اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے صدر حسن روحانی اور ان کی کابینہ کے ارکان کے ساتھ ملاقات میں گروپ 1+5 اور ایران کے درمیان مذاکرات کی کامیابی پر ایران کی مذاکراتی ٹیم کی مجاہدت اور صادقانہ کوششوں پر شکریہ ادا کیا ہے۔
اس موقع پر انہوں نے حضرت امير المومنين علي ابن ابي طالب عليہ السلام كے جناب مالك اشتر كے نام خط كے بعض حصوں كي تفسير بيان كرتے ہوئے اس بات پر زور ديا كہ روحي، فكري اور معنوي حمايت تمام تر مشكلات كے حل كي اصلي عامل ہے اور مولائے متقيان كے خطبات اور فرامين پر مشتمل كتاب نہج البلاغہ ميں غور و فكر كے ذريعے اس حمايت كو حاصل كيا جا سكتا ہے.
رہبر انقلاب اسلامي نے ملاقات كے آغاز ميں صدر مملكت كي جانب سے ايٹمي مذاكرات كے نتيجے كے بارے ميں كي جانے والي گفتگو كا حوالہ ديتے ہوئے مذاكراتي ٹيم كي صادقانہ اور بھرپور جدوجہد كو سراہا اور انكا شكريہ ادا كيا.
آپ نے حضرت مالك اشتر كي شخصيت كے اہم پہلووں كو بيان كرتے ہوئے امير المومنين علي ابن ابي طالب عليہ السلام كے نزديك انكے مقام كو بيان كرتے ہوئے فرمايا كہ حضرت امير المومنين عليہ السلام نے اپنا فرمان اس طرح كي شخصيت كو مخاطب كرتے ہوئے جاري كيا ہے اور يہ نكتہ خود فكر و تدبر كا باعث ہے.
رہبر انقلاب اسلامي نے امير المومنين كے مالك اشتر كے نام فرمان ميں حكام كے وظائف پر بات كرتے ہوئے فرمايا كہ عوام سے ٹيكس اور دوسرے مالي حقوق كي وصولي كہ جو حكومت كے ذمہ ہوتے ہيں، اپني سرزمين كے باسيوں كا دفاع، معاشرے كو امن و صلح، سعادت، تعمير اور ترقي كي جانب گامزن كرنا، يہ وہ چار اصلي اور اہم ذمہ دارياں ہيں كہ جنہيں امير المومنين نے مالك اشتر كے نام اپنے فرمان ميں حكام كے فرائض ميں سے قرار ديا ہے.
حضرت آيت اللہ خامنہ اي نے اسلامي حكمرانوں كو ہر طرح كے ماحول اور شرائط ميں تقوائے الہي اختيار كرنے، فرائض، سنتوں اور مستحبات كي انجام دہي ميں سنجيدگي، اپنے دل، زبان اور عمل كے زريعے خداوند متعال سے نصرت طلب كرنے اور نفساني شہوات كے مقابلے ميں اپنے نفس كو قابو كرنے كو وہ اہم عوامل قرار ديا كہ جو امير المومنين نے اپنے فرمان ميں مالك اشتر كو خود سازي كے لئے بيان فرمائے ہيں.
سابقہ حكام كے بارے ميں منصفانہ قضاوت بھي رہبر انقلاب اسلامي كا اگلا نكتہ تھا جسے آپ نے مالك اشتر كے نام امير المومنين علي ابن ابي طالب عليہ السلام كے فرمان كا حوالہ ديتے ہوئے بيان فرمايا.
آپ نے ذمہ داريوں كے دور ميں عمل صالح كو تمام افراد كے لئے بہترين ذخيرہ قرار ديتے ہوئے فرمايا كہ عوام غور و فكر كے ساتھ كئے جانے والے فيصلوں ميں غلطي نہيں كرتے بنابر ايں اس طرح كے فيصلوں ميں يہ سمجھا جا سكتا ہے كہ كون سا حاكم يہ حكومتي عہديدار صالح ہے كون سا نہيں.
منحرف ہونے اور نابود ہونے سے بچنے كے لئے نفس كو حرص و ہوس كے مقابلے ميں كنٹرول كرنا اور ہر چيز كے مقابلے ميں حكم الہي كو ترجيح دينا يہ وہ دو فرائض تھے كہ جو رہبر انقلاب اسلامي نے اميرالمومنين عليہ السلام كے حكومتي فرمان كو پڑھتے ہوئے بيان كئے اور فرمايا كہ امام راحل عظيم الشان ان الہي سفارشات كا عملي مظہر تھے.
حضرت آيت اللہ خامنہ اي نے مالك اشتر كے نام امير المومنين كے فرمان كے ديگر نكات يعني عوام كو صميم قلب كے ساتھ دوست ركھنے اور انكے ساتھ محبت و مدارا كا ذكر كرتے ہوئے فرمايا كہ امير المومنين عليہ السلام كے حكم كے مطابق لوگوں كي خطاوں اور لغزشوں سے درگزر كيا جانا چاہئے سوائے ان موارد كے كہ جن ميں الہي حدود كو پيروں تلے روندا جائے يا اسلام اور اسلامي حكومت سے جنگ و جدل جيسا كوئي مورد ہو.
آپ نے اپني گفتگو كے اختتام پر مالك اشتر كے نام حضرت امير المومنين علي ابن ابي طالب عليہ اسلام كے فرمان كو ايك عظيم ثقافتي روثہ قرار ديا اور حكومتي عہديداروں كي زحمتوں كي قدر داني كرتے ہوئے انكے لئے توفيقات ميں اضافے كي دعا فرمائي.
رہبر انقلاب اسلامي كي گفتگو سے پہلے صدر مملكت حجت الاسلام و المسلمين حسن روحاني نے ايٹمي مذاكرات كے نتيجے كي جانب اشارہ كرتے ہوئے حكومت اور مذاكراتي ٹيم كي حمايت اور ہدايات ديئے جانے پر رہبر انقلاب اسلامي كا شكريہ ادا كيا اور اس اميد كا اظہار كيا كہ يہ مسئلہ تمام تر دباؤ اور پابنديوں كے خاتمے اور اسلامي جمہوريہ ايران كے دشمنوں كي جانب سے بے بنياد الزامات كے خاتمے كا سبب بنے گا اور اس كے زريعے ملك كي ترقي و پيشرفت كے نئے دور كا آغاز ہو گا.
صدر مملكت نے اپني رپورٹ پيش كرتے ہوئے حكومتي اقدامات كا تذكرہ كيا.
ڈاكٹر روحاني نے آخري دو سالوں كے دوران حكومت كي مشكلات اور كاميابيوں، ہمسايہ ممالك سے نزديكي تعلقات اور ايٹمي مذاكرات كو جاري ركھنے كے لئے لازمي اقدامات كو خارجہ سياست ميں حكومت كے اقدامات قرار ديتے ہوئے مزيد كہا كہ ايسے عالم ميں كہ جب يہ خطہ آشوب اور دہشتگردي كا شكار ہے، اسلامي جمہوريہ ايران نے خطے كے ممالك كي حمايت كي ہے كہ جو اس دہشتگردي كي لعنت كا شكار ہيں اور ہم اس حمايت كو جاري ركھيں گے.
صدر مملكت نے اقتصادي ميدان ميں، جمود سے باہر نكلنے، اقتصاد كي منفي رشد كے مثبت رشد ميں بدلنے، مہنگائي كو قابو كرنے، گندم كي واردات ميں كمي اور غير پٹروليم مصنوعات كي ايكسپورٹ كو حكومت كي كاميابي قرار ديتے ہوئے كہا كہ نوكريوں كے مسائل اور اقتصادي ترقي و پيشرفت كے لئے ہميں سرمائے اور ٹيكنالوجي كي ضرورت ہے.
ڈاكٹر روحاني نے مركزي بينك اور پرائيويٹ سيكٹر كے بھاري قرضوں، يارانہ كے نتيجے ميں پيدا ہونے والي مشكلات، بے كاري، غير قانوني كريڈٹ انسٹيٹيوٹس كے فعال ہونے، بينكوں كو درپيش مشكلات، پاني اور زير زمين قدرتي ذخائر ميں كمي، خشكسالي، ماحوليات كے مسائل اور پٹرول كي قيمت ميں كمي كو حكومت كو درپيش مسائل ميں سے قرار ديا.
صدر مملكت نے عوام كے مسائل كے حل كے لئے حكومت كي تمام تر توانائيوں كے استعمال كي جانب اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ ان مشكلات كے حل كے لئے تمام اداروں كا تعاون ضروري ہے تاكہ باقيماندہ راستے كو تيزي كے ساتھ طے كيا جاسكے.
۔۔۔۔۔۔۔
/169