17 ستمبر 2024 - 10:11
مغرب کو اسرائیل کی فکر ہے اسے غزہ اور فلسطین کی فکر کیوں نہیں؟ / مسلمان متحد ہوں تو مٹھی بھر اسرائیلی مسلمانوں پر حملہ نہیں کر سکیں گے

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے غزہ کی جنگ اور فلسطین کے حوالے سے امریکہ اور یورپ کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اسرائیل کی اتنی فکر ہے لیکن غزہ کے مظلوم فلسطینی عوام کی انہیں کوئی فکر نہیں ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق،

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں 300 سے زائد ملکی اور غیر ملکی نامہ نگاروں سے مخاطب ہو کر کہا: پہلی پریس کانفرنس کے لئے جس دن کا انتخاب کیا گیا ہے کہ وہ ہمارے نظریئے سے مطابقت رکھتا ہے، کیونکہ یہ ہفتہ وحدت کے آغاز کا دن ہے اور میرا نظریہ یہ ہے کہ اس ملک میں رہنے والے سب ہی لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ انہیں قومیت اور نسل کی حدود سے ماورا اپنی توانائی اور صلاحیتوں کے مطابق جگہ ملے۔

انھوں نے کہا کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) جب مدینے پہنچے ہیں تو اس وقت اہل مدینہ میں کافی اختلافات تھے جنہیں آپ نے سلجھایا۔

انھوں نے کہا: امیرالمؤمنین علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں: سارے انسان، آدم سے لے کر آج تک ایک کنگھی کے دندانوں کی طرح ہیں۔ کسی بھی عرب کو عجم پر یا گورے کو کالے پر کوئی برتری حاصل نہیں ہے، اسلام میں صرف اس کو برتری حاصل ہے جوزیادہ متقی و پرہیزگار ہے۔

انھوں نے کہا: ہم نے اتحاد و یکجہتی کو اپنے کام کی بنیاد قرار دیا ہے اور قومی اتحاد کے ساتھ، آگے بڑھنے کی کوشش کی ہے۔

صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا: رہبر معظم انقلاب اسلامی نے بہت مدد کی ہے جس کے نتیجے میں ہم قومی اتحاد کی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

صدر مملکت نے ایک نامہ نگار کے اس سوال کے جواب میں، کہ ان کی حکومت عوام کے معاشی مسائل کو حل کرنے میں کیسے کامیاب ہوگی، کہا کہ پابندیوں کے خاتمے کے لئے ہم ایف اے ٹی ایف کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

انھوں نے عالمی برادری کے ساتھ ایران کے روابط کے بارے میں کہا کہ ہم ترجیحی بنیاد پر پہلے اپنے پڑوسیوں سے روابط مزید بہتر کریں گے۔

صدرڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اس حوالے سے اپنے دورہ عراق کا تذکرہ کیا اور کہا کہ بغداد اورعراقی کردستان ریجن کے حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ اپنے مشترکہ تزویراتی منصوبوں اور پروگراموں کو ایک تحریری منصوبے کی شکل دی جائے اور پھر اسی کے مطابق آگے بڑھیں۔

صدر نے کہا: ہم پاکستان، ترکمنستان، آذربائی جان اور ترکیہ نیز دیگر پڑوسی ملکوں کے ساتھ روابط کے سلسل میں بھی یہی طرزعمل اور یہی روش اپنائیں گے۔

انھوں نے چین کے نامہ نگآر کے سوال کے جواب میں کہا: اس وقت ہمارے روابط چین، روس اور دیگر پڑوسی ملکوں کے ساتھ بہت اچھے ہیں۔

صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ایک نامہ نگار کے سوال کے جواب کہا: یہ سوال ہمیشہ میرے سامنے رہتا ہے کہ ہم مسلمان ملکوں کے باہمی روابط ایسے کیوں نہ ہوں کہ دوسرے انہیں حسرت کی نگاہ سے دیکھیں۔

انھوں نے کہا: رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا ہے کہ مسلمین ایک دوسرے کے بھائی ہیں تو ہمارے درمیان تعلقات کے فروغ میں یہ سرحدیں کیوں حائل ہوں؟ ہم کہتے ہیں کہ دوسرے ممالک اپنی حکومت اور اپنے قومی اقتدار اعلی کا تحفظ کریں اور ہم اپنی حکومت اور اپنے قومی اقتداراعلی کا تحفظ کریں، لیکن مثال کے طور جو لوگ پاکستان، افغانستان، قزاقستان یا ایران میں ہیں وہ آسانی کے ساتھ ٹرین میں بیٹھ کر نجف، کربلا، مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ، اور استنبول کیوں نہیں جاسکتے؟

انھوں نے کہا کہ اگر ہم نے آپس میں ایک دوسرے کے ہاں آمد و رفت کو آسان بنا دیا تو اس کے معنی یہ ہونگے کہ ہم نے ایک دوسرے کے سلامتی کی حفاظت کو یقینی بنایا اور اس طرح اپنے اقتصادی اور ‍ثقافتی روابط کو توسیع دی ، اپنی منڈیوں کو ترقی دی اور ہمارا نقطہ نگاہ اور ہماری بات ایک ہوگئی اس صورت میں اس قابل ہونگے کہ ان قوتوں کے خلاف جم کر کھڑے ہوں جو ہمارے خلاف سازشیں کرنا چاہیں گے۔

الجزیرہ کے نامہ نامہ گار نے سوال پوچھتے ہوئے کہا: کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ ایران نے انصاراللہ یمن کو ہائپرسونک میزائل دیئے ہیں یا یمنیوں کو اس کی ٹیکنالوجی دی ہے، کیا ایران نے غزہ اور اسرائیل کی جںگ کے دوران یمن کو ہائپر سونک میزائل دیئے ہیں؟ تو صدر پزشکیان نے کہا کہ یمن تک افرادی قوت پہنچنے میں ایک ہفتہ لگ جاتا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ یہاں سے یمن میزائل پہنچ جائيں اور نظر رکھنے والوں کو نظر بھی نہ آئيں؟

ڈاکٹر پزشکیان نے کہا: یمن نے جو ہائپر سونک میزائل اسرائیل کے خلاف استعمال کیا ہے، وہ ہمارے ہائپرسونک میزائلوں سے مختلف نوعیت کا میزائل ہے۔

انھوں نے کہا: یمنیوں کی دفاعی صلاحیت ایک دو دنوں، چند ہفتوں یا حتی ایک سال دوسال میں حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔

صدر ایران نے کہا کہ [بحیثیت محور مقاومت] ہمارے اندر ہم آہنگی پائی جاتی ہے، ہم ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں،اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینی عوام کی نسل کشی پر معترض ہیں اور اس حوالے سے ہمارا نظریہ ایک ہے۔

 انھوں نے کہا کہ اسرائیلی ریاست دنیا والوں کی نگاہوں کے سامنے مظلوم فلسطینی عوام کا قتل عام اور نسل کُشی کررہی ہے اور کوئی اس پر تنقید تک بھی نہیں کرتا؛ تو اگر مغرب کو اسرائیل کی سلامتی کی فکر ہے تو اس کو غزہ اور فلسطین کی فکر کیوں نہیں ہے؟

صدر ایران ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا: دنیا کو اس بات کی اجازت نہيں دینا چاہئے کہ ایک (صہیونی) گروہ بے گناہ عوام کی نسل کشی کرے۔ اس کے بجائے انہیں اس کی فکر ہے کہ ایران نے یمن کو میزائل دیئے ہیں۔ مغرب اچھی طرح جانتا ہے کہ ایران یمن کو میزائل دے ہی نہیں سکتا۔ بے شک ہمارے پاس میزائل صلاحیت ہے لیکن ہم نے یمن کو میزائل نہیں دیئے ہیں۔ اور یمن نے جنگ سے پہلے ہی میزائل بنانے کی صلاحیت حاصل کرلی تھی۔

ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا: طاقت کے مقابلے میں طاقت حاصل کرنا ضروری ہے۔ ہمیں اپنے عوام اور ملک کی سلامتی کے تحفظ کے لئے دفاعی طاقت کی ضرورت ہے۔ ہم نے کبھی بھی جنگ شروع نہیں کی ہے ۔ آپ گذشتہ 200 سال کی تاریخ دیکھیں۔

صدر ایران نے کہا: عوام کے دفاع کے لئے جو دفاعی طاقت ہم نے حاصل کی ہے اس کا تحفظ کریں گے سوا اس صورت کے جب سب ہی اپنا اسلحہ ختم کردیں۔

انھوں نے کہا: ہمارے درمیان اتحاد ہونا چاہئے اختلاف نہیں۔ ہر ایک کو اس کا حق ملنا چاہئے۔ پڑوسیوں سے ہم یہی کہتے ہیں کہ بات چیت کریں لڑائی نہ کریں۔

انھوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ اگر ہم دنیا سے گفتگو اور لین دین کریں گے تو اپنے دوستوں کو فراموش کردیں گے۔

ان کا کہنا تھا: روس ہمارا پڑوسی ملک ہے؛ اس کے ساتھ ہمارے اقتصادی سماجی اور تزویراتی روابط ہیں ۔

انھوں نے کہا کہ صدر شہید سید ابراہیم رئیسی کا جو نقطہ نگاہ تھا ہم اس کو آپریشنل کریں گے۔ ہمیں یقین ہے کہ علاقائی تنظیموں اور برکس کے رکن ملکوں کے ساتھ ہمارے تعلقات مزید بہتر ہوں گے اور جو غیر منصفانہ پابندیاں ہم پر لگائی گئی ہیں وہ غیر مؤثر ہوں گی۔

ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا: ہم دوسروں سے اختلاف رکھنا اور روابط منقطع کرنا نہیں چاہتے لیکن ہمیں یہ بھی منظور نہیں ہے کہ کوئی ہمارے ساتھ زور زبرستی کرے ۔ ہم زور زبرستی ہرگز قبول نہیں کیا کرتے۔

صدر ایران نے کہا کہ ہم امریکہ کے دورے کا پروگرام بنا رہے ہیں اور اقوام متحدہپ میں اپنے عوام کے حقوق کا دفاع کریں گے۔

صدر نے اگلے دنوں میں امریکہ کے دورے کے حوالے سے، امریکی صدر سے ملاقات کے امکان کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ "پہلے وہ اپنا خلوص نیت ثابت کریں، تب ہی ہم دیکھیں گے کہ وہ اپنے وعدوں کے پابند ہیں یا نہیں؟ کیونکہ انھوں نے ہم پر سارے راستے بند کردیئے ہیں"۔

ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکیوں کو یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ ہم سے دشمنی نہیں رکھتے۔ ہم نے ان کے ملک کے اطرف میں فوجی اڈے نہیں بنائے ہیں اور ہم نے ان پر پابندیاں نہیں لگائی ہیں بلکہ ہم امریکی عوام کو بھائي سمجھتے ہیں۔

انھوں نے مسلمان اور دوست ملک مصر کے بارے میں کہا کہ پہلی فرصت میں مصر کے صدر اور وزرا اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ ہم مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں ۔ شیطان ہماے درمیان تنازعہ پیدا کرتا ہے۔

صدر پزشکیان نے ایٹمی مذاکرات کے بارے میں کہا: ہم اب بھی معاہدے کے پابند ہیں، جبکہ مغرب والے خود اس کے پابند نہیں ہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم عمل کریں اور وہ عمل نہ کریں۔

ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ہم نے قانونی دائرے کے اندر عمل کیا ہے، جبکہ انہوں نے اس قانون [اور سمجھوتے] کا مسودہ پھاڑ ڈالا ہے۔ ہم نہ لڑائی کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی ایٹمی اسلحہ بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ ہرگز منظور نہیں ہے کہ کوئی ہم سے زور زبرستی کرے ۔ ہمیں یہ بھی منظور نہیں ہے کہ وہ اسرائیل کو سر تا پا مسلح کریں۔

صدر ایران نے کہا کہ یہ نہيں ہوسکتا کہ ہم جب بھی بات کریں وہ کہیں کہ "ہم ماریں گے" "وہ ماریں گے تو ہم بھی ماریں گے"۔

انھوں نے کہا کہ اسرائیل اسی طرح نسل کشی کررہا ہے۔ مسلم ممالک اسرائیلیوں کو الٹی میٹم دیں۔

صدر ایران نے کہا کہ ہم کوشش کررہے ہیں کہ غزہ عوام کا قتل عام اور جنگ بند ہو۔ جو لوگ انسانی حقوق کی باتیں کرتے ہیں وہ کتنی آسانی سے عام لوگوں کا قتل عام کر رہے ہیں!!

انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ ہم ایٹمی اسلحہ بنانا ہرگز نہیں چاہتے بلکہ اپنی علمی سائنسی اور تکنیکی ضرورت پوری کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ایٹمی معاہدے کے پابند تھے اور اس کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن اگر مغرب نے اس کی پابندی نہیں کی تو ہم بھی نہیں کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ امریکی ہمارے عوام کے حقوق کا احترام کریں ہمارے ساتھ دشمنی ترک کردے ور ہمارے ملک کے خلاف سازش نہ کریں تو ہمارا ان سے بھی رابطہ بن سکتا ہے۔

صدرایران نے کہا کہ ہم جاپان کی ثالثی کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ہم ہر اس کوشش کا خیر مقدم کریں گے جس سے دنیا میں امن قائم ہو۔

ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا مغرب ہی ہے جو ایٹمی بم بنا رہا ہے اور ایسے اسلحے تیار کررہا ہے جو انسانوں کو آگ میں بھسم کرکے موت کے گھاٹ اتارتے ہیں۔ وہ خود ممنوعہ اسلحہ بناتے ہیں اور دوسروں سے کہتے ہیں "تم نے کیوں بنایا؟" تو پھر ہم کیا کریں کیا ہم اسلحہ نہ بنائیں اور تمہیں اس بات کی اجازت دے دیں کہ تم ہمیں مار ڈالو؟

ڈاکٹر پزشکیان نے کہا کہ اگر ہم مسلمان متحد ہوں تو اسرائیلی غزہ کے عوام کے ساتھ زورزبرستی نہیں کرسکتے۔

۔۔۔۔۔۔۔

110