اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے اتوار کے دن صوبۂ کردستان میں علما اور دانشوروں کے اجتماع میں کہا کہ آج ساری دنیا پر واضح ہو چکا ہےکہ ایران نے کبھی بھی ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کی ہے اور نہ ہی وہ اب ایسی کوشش کر رہا ہے۔ ڈاکٹر حسن روحانی کا مزید کہنا تھا کہ جو ایٹمی ہتھیار بنانا چاہتا ہے وہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کو اپنی ایٹمی تنصیبات کی نگرانی کی اجازت نہیں دیتا ہے۔
صدر مملکت نے ظالمانہ پابندیوں کے خاتمے اور ایرانی قوم کی ایٹمی ٹیکنالوجی تسلیم کئے جانے کو گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے کے اہم مقاصد قرار دیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ بڑی طاقتوں کی جانب سے ایران کے حقوق کا تسلیم کیا جانا بہت اہمیت کا حامل ہے۔
ڈاکٹر حسن روحانی نے ایران میں اہل تشیع اور اہل سنت کے درمیان اختلافات پیدا کرنے پر مبنی دشمنوں کی کوششوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اہل تشیع اور اہل سنت کے درمیان جدائی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ ایران کی ساری قوم ایک ہی مقصد کے لئے کوشاں ہے اور وہ مقصد ایران کی مادی اور معنوی ترقی و پیشرفت سے عبارت ہے۔
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے ہمسایہ ممالک میں پائی جانے والی بدامنی کے باوجود ایران میں امن و امان کی صورتحال کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ یہ امن و امان اسلام اور ایران کے پرچم تلے ایرانی قوم کے جمع ہونے اور رہبر انقلاب اسلامی کی بدولت ہے۔
.......
/169