25 جولائی 2015 - 07:19
ہمسایہ کوہمسایہ سے لڑانا امریکا کی عالمی سیاست

امریکا کے صدر باراک اوبامہ کی طرف سے جن پالیسیوں کا اعلان کیا گیا ہے ان میں بھی تاکید کی گئی ہے کہ امریکا نے وسیع پیمانے پر فوجیں بھیجنے کی پالیسی کو ترک کر دیا ہے اور اس کے بدلے میں اس نے اپنے اتحادیوں کی فوجی طاقت کو تقویت پہنچانے کی پالیسی اختیار کی ہے جس کے لئےاس نے ان ملکوں میں ہتھیار بھیجنے اور فوجی مشاورین ارسال کرنے کا طریقہ اختیار کیا ہےتاکہ وہ ان کی فوجوں کو ٹریننگ دے سکیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پینٹاگون کے بجٹ کو ایسی حالت میں کانگریس نے پاس کیا ہے کہ جس میں اربوں ڈالر پوری دنیا میں امریکا کے اتحادیوں کو مظبوط کرنے کے لئے رکھے گیے  ہیں توجہ کے قابل یہ ہے کہ کروڑوں ڈالر ا مغربی ایشیا کے ان دہشت گردوں کو مضبوط کرنے کے لئےرکھے گیے ہیں جن کو وہ شام کے اعتدال پسند مخالفین کا نام دیتے ہیں

ھنری کسنجر امریکا کے سابقہ وزیر خارجہ امریکا کے بہت بڑے تھیوری نگار نے اپنے ساتھی بر ژنسگی کے ساتھ مل کر بارھا تاکید کی ہے کہ امریکا اب وہ سپر پاور نہیں رہا ہے اور اسے اپنے مفادا ت کے حصول کے لیے دیگر ملکوں پر دھیان دینا پڑے گا۔اپنے اتحادیوں کو فوجی تقویت پہنچانا ان افراد اور فکری مراکز کے بزرگوں  اورامریکا کے خارجہ روابط کی کمیٹی کا طریقہ کار ہے۔

ان ساری سیاستوں کا اعلان ایسی حالت میں کیا گیا ہے کہ جب امریکا کے طریقہ کار کے بارے میں تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ وہ تدریجا اس سیاست کو اپنانا چاہتا ہےتاکہ آخر کار وہ عالمی سطح پر اپنی فوجی برتری کو قائم رکھ سکے اور دنیا  میں کسی کو بھی اپنا رقیب بننے کا موقع ہاتھ نہ آنے دے۔

قابل ذکر ہے کہ اس تھیوری میں یورپ اورامریکا کے اتحادی کے لیے بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے اس طرح کے عالمی سطح پر یورپ کے اتحاد کو روکا جاے اور چین   روس  اور اسلام جیسے دشمنوں سے اس کو ڈرایا جاے اور یورپ کی مشترکہ فوج کی تشکیل کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کی جاے۔امریکا یورپ میں اپنی فوجی موجودگی کو تقویت پہنچا رہا ہے جس کا ثبوت جرمنی میں پمپادوں کے ہدایت کے مرکز کی ایجاد اور اسپانیا  میں۱یک فوجی ٹھکانے کو وجود میں لانا ہے۔

لیکن دنیا کے دوسرے علاقوں کے بارے میں امریکا نے بہت ساری پالیسیوں کو اپنے دستور کار کا حصہ بنایا ہے۔روس کے علاقے میں امریکی ایسی حالت میں یوکرین میں سال ۲۰۱۴ کے کودتا کے بعدماسکو کو علاقائی بحرانوں میں الجھانے کی کوششوں میں رہے اور اس کے ساتھ ہی وہ مشرقی یورپ  اور روس کی سرحدوں پراپنے اور نیٹو کی موجودگی کو تقویت پہنچانے  پر عمل کررہے ہیں۔نیٹو کے روابط کو پھیلا کر لھستان، لتونی،استونی،لیتوانی تک لے جانے کا منصوبہ اور سینٹرل  ایشیا  اور قفقازمیں فوجی موجودگی کو تقویت  پہنچانا  اسی منصوبے کا حصہ ہے۔امریکا مشرقی یورپ قفقاز اور سنٹرل ایشیا کو اکسا کر عملی طور پر روس کو علاقائی بحرانوں میں پھنسانے کے چکر میں ہے تاکہ وہ روس کو عالمی نقشے سے ایک ایسی طاقت کے عنوان سے محو کرسکے کہ جو فوجی اور ایٹمی میدان میں امریکا کا مقابلہ کر سکے۔

مشرقی ایشیا کے خطے میں کہ ۲۰۲۵ کے منصوبے کی بنیاد پرامریکا نے بڑے پیمانے پر وہاں موجودگی کا منصوبہ بنایا ہے  یہ چیز چین کی موجودگی کو بہانہ بنا کر کی گئی ہے ۔

امریکا چین اور بعض ملکوں کے ساتھ جو اس کا جھگڑا ہے اس سے فائدہ اٹھانے کی فکر میں ہے کہ جو جنوبی چین کے سمندری حصے کے ملک ہیں ۔امریکا کے وزیر دفاع اشٹون کارٹر نے خرداد ماہ کی ۸ تاریخ کو سنگاپور کی سلامتی کی نشست میں ایسی حالت میں شرکت کی جس میں اس نے اپنی تقریر کا اصلی مو ضوع چین کے سمندر پر چین کی مالکیت کے خطرے کو قرار دیا۔

اس نے علاقے میں امریکی فوجی موجودگی پر تاکید کی تاک وہ ہمیشہ اپنے اتحادیوں کی مدد کرتا رہے ۔امریکی کانگریس نے بھی ایسے منصوبے کا مطالبہ کیا کہ جس کی بنیاد پر مشرقی ایشیا کے ملکوں کو ہتھیاروں کی سپلائی منجملہ ویٹنا م کو چین کی نقل و حرکت کا مقابلہ کرنے کے لئے جنوبی چین کے سمندر میں ممکن ہو سکے۔

امریکا کی نقل و حرکت ایسی تھی کہ بعض ملکوں جیسے فلیپین ،مالزی،جاپان و۔۔۔ جنوبی چین کے سمندر میں چین کو اقدامات کے بارے میں خبردار کیا۔قابل توجہ بات یہ ہے کہ جاپان بھی امریکا کی حمایتوں کے لطف سے ایک فوجی ملک بننے کی پابندیوں سے خارج ہوگیا ہے اور اس کو اجازت مل گئی ہے کہ وہ اپنے ملک کی فوجی طاقتوں کو بڑھائےاور عالمی سطح پر ہونے والے فوجی معاملات میں شرکت کرے ۔ امریکا نے اس ملک میں مزایل کا سسٹم بھی نسب کردیا ہے ۔ امریکی ھدایات کی روشنی میں علاقے کے حالات پر بنی حکومت جاپان کی ۴۲۹ صفحے کی سالانہ رپورٹ میں شمالی کوریا کے ایٹمی اور مزایلی خطروں کی اشارہ کرتے ہوے داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کے خطروں پر تاکید کی گئی ہے مجموعی طور پر جاپان کے لئے اس کی سالمیت کا خطرہ شدید تر ہوگیا ہے ۔

جاپان کی وزارت دفاع کی یہ رپورٹ ایک اور حصے پر مشتمل ہے جو دوسر ے علاقوں میں سمندری نقل و حرکت سے متعلق ہے چین نے اس وسیع و عریض  اور سرشار علاقے میں مصنوعی جزیرے بنا کر اپنے ھمسایہ ملکوں کے کا ن کھڑے کر دیے ہیں اس رپورٹ میں آیا ہے کہ چین سمندری متنازعہ مسائل میں گستاخی اور جسارت کے ساتھ اپنی نقل و حرکت کو جاری رکھے ہوئے ہے اور بغیر کسی کو خاطر میں لائے ہوئے اپنی یک طرفہ ضرورتوں کو پورا کر رہا ہے۔جاپان  چین کے ان اقدامات سے شدت کے ساتھ تشویش میں مبتلا ہے کہ جن پر ہمیں مکمل طور پر نظر رکھنا چاہئے ۔

مشرقی ایشیا کی فائل کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ امریکا بذات خود چین کے مقابلے میں قد علم کرنے کے بجائے علاقے کے ملکوں کو اس کے خلاف بھڑکا رہا ہے ۔یہ مسئلہ امریکا کے  لئے چند نتائج  کا حامل ہے پہلا یہ کہ امریکا ہتھیار بیچ  کر بھاری منفعت حاصل کرے گا  جبکہ جب علاقے میں امریکی ہتھیاروں کا انبار لگ جائے گا تو  وہ اس میں اپنی فوجی موجودگی کو بھی تقویت دے گا دوسرا نتیجہ یہ ہے کہ اس نے علاقے کی اقتصادی آمدنیوں کا رخ علاقے کو فوجی علاقے میں تبدیل کرنے کی طرف موڑ دیا ہے جس کے نتیجے میں مستقبل میں یہ ملک دنیا کے بڑے اقتصادی ممالک کی فہرست سے خارج ہو جائیں گے  تیسرا نتیجہ یہ ہے کہ چین کو علاقائی تنازع میں گرفتار کرکے  ایک عالمی طاقت بننے کے اس کے خواب کو چکنا چور کردے گا۔

 اس منصوبے کا تکمیلی مرحلہ اجتماعی اور علاقائی بحرانوں کی ایجاد ہے کہ جیسے سینگ کیانگ ،تائیوا ن  ، ہانگ کانگ اور تبت کے بحرا ن ہیں۔  

مغربی ایشیا اور افریقا کے سلسلے میں اختیار کئے گئے امریکی منصوبوں میں فرق پایا جاتا ہے ۔یہ دو علاقے توانائی کے منابع فراہم کرنے کے قالب میں امریکا کے لئے حد درجہ اہمیت کے حامل ہیں ۔ امریکا جانتا ہے کہ ان ملکوں میں اسلامی بیداری کی تحریکوں کے چلتے نیز امریکیوں کے خلاف لوگوں کے خیالات میں شدت پیدا ہونے کی وجہ سے براہ راست فوج کاروائی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ اس کو یہاں بھی افغانسان اور عراق کی طرح ہا ر کا منہ دیکھنا پڑے گا ۔

 اس میدان میں امریکا نے صہیونی حکومت کی روایتی حمایت کے ساتھ ساتھ دو چیزوں پر توجہ مرکوز کی ہے پہلی چیز  عرب ملکوں میں ہتھیار بیچنے میں اضافہ کرنا ہے کہ سعودی عرب قطر بحرین اور امارات ۔۔۔ نے جو ہتھیار امریکا سے خریدے ہیں وہ اس کا ایک نمونہ ہیں ۔ البتہ یورپی مماک جیسے فرانس، برطانیہ اور جرمنی بھی اس میدان میں حصہ دار ہیں اور عرب ملکوں کے ساتھ ہتھیار بیچنے کی بڑی بڑی قرار دادوں میں ان کے درمیان سخط رقابت اور  رسہ کشی پائی جاتی ہے ۔

دوسری چیز دہشت گرد گروہوں کی تقویت کا منصوبہ ہے کہ امریکا اور اس کے یورپی اتحادی جس پر عمل کر رہے ہیں کہ جس کا نمونہ دہشت گردوں کے لئے اور شام کے اعتدال پسند مخالفین کے لئے کروڑوں ڈالڑ مختص کرنا  عراق کے عوامی رضاکاروں اور فوج کے ٹھکانوں پر بمباری کرنا اور بعض عرب ملک جو دہشت گردوں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں ان کی حمایت کرنا ہے۔ اس علاقے میں امریکا کا مقصد اسلامی بیداری اور مزاحمتی تحریک کا مقابلہ کرنا ہے تاکہ مغربی ایشیا اور افریقا میں امریکا کے کچھ تسلط پسندی پر مبنی مقاصد حاصل ہو سکیں ۔

لاتینی امریکا کے علاقے میان بھی امریکا نے مدتوں پہلے اپنے مراکز ایجاد کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے جس کا نمونہ کولمبیا اور ہندوراس ہیں کہ جو ہمسایہ ملکوں میں امریکا کی بحرا ن پیدا کرنے کی پالیسی کا حصہ ہیں ۔

امریکا  فوجی موجودگی کو تقویت پہنچانے کے ساتھ ساتھ لاتینی امریکا کے ملکوں کے درمیان اختلافات کو بڑھاوا دینے کے درپے ہے اور عالمی امن کو بہانہ بنا کر اس علاقے کو فوجی علاقے میں تبدیل کرنے کی وجہ بتا رہا ہے ۔ اجتماعی طور پر بحران ایجاد کرنا جیسے وینزویلا ، برازیل اور ارجنٹائنا میں اس نے کیا ہے اس منصوبے کے سلسلے کی تکمیلی کڑی ہے ۔

جو کچھ بیان کیا گیا ہے مجموعی طور پر اس کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ امریکا اپنے رقیبوں اور دشمنوں پر دباو ڈالنے اور ان کا محاصرہ کرنے کے لئے تمام ملکوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں جٹا ہوا ہے اور جو بحران وہ پیدا کرتا ہے نہ صرف یہ کہ ان کا خرچہ وہ نہیں دیتا بلکہ اپنے ہتھیار بیچ کر الٹا اسے فائدہ بھی ہو گا ۔ حقیقت میں یہ دوسرے ممالک ہیں کہ جو علاقے میں ایک طاقت میں تبدیل ہونے کے خیال خام کے ساتھ اس منصوبے کا اقتصادی اور مالی خرچہ برداشت کر رہے ہیں جس کا نونہ اربوں ڈالر کے وہ ہتھیار ہیں کہ جو عرب ملکوں نے خریدیں ہیں کہ جن سے وہ صہیونی حکومت اور دہشت گردوں کے خلاف فائدہ اٹھانے کے بجائے ان کو مزاحمتی تحریک کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲