7 ستمبر 2015 - 18:15
کشمیر؛ تباہ کن سیلاب کو ایک سال مکمل، حکومت کی عدم توجہ کے خلاف ہمہ گیر احتجاج

سرینگر میں تباہ کن سیلاب کا ایک برس مکمل ہونے پر متاثرین کے حق میں معقول امداد واگزار نہ کئے جانے کے خلاف کشمیر کی مختلف تاجر انجمنوں کی کال پر آج ہمہ گیر ہڑتال رہی

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے سرینگر میں تباہ کن سیلاب کا ایک برس مکمل ہونے پر متاثرین کے حق میں معقول امداد واگزار نہ کئے جانے کے خلاف کشمیر کی مختلف تاجر انجمنوں کی کال پر آج ہمہ گیر ہڑتال رہی ۔حکومت نے احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کے پیش نظر تجارتی مرکز لال چوک کو چاروں اطراف سے خار دار تاروں سے سیل کر دیا جبکہ شبانہ چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران تاجر انجمنوں کے متعدد صدور کو حراست میں لیکر قیدرکھاگیا ۔ اس دوران سخت ناکہ بندی اور قدغنوں کے باوجود تاجروں نے لال چوک میں احتجاجی ریلیاں نکالنے کی کوشش کی جسے پولیس نے ناکام بناتے ہوئے درجنوں تاجروں کو حراست میں رکھا۔ہڑتال کی وجہ سے وادی کشمیر میں دکانیں، کاروباری ادارے، تجارتی مراکز اور بازار بند رہے ۔شہر سرینگر میںٹرانسپورٹ سرگرمیاں بھی ٹھپ رہیں۔اس دوران دیگر اضلاع میں بھی ایسے ہی حالات دیکھے گئے ۔

کشمیر سے ہمارے نمائندے نے بتایا ہے کہ تاجر برادری نے احتجاجی ہڑتال کی کال سیلاب کے ایک سال مکمل ہونے پر حکومت کی طرف سے مکمل باز آباد کاری اور معقول معاوضہ واگزار نہ کرنے کے خلاف دی تھی۔ ہڑتال کال کو مختلف انجمنوں نے حمایت کی تھی جبکہ مزاحمتی خیمے نے بھی اس ہڑتال کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔ حکومت نے حریت لیڈران سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کے علاوہ لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک سمیت متعدد مزاحمتی لیڈران کو خانہ نظر بند رکھا۔ تاجروں کاکہناہے اگر چہ سیلاب زدگان کی مکمل باز آباد کاری کے حوالے سے دعوے کئے گئے اور اعلانات بھی کئے لیکن زمینی سطح پر اس حوالے سے کسی طرح کے ٹھوس اور موثر اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب جبکہ قہر انگیز سیلاب کا ایک سال مکمل ہوچکا ہے لیکن سیلاب متاثرین اب بھی امداد کے منتظر ہیں۔ تاجر برادری نے مرکزی سرکار کو بھی ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم ہند نریندر مودی کی یقین دہانیاں بھی سراب ثابت ہوئی۔اس ہڑتال کو نیشنل کانفرنس سمیت کئی دیگر ہند نواز سیاسی جماعتوں کی بھی حمایت حاصل تھی ۔ واضح رہے کہ ایک سال قبل اسی روز شہر سرینگر میں تباہ کن سیلاب نے دستک دی تھی جس کے نتیجہ میں پوری ریاست میں لگ بھگ تین سو افراد لقمہ اجل بنے جبکہ کروڑوں کی املاک تباہ ہوئی ۔ اس دوران بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح سے متاثر ہوا اورکئی ہفتوں تک بجلی اور مواصلاتی نظام ٹھپ رہا جبکہ سڑکیں بھی ڈھہ گئیں۔ حکومت کی طرف سے متاثرین کی امداد کے بارہا وعدے کئے گئے مگر ان پر آج تک عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ اگرچہ تاجر برادری اس سے قبل بھی کئی مرتبہ احتجاج کرچکی ہے مگر آج کی ہڑتال وسیع پیمانے پر تھی جس کو حزب اختلاف سمیت ہر طرف سے حمایت ملی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲