10 ستمبر 2015 - 14:24
امریکہ کو اپنی ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرنا ہو گا: آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی

آیت اللہ ہاشمی نے ماضی میں ایرانی قوم کے خلاف امریکی جارحانہ پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکومت کو منصفانہ پالیسی اور برابری کی سطح پر اپنی ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرنا ہوگا.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ نے ماضی میں ایرانی قوم کے خلاف امریکی جارحانہ پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکومت کو منصفانہ پالیسی اور برابری کی سطح پر اپنی ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرنا ہوگا.

ان خيالات كا اظہار آيت اللہ 'اكبر ہاشمي رفسنجاني' نے گزشتہ روز تہران ميں صدر 'ہينز فشر' كي زير صدارت آسٹريا كے اعلي سطحي وفد كے ساتھ ايك ملاقات كے دوران گفتگو كرتے ہوئے كيا.

اس موقع پر انہوں نے كہا كہ ديگر يورپي ممالك كے مقابلے ميں آسٹريا تمام لحاظ بالخصوص سياسي اور اقتصادي پہلوؤں سے مطلوب ملك ہے اور مسٹر ہينز فشر پہلے يورپي ملك كے صدر ہيں جنہوں نے جوہري معاہدے كے بعد ايران كے دورے پر آئے ہيں اور اس سے پتہ چلتا ہے كہ آسٹريا اعتدال اور انصاف ميں پائيدار ملك ہے.

مختلف حالات بالخصوص آٹھ سالہ مسلط كردہ جنگ كے دوران ايران كي پرامن اور اصولي پاليسي كا حوالہ ديتے ہوئے آيت اللہ رفسنجاني نے مزيد كہا كہ عالمي ممالك ايران كي پرامن پاليسي كو ديكھتے ہوئے اپنے رويے ميں تبديلي كي اور عراق سلامتي كونسل ميں تنہا رہ كر مسلط كردہ جنگ كي ذمہ دار ٹھرايا گيا.

انہوں نے كہا كہ مختلف سروے اور تحقيقات سے يہ بات ظاہر ہوچكي ہے كہ دنيائے كے عوام بالخصوص ايراني قوم نے مغرب كے ساتھ ہونے والے جوہري معاہدے كا خيرمقدم كيا ہے تاہم جوہري معاہدے پر من و عن عمل ہوجانا چاہئے.

آيت اللہ رفسنجاني نے مزيد كہا كہ ايران اس وقت علاقائي ممالك بالخصوص يورپي ممالك كے ساتھ اپنے تعلقات بڑھا رہا ہے اور اس روابط كو مزيد توسيع ملي ہے.

عراق، شام، ليبيا، يمن اور فلسطين ميں جاري ابتر صورتحال اور اس حوالے سے دہشتگردي كاروائيوں كا ذكر كرتے ہوئے انہوں نے تجويز دي كہ علاقائي تعصب سے پرہيز كرتے ہوئے ممالك كو چاہئے سنجيدہ اقدامات اٹھاتے ہوئے ان ممالك كے بحران كو حل كرنے ميں مدد كريں.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲