اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مڈلایسٹ پانوراما سینٹر کے مطابق ، ۱۸ ملکوں کے سفیروں نے کہ جو خلیج فارس تعاون کونسل کے منصوبے کے حامی ہیں یمن میں جنگ بندی کے لیے اس سلسلے میں کی گئی کوششوں کی اہمیت پر تاکید کرنے کے ضمن میں ،یمن کے بحران کے سیاسی راہ حل کو سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر ۲۲۱۶ کی بنیاد ڈھونڈھنے پر زور دیا ،اور یہ ایسی چیز ہے کہ سعودی اپنے مقاصد تک پہنچنے تک جنگ کے جاری رکھنے پر اصرار کرتے ہوئے جس کے خلاف ہیں ۔
مذکورہ ۱۸ ملکوں کے سفیروں نے گذشتہ رات ایک جلسے میں کہ جو ریاض میں منعقد ہوا اور جس کا مقصد اسی موضوع کے بارے میں بحث کرنا تھا ،خلیج فارس تعاون کونسل کی جانب سے پیش کردہ منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا ۔اس جلسے میں ،یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری کے نمایندے اسماعیل ولد شیخ احمد نے یمن کے سیاسی راہ حل تک پہنچنے کے لیے کی گئی کوششوں کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کی۔
اس کے بعد برطانیہ کے سفیر نے بھی ایک رپورٹ پیش کر کے ،من میں جاری تبدیلیوں کے کلی ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اس کا ملک اس بحران کا سیاسی راہ حل نکالنے پر زور دیتا ہے ۔ روس کے سفیر نے بھی س جلسے میں تقریر کی اور اشارہ کیا کہ اس کے ملک نے دونوں فریقوں کو قرار داد نمبر ۲۲۱۶ کے مطابق سمجھوتے پر قانع کرنے کی کوشش کی ہے ۔
گذشتہ رات کی نشست کے آخر میں شرکت کرنے والوں کی طرف سے ایک بیان صادر کیا گیا جس میں یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے نمایندے کی کوششوں کی حمایت کی اور یمن کے سیاسی راہ حل کے لیے قرار داد نمبر ۲۲۱۶ کی حمایت کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔
مڈل ایسٹ پانوراما نے اس نشست کے بارے مینں اپنی تحلیل میں لکھا ہے صادر شدہ بیان کہ جس کی تمام شرکت کرنے والوں نے حمایت کی ہے وہ سعودی عرب کے لیے ایک سنجیدہ پیغام ارسال کرنے کے مترادف ہے ،جو اس بات پر مبنی ہے کہ یمن میں اب فوجی حل کی کوئی گنجائش نہیں ہے ،بلکہ صرف سیاسی اور ڈیپلومیٹک طریقے ہیں جو اس سلسلے میں نتیجہ خیز ثابت ہو سکتے ہیں ۔اس پیغام کی اہمیت خاص کر اس وجہ سے تھی کہ یمن کے خلا ف سعودی عرب کے علاقائی اتحاد ی اس بیان کے حامیوں میںشمار ہوتے ہیں ۔
در اصل یہ کہا جا سکتا ہے کہ یمن کے موضوع کے سیاسی راہ حل کی یہ حمایت توقع سے دور نہیں تھی اس لیےکہ ایک اتحادیوں کی فوجوں کے یمن پر حملے سے اب تک ان کا کوئی مقصد پورا نہیں ہوا ہے اور دوسری طرف جو ملک اتحاد میں شریک ہیں حملوں کے نتیجے میں ان کو بھاری نقصان اٹھا نا پڑا ہے جس کی وجہ سے وہ فوجی کاروائی کو جاری نہیں رکھنا چاہتے ۔
البتہ اس سلسلے میں ایک اور تحلیل یہ ے کہ سعودی عرب کے حامی ملکوں کی مذکورہ بیان کی حمایت ،خود سعودیوں کی موافقت سے کی گئی ہے ،اس لیے کہ سعودی حکام کو اس وقت اور چھ ماہ سے زیادہ مدت گذر جانے کے بعد یہ سمجھ گئے ہیں کہ یمن میں فوجی راہ حل کی کامیابی ممکن نہیں ہے ،اور اب اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ ایک سیاسی بین الاقوامی چارہ جوئی کر کے یمن کی ا س دلدل سے خود کو نجات دلائے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲