28 مئی 2024 - 23:50
امام خامنہ ای اسلامی جمہوریہ کی قوت عاقلہ کے طور پر قابل ستائش ہیں۔۔۔ سید علی خمینی

امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) کے عالم فاضل پوتے نے کہا: اسلامی جمہوری نظام کا مضبوط ترین ستون حضرت آیت اللہ خامنہ ای (مد ظلہ العالی) کی ذات ہے، جو اسلامی جمہوری نظام میں قوت عاقلہ کی حیثیت سے یقینا قابل ستائش ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) کے پوتے، حجت الاسلام و المسلمین سید علی خمینی نے، ہیلی کاپٹر کے حادثے میں آیت اللہ سید ابراہیم ر‏ئیسی اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے سلسلے میں، نجف اشرف میں اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصلیت جنرل میں رہبر انقلاب کے نمائندے آیت اللہ سید مجتبی حسینی کے زیر اہتمام منعقدہ مجلس ایصال ثواب سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

اسلامی جمہوریہ ایران طاقت اور استحکام کے لحاظ سے اس نقطے پر پہنچ گیا ہے کہ ملک کی سب سے اعلی انتظآمی شخصیت ـ یعنی سربراہ حکومت ـ کے چلے جانے کے بعد بھی ملک اور قوم کی سرگرمیوں میں ذرہ برابر خلل اور تزلزل پیش نہیں آتا، جس کا مطلب البتہ یہ نہیں ہے کہ اس سے صدر جمہوریہ کے اثرات کی نفی کی جائے، بلکہ اس حقیقت کی نشاندہی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایک مستحکم، متحرک اور فعال نظام قائم کرنے میں کامیابی حاصل کر چکا اور یہ ایک مکمل، مستحکم اور طاقتور نظام حکومت ہے یہاں تک کہ اگر ایک خادم قوم چلا بھی جائے تو قوم کی آہنی صفوں میں کوئی خلل نہیں پڑتا۔

انھوں نے کہا: امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) ایک انتہائی عظیم ہستی ہیں، اور دنیا والوں کا وہم تھا کہ وہ دنیا سے رخصت ہونگے تو اسلامی جمہوریہ کا بھی خاتمہ ہوگا۔ امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) نے اپنے وصیت نامے میں لکھا ہے: "یقین کرو کہ ایک خادم کے چلے جانے ملت کی اہنی صفوں میں کوئی خلل نہیں پڑے گا"۔

ایران کا اسلامی جمہوری نظام یہ ایک مستحکم نظام ہے، اور میرے خیال میں اس کا استحکام کم از کم تین بنیادی اصولوں پر استوار ہے:

1۔ منطق اور اعلی مقاصد

جیسا اسلامی جمہوریہ ایران کے مخالفین اور نظام اسلامی کے دشمن بھی ابھی تک اس بنیادی اصول اور نعرے سے بہتر کوئی بات سامنے نہیں لا سکے ہیں کہ "استقلال، آزادی، اسلامی جمہوریہ"؛ امام کا کلام منطقی لحاظ سے، [سنہ 1960ع‍ کے عشرے کے ابتدائی برسوں میں] اسلامی تحریک کے آغاز سے ہی، بادشاہی نظام کی منطق سے آگے آگے اور بالاتر تھا۔ منطق ہی ہے جو ایک نظام کو مستحکم کر سکتی ہے، صرف نعرہ کسی نظام کو مستحکم نہیں کرتا؛ اور آج تک کوئی بھی ایسی منطق، سامنے نہیں آ سکی ہے جو اسلامی جمہوریہ کی منطق سے زیادہ بہتر و بالاتر ہو۔ "استقلال، آزادی اور اسلامی جمہوریہ"، اگر اسلامی جمہوریہ میں کوئی نقص ہے، جو یقینا ہے، اگر ہمارے وجود میں کوئی نقص ہے، جو یقینا ہے، تو یہ نقص اہداف میں نہیں ہے بلکہ کارکردگیوں کی کیفیت میں ہے، لیکن اسلامی جمہوریہ کے اہداف و مقاصد اور منطق میں کوئی نقص نہيں ہے، چنانچہ منطقی لحاظ سے اسلامی جمہوریہ کا ایک اہم اور مستحکم ستون اہداف و مقاصد سے عبارت ہے۔

2۔ مؤمن افراد اور قومی قوت

اسلامی جمہوریہ ایران کے استحکام کی دوسری بنیاد عظیم عوامی اعتماد اور مؤمن قومی اور افراد قوت ہے۔ ایران کے غالب اکثریت مؤمن اور دیندار لوگوں پر مشتمل ہے، جو اسلامی جمہوری نظام کے  استحکام کا عظیم سرمایہ ہے۔ ان جلوس ہائے جنازہ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عظیم عوامی حضوراس نظام کے حب داروں کی حوصلہ افزائی کا سبب اور دنیا والوں کے سامنے ہمارے استحکام اور طاقت اور مضبوطی کا زبردست مظاہرہ ہے۔ دنیا میں کہیں بھی عوام اپنے سرکاری حکام کے ساتھ اس طرح اظہار شیدائی نہیں کیا کرتے، اور اپنے مقتولین اور شہیدوں کے لئے اس طرح کی مجالس بپا نہیں کرتے۔ اگرچہ عوام بہت سارے مسائل پر تنقید کرتے ہیں لیکن اسلامی جمہوری نظام کے لئے میدان میں آتے ہیں اور دنیا والوں کو ببانگ دہل بتا دیتے ہیں کہ امام اور انقلاب کے اہداف و مقاصد کے وفادار ہیں۔

3۔ رہبر انقلاب امام خامنہ ای (مد ظلہ العالی)

یقینا اسلامی جمہوری نظام کی قوت و استحکام کا تیسرا اور بہت اہم رکن رہبر انقلاب اسلامی کی ذات با برکات ہے۔ لوگ جب اس مضبوط اور عالم و فاضل شخصیت کو دیکھتے ہیں تو ان کے حوصلے بلند ہو جاتے ہیں اور راستے کے دوام و استمرار کے حوالے سے پرامید ہو جاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اسلامی جمہوری نظام کے استحکام کا ایک ستون حضرت آیت اللہ خامنہ ای (مد ظلہ العالی) کی ذات ہے۔ حقیقتا یہ ایک بنیادی سرمایہ ہیں، اور ہمیں دن رات اللہ کی بارگاہ میں دعا کرنا چاہئے کہ ـ بالخصوص آپ [حاضرین] جو اس وقت نجف اشرف میں ہیں، اور کربلا جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، ہمیشہ سید الشہداء امام حسین (علیہ السلام) کے قُبے تلے دعا کریں کہ اللہ تعالی ان کی عمر کو طویل کرے، اور انہیں صحت و سلامتی اور تندرستی اور عافیت عطا فرمائے، اسلامی جمہوریہ میں آپ ایک ممتاز قوت عاقلہ کی حیثیت رکھتے ہیں؛ یہ قوت عاقلہ حقیقتا قابل ستائش ہے۔ بطور مثال اسلامی جمہوری نظام عسکری لحاظ سے پیچیدہ ترین بین الاقوامی صورت حال میں امریکی ڈرون کو گرا دیتا ہے، عراقی کے عین الاسد میں امریکی فوجی اڈے پر میزائل برساتا ہے، یا آپریشن وعدہ صادق میں صہیونی ریاست کو سینکڑوں میزائلوں کا نشانہ بناتا ہے، یہ سب اس قوت عاقلہ کی نشاندہی کرتا ہے جس نے ان چالیس برسوں میں اس نظام حکومت کا انتظام اس انداز سے آگے بڑھایا ہے کہ لوگ ان تمام حالات میں اپنی معمولی کی زندگی گذارتے ہیں اور شدید ترین واقعات میں بھی اس ملک کے انتظام و انصرام میں کوئی خلل نہیں پڑتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110