7 دسمبر 2023 - 17:38
صہیونی دشمن تین ہفتوں میں دو کلومیٹر کا فاصلہ طے نہیں کر سکا ہے۔۔۔ جنرل ہشام جابر

انھوں نے کہا: صہیونی دشمن شدید اور وحشیانہ بمباری کے باوجود اب تک ان کیمپوں میں گھسنے سے عاجز ہے، چنانچہ شدید جانی اور مالی نقصانات کے متحمل ہونے کے بعد اس نے ان علاقوں سے اپنی فوج پیچھے ہٹا دی اور اب ان کی وحشیانہ بمباریوں اور مجرمانہ اقدامات جبالیا کیمپ، بیت لاہیا اور بیت حانون پر مرکوز ہوئے ہیں۔ 

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، تزویراتی اور عسکری امور کے لبنانی ماہر نے کہا: 55 روزہ جنگ میں صہیونی دشمن کی پوری قوت غزہ کے شمال پر مرکوز تھی لیکن اس کے باوجود وہ تین ہفتوں کی زمینی جنگ میں دو کلومیٹر کا فاصلہ بھی طے نہیں کر سکا ہے اور پیشقدمی نہیں کر سکا ہے۔

کچھ سوالات:

٭ غاصب صہیونی ریاست نے غزہ کے خلاف اپنی جنگ میں کیا کھویا اور کیا پایا؟

* کیا حماس کو کمزور کیا جا سکتا ہے اور کیا اس کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانا ممکن ہے؟

* کیا غاصب صہیونی دشمن دعویٰ کرتا ہے، ہے کہ اس نے دشمن کے بڑے علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے، کیا ایسا کرنا ممکن ہے؟

لبنانی فوج کے سابق جنرل اور تزویراتی اور عسکری امور کے ماہر جنرل ہشام جابر نے ان سوالات کا جواب دیا ہے۔

جنرل جابر نے کہا: تین ہفتوں سے غزہ غاصب اسرائیلی ریاست کے حملوں کا نشانہ بنتا رہا اور بعدازاں صہیونیوں نے شمال اور مشرق سے زمینی حملے کا آغاز کیا اور اصل مقصد یہ تھا کہ جنوبی غزہ کو شمالی غزہ سے الگ کر دیں، اور دوسرا مقصد غزہ کو تقسیم کرنا تھا۔

انھوں نے کہا: 55 دن تک صہیونی دشمن کی پوری قوت شمالی غزہ پر مرکوز رہی جس کا رقبہ چند ہی کلومیٹر ہے، لیکن صہیونی دشمن دو کلومیٹر سے زیادہ، پیشقدمی نہ کر سکا۔

جنرل جابر کا کہنا کہ صہیونی ریاست نے شمال میں بیت لاہیا اور جبالیا کیمپ کی طرف پیشقدمی کی اور سمندر سے بھی بھی ان علاقوں پر گولہ باری کی اور آخرکار ـ عارضی جنگ بندی کے وقت ـ دعویٰ کیا کہ اس نے غزہ کے شمالی علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے، جو ایک بے بنیاد دعویٰ تھا؛ کیونکہ صرف صہیونی دشمن شمالی غزہ کے ایک تہائی علاقے پر قابض ہو سکا ھا؛ کیونکہ بیت لاہیا اور بیت حانون پر ابھی تک صہیونی فضائیہ کی بمباری جاری ہے۔

انھوں نے کہا: صہیونی دشمن شدید اور وحشیانہ بمباری کے باوجود اب تک ان کیمپوں میں گھسنے سے عاجز ہے، چنانچہ شدید جانی اور مالی نقصانات کے متحمل ہونے کے بعد اس نے ان علاقوں سے اپنی فوج پیچھے ہٹا دی اور اب ان کی وحشیانہ بمباریوں اور مجرمانہ اقدامات جبالیا کیمپ، بیت لاہیا اور بیت حانون پر مرکوز ہوئے ہیں۔

جنرل ہشام جابر نے کہا: جنوبی غزہ اور خاص طور پر خان یونس میں گھمسان کی جنگ چھڑ گئی ہے۔ خان یونس سنہ 1956ع‍ اور سنہ 1967ع‍ میں مصر پر غاصب صہیونی ریاست کے حملوں کے بعد سے زیادہ تزویراتی اہمیت اختیار کر گیا ہے اور اگر خان یونس نہ ہوتا تو غاصب دشمن غزہ اور رفح پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتا۔

ان کا کہنا تھا خان یونس غزہ کے بعد، اس پٹی کا دوسرا بڑا شہر ہے اور یہ شہر فوجی نقطۂ نظر سے ایک وسیع علاقے پر مشتمل ہے، اور مقاومتی تنظیموں نے اس شہر میں کچھ مورچے صہیونی دشمن سے نمٹنے کے لئے کچھ مورچے بنائے ہیں اور اس کو شدید نقصانات سے دوچار کیا ہے۔

جنرل جابر کا کہنا تھا کہ آج [بدھ چھ دسمبر 2023ع‍ کو] مقاومت کے مجاہدین نے صہیونیوں کے 24 ٹینکوں اور بکتربند گاڑیوں کو تباہ کر دیا ہے؛ کیونکہ خان یونس کا جغرافیہ مقاومت اور اس کے حملوں کو آسان بناتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

110