10 جولائی 2015 - 02:23
عالمی یوم قدس مسلمانوں کی بیداری کا سبب

عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے رہنما رمزی رباح نے کہا ہے کہ عالمی یوم قدس جیسے موقعوں سے بیت المقدس کی یاد اور اسلامی امۃ کے مستقبل میں اس کے کردار کو زندہ اور اجا گر کیا جاتا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق عالمی یوم قدس، جس کے پیش نظر فلسطینی شخصیتوں نے اس روز کی اہمیت اورایک بار پھر بیت المقدس کی طرف مسلمانوں کی توجہ کی ضرروت پر تاکید کی ہے۔عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے رہنما رمزی رباح نے کہا ہے کہ عالمی یوم قدس جیسے موقعوں سے بیت المقدس کی یاد اور اسلامی امۃ کے مستقبل میں اس کے کردار کو زندہ اور اجا گر کیا جاتا ہے۔ تحریک جہاد اسلامی فلسطین کے سینئررکن خالد البطش نے ماہ مبارک رمضان کے آخری جمعے کو منائے جانے والے عالمی یوم قدس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ عالم اسلام میں بیت المقدس اور فلسطینی کاز پر یقین رکھتے ہیں وہ بیت المقدس سے دستبردار نہیں ہونگے بلکہ فلسطین کی آزادی پر تاکید کرتے رہیں گے۔ ادھر ایک فلسطینی رہنما مصطفی برغوثی نے ماہ مبارک کے آخری جمعے کو عالمی یوم القدس قراردينے کے امام خمینی قدس سرہ کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ مسلمان تہذیبی، میراثی، اور اخلاقی لحاظ سے بیت المقدس سے دستبردار نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پہلی ذمہ داری بیت المقدس کا دفاع اور فلسطینی کاز کی حمایت کرنا ہے۔ دراصل بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی قدس سرہ نے اپنی دور رس اور گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے مسئلہ فلسطین کو زندہ رکھنے کےلئے یوم قدس کا اعلان فرمایا تھا۔امام خمینی کی جانب سے ماہ مبارک رمضان کے جمعۃ الوداع کو عالمی یوم قدس قراردینے سے صیہونی حکومت اور اسکے حامیوں کی سازشوں کا مقابلہ کرنے میں ملت فلسطین کی جدوجہد اور عالم اسلام کی پائداری کی تاریخ میں ایک نیا موڑ آیا ہے۔ جو چیز مسلم ہے وہ یہ ہے کہ مسئلہ فلسطین عالم اسلام کا بنیادی مسئلہ ہے اور بیت المقدس پر صیہونی حکومت کا قبضہ ہونے سے وہ مکمل فلسطین پر قابض ہوجائے گا۔ اسی وجہ سے مسلمانوں اور فلسطینیوں کو چاہیے کہ وہ بیت المقدس کی حمایت کو اولین ترجیح دیں۔ آج کے حالات میں عالمی یوم قدس سے ملت فلسطین اور مسلمانوں کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ قدس پر توجہ رکھ کر عملی طور سے قدس کو فراموش کرانےکی صیہونی سازشوں کو ناکام بنادیں۔ واضح رہے کہ ماہ مبارک رمضان کے آخری جمعے کے قریب آنے پر ساری دنیا کے مسلمان اس دن کو نہایت ہی جوش وجذبے کے ساتھ منانے کی تیاریاں کرتے ہیں اور ماہ مبارک کے آخری جمعے کو بڑی تعداد میں مظاہروں میں شریک ہوکر فلسطین کی حمایت کرتے ہیں۔ اب ساری دنیا میں صیہونی حکومت کے خلاف آواز اٹھائي جارہی ہے اوراس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب بین الاقوامی سطح پر صیہونی حکومت کے خلاف احتجاج کیا جارہا ہے۔دنیا میں اکثر ملکوں بالخصوص اسلامی ملکوں کے عوام کسی نہ کسی طرح عالمی یوم قدس کو احتجاج کرکے صیہونی حکومت کی جارحیت اور اس کے اور اسکے حامیوں کےجرائم کی مذمت کرتے ہیں۔ بے شک اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سے عالمی سطح پر ملت فلسطین کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔ دراصل اسلامی انقلاب نے دنیا کی رائج سیاست میں نئے نظریات پیش کئے ہیں۔اسلامی انقلاب نے جارحیت کی نفی اور سامراج کے مقابل مظلوموں کی حمایت کا نظریہ پیش کیا ہے جو اسلام کی ترقی یافتہ تعلیمات پر مبنی ہے۔ بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی قدس سرہ کی جانب سے اگست انیس سو اناسی میں رمضان المبارک کے آخری جمعے کو یوم القدس کے عنوان سے موسوم کرنے سے عالمی سطح پر فلسطین کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے اور یہ حمایت گذشتہ تین دہائيوں سے جاری ہے بلکہ یہی امر علاقے میں اسلامی بیداری میں بھی نہایت موثر واقع ہوا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169