اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے کشمیر دورے کے روز سی آر پی ایف کے ہاتھوں22سالہ انجینئرنگ طالب علم کی ہلاکت کے خلاف ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں تیسرے روز بھی مسلسل ہڑتال رہی۔ سرینگر کے مختلف علاقے مکمل طور بند رہے اور اس دوران پولیس و نیم فوجی دستوں اور مظاہرین کے مابین کئی مقامات پر پرتشدد جھڑپیں واقع ہوئیں۔ شہر کے بعض علاقوں میں نوجوانوں نے سڑکوں پر آکر مظاہرے کئے اور پولیس پر پتھراؤ کیا۔ واضح رہے سرینگرکشمیر میں سنیچر7نومبر کی شب شہر کے مضافاتی علاقہ زینہ کوٹ میں سی آر پی ایف اہلکاروں کی طرف سے داغے گئے ٹیر گیس شیل کی زد میں آکر22سالہ انجینئرنگ طالب علم گوہر نذیر ڈار شدید زخمی ہوا اور بعد میں اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔ یہ واقعہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے کشمیر دورے کے روز پیش آیا تاہم واردات کے وقت وزیر اعظم سرینگر سے روانہ ہوچکے تھے۔ گوہر نذیر کی ہلاکت پرپوری وادی میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی جو مسلسل جاری ہے۔
ابنا رپورٹر، ساجد رسول، سرینگر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲