کے ترجمان جیوف موریل کا کہنا ہے کہ وہ کسی ایسے امریکی پروگرام سے آگاہ نہیں جِس میں شمالی عراق کے علاحدگی پسند کُردوں کی ایران کے خلاف مدد کی جاتی ہو۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ھے کہ موریل کا کہنا تھا کہ یہ ایران ہی ہے جو عراق میں امریکی کوششوں کے خلاف کام کر رہا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ امریکی فوجیوں نے حال ہی میں عراق کے لیے ایرانی ہتھیاروں کی کھیپ کا سراغ لگایا ہے۔ موریل کا کہنا تھا کہ ایران عراقی باغیوں کی تربیت کر رہا ہے اور افغانستان میں باغیوں کو حمایت مہیا کر رہا ہے۔ ایران اِن الزمات کی تردید کرتا ہے۔
15 جون 2009 - 19:30
News ID: 159138
روس کے صدر دمتری میدویدیف نے ایران کے صدرمحمود احمدی نژاد کو شنگھائی سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے ۔