امام خامنہ ای (دام ظلہ العالی) کے خطاب کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
ملک کے سائنسدانوں اور اہل علم کو جست لگانے کی ضرورت ہے
ملک کے سائنسدانوں اور اہل علم کو ایک جست لگانے کی ضرورت ہے، اس جست کو موجودہ حکومت اور حکومتی اداروں میں نوجوان عہدیداروں کے تعاون اور ملک کے ممتاز سائنسدانوں کی کوششوں سے انجاد دینا چاہئے۔
صہیونیوں کے جرائم کے جاری رہنے کی صورت میں کوئی بھی مسلمانوں اور مقاومتی قوتوں کا راستہ نہیں روک سکے گا
غاصب صہیونی ریاست پر مقدمہ چلایا جانا چاہئے
مسئلۂ فلسطین میں جو کچھ پوری دنیا کی آنکھوں کے سامنے ہے، وہ غاصب ریاست کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی ہے۔ پوری دنیا اس کا مشاہدہ کر رہی ہے۔ بعض ممالک کے حکام نے ہمارے ملک کے حکام سے بات چیت کی ہے؛ انہوں نے غاصب صہیونی ریاست کا دفاع کرتے ہوئے یہ مسئلہ اٹھایا ہے کہ "فلسطینیوں نے غیر فوجیوں کو کیوں مارا؟"۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ بات حقیقت سے متصادم ہے، یعنی جو لوگ [نوآباد] بستیوں اور قصبوں میں رہائش پذیر ہیں، اصولی طور پر غیر فوجی اور نہتے نہیں ہیں، سب مسلح ہیں۔ اب مان بھی لیں کہ غیر فوجی تھے، تو غیر فوجی ہلاک شدگان کی تعداد کتنی ہے؟ صہیونی غاصب اس سے سو گنا زیادہ نہتے فلسطینیوں کا قتل عام کر رہے ہیں جن میں بچے، خواتین، بوڑھے اور جوان شامل ہیں۔ صہیوی غزہ میں جن عمارتوں پر بم گرا رہے ہیں، یہ فوجی تو نہیں ہیں، فوجی تو اپنے ٹھکانوں میں موجود ہیں، پوری دنیا اس حقیقت سے واقف ہے۔ یہ سب عوام ہیں۔ صہیونی گنجان آباد شہری علاقوں کو چن چن کر بموں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان ہی چند دنوں میں غزہ میں اب تک کئی ہزار فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔ یہ سب پوری دنیا کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے۔ ان پر مقدمہ چلنا چاہئے، غاصب صہیونی ریاست پر آج قطعی طور پر مقدمہ چلنا چاہئے۔
ان پر مقدمہ چلنا چاہئے، امریکی حکومت پر لازم ہے کہ اس مسئلے میں اپنی ذمہ داری کو پہچان لے۔ جس طرح کہ موصولہ اطلاعات ہمیں بتاتی ہیں کہ امریکی ہی ان دنوں اور ـ اسی حالیہ ہفتے میں ـ صہیونی ریاست کی پالیسیاں متعین کر رہے ہیں؛ یعنی صہیونی ریاست کے پالیسی ساز امریکی ہیں۔ جو کچھ ہو رہا سب امریکی پالیسی [کے مطابق] ہے۔ امریکی اپنی ذمہ داری پر توجہ دیں، وہ ذمہ دار ہیں۔ بمباریوں کو فوری طور پر بند ہونا چاہئے۔
مسلم اقوام غضبناک ہیں، بہت غضبناک ہیں۔ اس غیظ و غضب کی نشانیوں کو آپ دیکھ رہے ہيں۔ عوام نہ صرف اسلامی ممالک میں بلکہ لاس اینجلس میں، ہالینڈ میں، فرانس میں، یورپی ممالک میں، مغربی ممالک میں، احتجاجی جلسے جلوس منعقد کر رہے ہیں، جن میں مسلمان بھی شامل ہیں اور غیر مسلم بھی۔
جہاں تک اسلامی ممالک کا تعلق ہے، تو بہت واضح ہے کہ لوگ غیظ و غضب میں مبتلا ہیں۔ اور اگر یہ جرائم جاری رہیں، مسلمان بے چین ہو جائیں گے، مقاومت (یا مزاحمت) کی قوتیں ین بے چین ہوجائیں گی، اور ان کا راستہ مزید کوئی بھی نہیں روک سکے گا۔ ان [صہیونیوں، امریکیوں اور یورپیوں] کو جان لینا چاہئے۔ ان لوگوں سے کوئی توقع نہ رکھو، جن سے تم کہتے ہو کہ "فلان گروہ اور فلان تحریک سے کہہ دو کہ فلان کام نہ کرے"۔ ان کا راستہ کوئی بھی نہیں روک سکتا، جب بے چین ہو جائیں۔ یہ ایک حقیقت ہے جو اس وقت موجود ہے۔ البتہ صہیونی ریاست جو بھی کرے اس مسئلے میں اپنی ذلت آمیز اور رسوا کن شکست کا ازالہ نہیں کر سکے گی۔
آج غزہ کے مسئلے پر ردعمل سب کی ذمہ داری ہے
علم ذمہ داری کا باعث بنا ہے، تمام دوسری دوسرے اثاثوں (Assets) کی طرح، فکری اثاثہ، طاقت کا اثاثہ، مالی اثاثہ، یہ سب ذمہ داری کا باعث ہیں۔ علم و سائنس بھی ان قیمتی اثاثوں میں شامل ہے۔ آپ کے پاس [اگر] علم ہے تو یہ علم آپ کو ذمہ دار بناتا ہے۔ یعنی یہ کہ اپنے علم کو بھی لوگوں کے مفاد میں، بروئے کار لائیں، اور اس علم سے جو [سماجی] ساکھ حاصل کرتے ہیں، اس سے بھی عوام کے مفاد میں بروئے کار لائیں۔ [یعنی] اس علم کو عوام کی خدمت کی راہ میں بروئے کار لانا چاہئے۔
اللہ تعالیٰ نے یہ عہد علماء اور اہل دانشس لیا ہے برداشت نہ کریں، ظالم کے پیٹوپن کو اور مظلوموں کی بھوک کو برداشت نہ کریں۔ ہمیں رد عمل دکھانا چاہئے۔
آج غزہ کے مسئلے میں یہ رد عمل ہم سب کے کندھوں پر ہے۔ ہمیں رد عمل ظاہر کرنا چاہئے۔ کچھ لوگ بھوکے ہیں، کچھ لوگ پر بم برسائے جا رہے ہیں، کچھ لوگ 100 فیصد شہید ہو رہے ہیں۔ عالم کو ـ خواہ وہ یونیورسٹی والا عالم ہو خواہ حوزہ علمیہ کا عالم ہو ـ حق کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔ غیر جانبدار بن کر تماشا دیکھنا عالم کے لئے جائز نہیں ہے۔
آج ہمیں ملک کے علمی اور سائنسی اداروں کی جانب سے ایک تخلیقی قدم کی ضرورت ہے
میں نے کئی سال پہلے بھی مختلف علمی، سائنسی اور جامعاتی اجتماعات میں ایک بات کہی تھی اور وہ یہ تھی کہ میں نے کہا: کہا جاتا ہے کہ ہمارے نُمُوْ کی رفتار زیادہ ہے، لیکن ہمیں اس پر مغرور نہیں ہونا چاہئے، ہمیں مغرور نہیں ہونا چاہئے کہ اب جو ہماری شرح نُمُوْ کی رفتار تیز ہے، اس لئے کہ ہم نُمُوْ کی تیز رفتاری کے باوجود سائنس میں ابھی، دنیا کی نسبت اور سائنسی دنیا کی نسبت، پیچھے ہیں، سائنسی لحاظ سے پیچھے ہیں۔
ہمیں سائنسی ترقی کے ایک نئے باب میں داخل ہونے کے لئے تیار ہونا چاہئے، یعنی یہ درست ہے کہ سائنس کے میدان میں بڑی ترقی ہوئی ہے اور سائنسی پیشرفت اچھی رہی ہے لیکن آج ہمیں ملک کے سائنسی اداروں کی جناب سے ایک جدت پر مبنی تخلیقی قدم اٹھانے کی ضرورت ہے، تاکہ پیچھے نہ رہیں۔
میں نے بارہا کہا ہے کہ " اَلعِلْمُ سُلْطانٌ" علم طاقت ہے۔ اگر ہم چاہیں کہ ہمارا ملک دنیا کو ممالک کو درپیش روایتی مسائل سے محفوظ رکھنا چاہیں، تو ایک اہم اور پہلے درجے کا کام سائنسی ترقی ہے۔ اگر پیچھے رہیں تو زدپذیر اور غیر محفوظ ہونگے۔
مستقبل روشن اور حوصلہ افزا ہے
ایک مستعد اور باصلاحیت قوم ترقی کر سکتی ہے لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ ترقی کے مواقع ہمیشہ میسر ہوں۔
مستقبل روشن اور حوصلہ افزا ہے، افق، ایک روشن افکر ہے۔ لیکن تجربات اور ماضی کے حقائق ہم سے کہتے ہيں کہ "حال حاضر" سے فائدہ اٹھانا چاہئے، موجودہ حالات، موجودہ [دستیاب] مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے۔
آج، بحمد اللہ، جب ملک پر نظر دوڑاتا ہوں تو دیکھتا ہوں، ترقی کے لئے عزم بھی موجود ہے، ارادہ بھی بھی موجود ہے، صلاحیتیں بھی موجود ہیں، تو اس سے فائدہ اٹھائیں۔ اگر ہم اس موقع سے فائدہ نہ اٹھائیں جبکہ "عزم بھی ہے اور کر گذرنے کی صلاحیت بھی ہے"، تو ہم ظلم کے مرتکب ہوئے ہیں۔
فیکلٹی پروموشن کی شرط کی خاطر، سائنسی مقالے کو بنیاد بنانا، معقول نہیں ہے
مجھے اس بات میں کوئی شک نہیں ہے، کہ ہمیں دنیا کی سائنسی مسابقت میں شریک رہنا چاہئے؛ لیکن فیکلٹی پروموشن کی شرط کی خاطر، سائنسی مقالے کو بنیاد بنانا معقول اور منطقی نہیں ہے۔ یہ کہ ہم تمام اساتذہ اور فیکلٹی ممبران کو پابند بنائیں کہ "اگر پروموشن چاہتے تو فلان مشہور میگزین، یا دنیا کے فلان مرکز میں امتحاد دینا پڑے گا، اور اپنا رتبہ متعین کرو" میں اس کو منطق کے مطابق نہیں سمجھتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110