17 مئی 2015 - 18:26
دولت اسلامیہ ( داعش ) کے جنگجو یورپ سمگل کیے جا رہے ہیں

لیبیا میں حکومت کے مشیر کا دعوی ہے کہ دولت اسلامیہ (داعش) اپنے جنگجوؤں کو تارکین وطن کے درمیان چھپا کر یورپ بھیج رہی ہے

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق لیبیا کے ایک عہدیدار نے کہا کہ بحیرۂ روم کے بہت سے گینگز شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ(داعش) کے جنگجوؤں کو سمگل کرکے یورپ پہنچا رہے ہیں۔

لیبیا کی حکومت کے مشیر عبدالباسط ہارون نے کہا کہ سمگلرز تارکین وطن سے بھری کشتیوں میں دولتِ اسلامیہ(داعش) کے جنگجوؤں کو چھپا کر بھیج رہے ہیں۔
انھوں نے یہ دعویٰ بعض کشتیوں کے مالکان سے ہونے والی اپنی گفتگو کی بنیاد پر کیا ہے جو جنگجوؤں کے قبضے والے شمالی افریقی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
انھوں نے یہ الزام عائد ہے کہ دولتِ اسلامیہ(داعش) نے انھیں 50 فی صد آمدنی کے بدلے آپریشن جاری رکھنے کی اجازت دے رکھی ہے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ رواں سال اب تک تقریباً 60,000 افراد نے بحیرۂ روم عبور کرکے یورپی ممالک میں آنے کی کوشش کی ہے۔
ان میں سے سفر کے دوران 1,800 سے زیادہ افرادہ ہلاک ہوگئے جو گذشتہ سال اسی مدت میں ہونے والی ہلاکت کا 20 فیصد ہے۔
انھوں نے کہا ’دولت اسلامیہ(داعش) نے اپنے لوگوں کو یورپ بھیجنے کے لیے ان کشتیوں کا استعمال کیا کیونکہ یورپی پولیس یہ نہیں جانتی کہ ان میں سے کون تارکین وطن ہیں اور کس کا تعلق دولت اسلامیہ(داعش) سے ہے؟‘

انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ دہشتگرد گروہ یورپ میں مستقبل کے حملے کے بارے میں بہت پہلے سے منصوبہ بندی کر رہے ہیں
انھوں نے بتایا کہ جو لوگ دوسرے تارکین وطن سے علیحدہ بیٹھتے تھے وہ بحیرۂ روم عبور کرنے کے بارے میں خوفزدہ نہیں تھے اور انھوں نے کہا کہ ’وہ صد فی صد دولت اسلامیہ(داعش) کے افراد تھے۔‘
انھوں نے کہا کہ دولتِ اسلامیہ(داعش) نے ان کشتی والوں کو نقل و حمل کی اجازت دے رکھی ہے لیکن ہر سفر کی کمائی سے وہ ان کشتی والوں سے 50 فیصد حصے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ دہشتگرد گروہ یورپ میں مستقبل کے حملے کے بارے میں بہت پہلے سے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
رواں سال کے اوائل میں یورپی یونین کی سرحد کی نگرانی کرنے والی ایجنسی فرنٹیکس نے متنبہ کیا تھا ’عین ممکن ہے‘ کہ غیر ملکی جنگجو یورپ میں داخل ہونے کے لیے غیر رسمی راستوں کا استعمال کر رہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169