اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ
ابنا ـ کے مطابق، سوموار کو پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما بیرسٹر گوہر نے سنی
اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضا اور مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر
عباس کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں آزاد امیدواروں کی سنی اتحاد کونسل میں شمولیت
کا اعلان کیا۔
پریس کانفرنس میں اگرچہ صاحبزادہ حامد رضا نے واضح کیا ہے کہ ایوانوں میں پالیسی تحریک انصاف کی چلے گی لیکن قانونی اور تاریخی طور پر سنی اتحاد کونسل پارلیمانی جماعت کے طور پر جانی جائے گی۔
سنی اتحاد کونسل بریلوی مکتبہ فکر کی چیدہ چیدہ جماعتوں پر مشتمل سیاسی - مذہبی اتحاد ہے جو 2009 میں قائم کیا گیا تھا۔ اس اتحاد کے بانی اور پہلے چیئرمین موجودہ سربراہ صاحبزادہ حامد رضا کے والد صاحبزادہ حاجی فضل کریم تھے۔ اب یہ جماعت دو دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے ایک دھڑے کی سربراہی سید محمد محفوظ مشہدی کر رہے ہیں۔ جو آئی جے آئی کے پلیٹ فارم سے قومی اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔
صاحبزادہ حامد رضا کے والد صاحبزادہ حاجی فضل کریم کا تعلق ایک زمانے میں جمعیت علمائے پاکستان سے تھا۔
صاحبزادہ فضل کریم کا مسلم لیگ ن کی قیادت کے ساتھ قریبی تعلق اور اتحاد تھا۔ اسی اتحاد کی بنیاد پر وہ 1993 اور1997 کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی اور 2002 اور 2008 کے انتخابات میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ وہ 1997 سے 1999 تک شہباز شریف کی کابینہ میں صوبائی وزیر اوقاف بھی بھی رہے۔
سنی اتحاد کونسل کے سربراہ پاکستان تحریک انصاف کے موقف کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ تحریک عدم اعتماد، اس کے بعد ہونے والے لانگ مارچ اور عمران خان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج میں بھی سنی اتحاد کونسل پیش پیش رہی۔
سنی اتحاد کونسل کے واحد منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ حامد رضا نے خود آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑا۔
۔۔۔۔۔۔۔
110