16 ستمبر 2024 - 14:19
فلسطینی مزاحمتی گروہوں کی جانب سے تل ابیب پر یمن کے میزائل حملے کا خیرمقدم

فلسطین میں سرگرم اسلامی مزاحمتی گروہوں نے آج تل ابیب پر انصاراللہ یمن کی جانب سے ہئپرسانک میزائل حملے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس بات پر زور دے کر کہا ہے کہ اسرائیل ہرگز اسلامی مزاحمت کے خلاف نیا محاذ کھولنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ   کے مطابق فلسطین میں اسلامی مزاحمتی گروہ حماس کے ترجمان ابوعبیدہ نے بروز اتوار 15 ستمبر 2024ء تل ابیب پر انصاراللہ یمن کے کامیاب میزائل حملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسی ریاست جو ایک میزائل کو روکنے کی طاقت نہیں رکھتی، جنگ کا نیا محاذ کیسے کھول سکتی ہے؟

ابوعبیدہ نے تل ابیب پر انصاراللہ یمن کے کامیاب میزائل حملے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا: "ہم یمن کے عزیز عوام کی جانب سے فلسطین میں اپنے بھائیوں کی حمایت پر مبنی موقف اور ان کی جانب سے اس راستے میں جدوجہد اور قربانیاں دینے کے عزم کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

حماس کے ملٹری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان نے مزید کہا: "اس حملے میں بروئے کار لایا گیا میزائل اور حملے کا نشانہ بننے والا مرکز دونوں اہم تھے اور اسرائیل پر یمن کے حملوں میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی ظاہر کرتے تھے چنانچہ یہ حملے معرکۂ طوفان الاقصیٰ میں بہت موثر واقع ہو گی۔"

ابوعبیدہ نے کہا: "اسرائیل کی غاصب صیہونی ریاست بدستور غزہ کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے جبکہ یہ ریاست اور اس کے حامی ایک میزائل کو روکنے کی طاقت نہیں رکھتے اور اسے مار گرانے میں ناکام رہے ہیں۔"

 القسام بریگیڈز کے ترجمان نے مزید کہا: "یہ ریاست جو ایک میزائل کو نہیں روک پائی اس سے کہیں زیادہ کمزور ہے کہ جنگ کو دیگر محاذوں تک پھیلائے، جبکہ اب تو اس کو مختلف محاذوں پر نت نئے سرپرائزنگ حملوں سے کا بھی سامنا ہوگا۔"

ابوعبیدہ نے کہا: "جنگ کا دیگر محاذوں تک پھیلاؤ ایک احمقانہ اقدام ہو گا اور اس کا مطلب یہ ہو گا کہ بنیامین نیتن یاہو (صہیونی وزیراعظم) اس ریاست کو حتمی نابودی کی طرف لے کر جائے گا۔"

یاد رہے آج دوپہر یمن کی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر یحییٰ سریع نے یافا (تل ابیب) پر کامیاب میزائل حملے کا اعلان کرتے ہوئے اعلان کیا: "ہماری میزائل یونٹ نے خدا کی مدد سے ایک اسپشل آپریشن انجام دیا ہے جس کے دوران مقبوضہ فلسطین کے علاقے یافا (تل ابیب) پر میزائل حملہ کیا گیا ہے۔ یہ حملہ ایک بیلسٹک میزائل کے ذریعے انجام پایا ہے جو کامیابی سے اپنے نشانے پر جا کر لگا ہے اور دشمن کا فضائی دفاعی نظام اسے مار گرانے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔"

یحیی سریع نے مزید کہا: "اس میزائل نے 2 ہزار 40 کلومیٹر کا فاصلہ صرف 11 منٹ میں طے کیا اور صہیونی ریاست میں خوف و ہراس کی فضا پھیلا دی۔ یوں صہیونی دشمن کی تاریخ میں پہلی بار تل ابیب میں 20 لاکھ صیہونیوں کو ـ بیک وقت ـ بھاگ کر پناہ گاہوں میں چھپنا پڑا"۔  

۔۔۔۔۔۔۔

110