نوآم چامسکی نے الجزیرہ سے بات چیت کرتے ہوئے، یہودی ریاست اور امریکہ کے درمیان موجودگی کشیدگی کو بہت اہم قرار دیا اور کہا کہ اسرائیلی قیادت پہلی مرتبہ امریکی قیادت سے الگ ہو چکی ہے۔
الجزیرہ سے نوآم چامسکی کے مکالمے کے اہم نکات:
– یہ درحقیقت پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے کہ اسرائیلی قیادت امریکی قیادت سے علیحدہ ہوئی ہے، اور نیتن یاہو کی نئی حکومت بالخصوص اس کی کابینہ کے اہم ارکان “ایتامار بن گویر اور بزالل اسموتریچ” نے امریکہ سے بڑی آسانی سے کہہ دیا کہ “جاؤ، دفع ہو جاؤ”۔
نیتن یاہو نے یہ کہہ کر بڑے تلخ انداز سے اظہار خیال کیا ہے کہ “ہم ایک آزاد اور خودمختار ملک ہیں، اور جو چاہیں کر گذرتے ہیں اور جو کچھ تم امریکی کہہ رہے ہو وہ ہمارے لئے غیر اہم ہے”۔ یہ پہلی مرتبہ ہؤا ہے اور معلوم نہیں ہے کہ امریکہ اس کا کیا جواب دے گا۔ [اور یہ کہ جواب دے گا بھی یا نہیں!]۔
اسرائیل کی ابتدا سے لے کر اب تک، پہلی بار دو یا تین ہفتے قبل، ایک امریکی قانون ساز نے ایوان نمائندگان کو ایک قانونی مسودہ متعارف کرایا جس میں اس نے امریکی نظام حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ “امریکی قانون کو مد نظر رکھے اور اسرائیل کو دی جانے والی مالی امداد پر نظر ثانی کرے”۔ میرا خیال ہے کہ یہ ساری باتیں ایک ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں اور یہ مستقبل قریب میں بڑی تبدیلیوں کا سبب بن سکتی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ تبدیل شدہ صورت حال امریکی رائے عامہ کے اندر آنے والی گہری تبدیلیوں کی عکاسی کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل جب امریکی صدر جو بائیڈن نے صہیونی ریاست کی نئی کابینہ کی پیش کردہ عدالتی اصلاحات پر مبنی مجوزہ ترمیم کی مخالفت کی تو صہیونی کابینہ کے وزیر داخلہ ایتامار بن گویر سمیت نیتن یاہو کی کابینہ کے ارکان نے شدید رد عمل ظاہر کیا اور بائیڈن کی تنقید کو اسرائیل کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا اور بن گویر نے یہ تک بھی کہا کہ “بائیڈن کو جان لینا چاہئے کہ اسرائیل [اس کے بقول] ایک خودمختار ملک ہے اور یہ امریکی پرچم پر لگے ستاروں میں سے ایک ستارہ نہیں ہے۔
نیتن یاہو نے بھی اپنے ٹویٹر پیغام میں اپنی مجوزہ ترمیم کو درست قرار دیا اور عدالتی نظام میں ساختیاتی تبدیلیوں پر اپنی مجوزہ ترمیم کا دفاع کیا۔
یاہو نے بائیڈن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا: “اسرائیل [بقول اس کے] ایک خودمختار ملک ہے، جو اپنے فیصلے اپنے عوام کے مفادات کو مد نظر رکھ کر کرتا ہے، نہ کہ بیرونی دباؤ کے تحت، چاہے وہ دباؤ بہترین دوستوں کی طرف سے ہی کیوں نہ ہو”۔
واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان کشیدگی اس قدر آگے بڑھی ہے کہ سابق صہیونی وزیر اعظم یائیر لاپید نے اس کے منفی اثرات و نتائج کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔
لاپید نے ٹویٹر پیغام کے ضمن میں نیتن یاہو کابینہ کے موقف کی مذمت کرتے ہوئے لکھا کہ “اسرائیل کئی عشروں سے امریکہ کا بہترین اتحادی تھا لیکن اسرائیلی تاریخ کی انتہاپسند ترین کابینہ نے اس اتحاد کو نقصان پہنچایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242