اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت(ع)
اسمبلی، آیت اللہ رضا رمضانی ـ جو بین الاقوامی سیمینار
"اسلام؛ مکالمے اور زندگی کا مذہب" میں شرکت کے لئے، برازیل کے مسلمانوں
کی دعوت پر، اس لاطینی امریکی ملک کے دورے پر ہیں ـ نے سائوپاؤلو شہر میں واقع حضرت محمد رسول اللہ(ص)
امام بارگاہ میں برازیلی مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اس کے باوجود کہ دشمنوں نے
پوری تاریخ میں دین میں تحریف کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن آج ہمیں دین اسلام کی تبلیغ
کے لئے سنہری موقع فراہم آیا ہے۔
انھوں نے کہا: اسلامی انقلاب کی کامیابی سے قبل کے نظریہ ساز کہا کرتے تھے کہ دنیا میں کوئی دینی اور مذہبی انقلاب رونما نہیں ہوگا، لیکن اسی دور میں ایک دینی انقلاب رونما ہؤا، جو معاشروں کو دینداری کا دعوت دیتا تھا اور اس نے دین کو سماجی میدان میں حاضر کر دیا اور آج دنیا کے علمی مراکز ایک بار پھر دین کے کردار کے سماجی کردار کا از سر نو جائزہ لے رہے ہیں۔ دین کو آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ دین انسان کو زندگی کا سبق سکھاتا ہے۔ قرآن کریم تمام انسانوں سے مخاطب ہؤا ہے اور تاکید کی ہے کہ اگر تم [انسان] خدا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا کلام سنوگے تو حقیقی حیات تک پہنچ سکو گے۔
عصر حاضر میں دینداری تک پہنچنے کی شرط
سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی نے کہا: اہل بیت (علیہم السلام) کی نظر میں، دین اسلام، ایک جامع، درست اور گہرا دین و مکتب ہے اور یہ دین نہ صرف نماز اور روزے پر مشتمل ہے بلکہ سماجی میدان میں کردار ادا کر رہا ہے اور معاشروں میں ہونے والے ہر قسم کے ظلم پر رد عمل ظاہر کرتا ہے۔ چنانچہ اسلام کی رو سے، اگر معاشرے میں کہیں ظلم ہو رہا ہے تو ایک مسلمان کو ظالم کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ رویہ نہیں اپنا چاہئے۔ امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں حسنین (علیہما السلام) سے مخاطب ہو کر فرمایا: "کونا للظّالم خصماً وللمظلوم عوناً؛ ظالم کے دشمن اور مظلوم کے مددگار رہو"۔ اہل بیت (علیہم السلام) نے دین کی جامع ترین تعریف پیش کی ہے۔
انھوں نے مزید کہا: دیندار کے حصول کے لئے دو مراحل طے کرنا پڑتے ہیں: اول یہ کہ ہم دین کو پہچان لیں، اور دوئم یہ کہ دین کا یقین کریں۔ اور دین شناسی اور دین باوری کے بعد ہی ہم دیندار بنیں گے۔ ہم پیروان اہل بیت(ع) کا اہم ترین فریضہ یہ ہے کہ اپنے برتاؤ، کردار اور اپنے کلام سے دین کا تعارف کرائیں؛ اس طرح سے کہ کہا جائے کہ "یہ ایک حقیقی دیندار، مکتب اہل بیت(ع) کا تربیت یافتہ اور حقیقی مؤمن ہے"۔
آیت اللہ رمضانی نے مؤمنانہ زندگی کی خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مؤمنانہ زندگی غیر مؤمنانہ زندگی سے مختلف ہے۔ امام علی بن موسیٰ الرضا (علیہ السلام) نے فرمایا: "جب تک کہ ایک شخص میں تین خصلتیں نہیں ہونگی، وہ مؤمن نہیں ہے: ایک خصلت اس کے پروردگار کی طرف سے، ایک خصلت اس کے پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے اور ایک خصلت ولی خدا سے؛ خدا سے جو خصلت اپنانے کا حکم ہے وہ رازوں کو نہاں رکھنے سے عبارت ہے، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی خصلت لوگوں سے رواداری اور نرمی سے پیش آنے اور ولی خدا کی خصلت دشواریوں اور تنگیوں میں صبر و بردباری ہے۔
حقیقی مسلمان تشدد کے خلاف جدوجہد کرتا ہے
موجودہ دور میں ہم نے دیکھا کہ کچھ لوگ قرآنی آیات کی تلاوت کرتے تھے اور لا الٰہ الا اللہ کہتے تھے اور لوگوں کے سر قلم کرتے تھے۔ جاننا چاہئے کہ اس شخص کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ لوگ استعماری اور استحصالی قوتوں کے بنائے ہوئے ہیں تاکہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف ڈالیں۔ یقینا تشدد کا عنوان ان [استعماریوں] کے لئے ہی مناسب ہے نہ کہ اس کا تعلق کسی مسلمان سے ہو۔ حقیقی مسلمان تشدد پسند نہیں ہے بلکہ تشدد کے خلاف جدوجہد کرتا ہے۔
شیعہ منطق، تفکر، استدلال اور منطقی [روحانیت] کی منطق ہے
انھوں نے کہا: اگر ولی اللہ کا ساتھ دینا چاہیں، تو صبر اور غور و توجہ اور ہوشیاری سے کام لینا پڑے گا۔ شیعہ منطق، تفکر، استدلال اور منطقی [روحانیت] کی منطق ہے۔ اہل بیت(ع) کی منطق فرض شناسی اور دنیا میں قیام عدل کی منطق ہے؛ یہ کہ کسی پر بھی ظلم نہیں ہونا چاہئے اور عدل و انصاف اور امن و سلامتی تمام اقوام کے لئے ہو، اور اقوام عالم سیادت، حاکمیت اور عظمت نصیب ہو۔ امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) فرمایا کرتے تھے: "میں آپ کی عظمت رفتہ کو لوٹانے آیا ہوں"۔ فرض شناسی اس زمانے میں بہت اہم ہے۔ جس زمانے میں خواتین اور بچوں کا قتل عام کیا جاتا ہے اور انہیں بے گھر اور بے وطن کیا جاتا ہے۔ آج تمام مسلمانوں اور غیر مسلموں کو بیدار اور ہوشیار رہنا چاہئے اور اللہ کا کلام اور اللہ کے دین کے کلام انسانی برادری کو منتقل کر دیں۔ ہمیں صلح و سلامتی اور انسانیت سے عشق و محبت کا پیغام سب تک پہنچانا چاہئے اور جو قوتیں مطلق العنان ہیں اور بنی نوع انسان پر ظلم کر رہی ہیں، انہیں انسانی برادری کے سامنے بے نقاب کرنا چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110

