22 اپریل 2023 - 00:25
اسیر بحرینی راہنما عبدالوہاب حسین کی حالت تشویشناک ہے ۔۔۔ سید احمد الوداعی

موصولہ رپورٹوں کے مطابق بحرینی آمر حمد بن عیسی آل خلیفہ کے عقوبت خانے میں عمر قید کی سزا پانے والے نامی گرامی بحرینی راہنما عبدالوہاب حسین کی حالت تشویشناک ہے۔

عالمی اہل بیت(ع) نیوز - ایجنسی - ابنا - کی رپورٹ کے مطابق بحرینی انسٹی ٹیوٹ برائے حقوق اور جمہوریت (Bahrain Institute for Rights and Democracy [BIRD]) کے ڈائریکٹر سید احمد الوداعی نے خبردار کیا ہے کہ بحرین کے گرفتار سیاسی راہنما عبدالوہاب حسین کی صحت کے بارے میں آل خلیفہ حکومت کی دانستہ بے حسی اور جیل سے باہر کے ہسپتالوں میں ان کا علاج کرنے سے حکومتی انکار سے ان کی جان کو سنجیدہ خطرہ لاحق ہے۔

الوداعی نے اپنے ٹوئیٹ پیغام میں زور دے کر کہا ہے کہ اس کے باوجود کہ عبدالوہاب حسین ایک معمر شخص ہیں اور انہیں چلنے پھرنے کے لئے عصا کا سہارا لینا پڑتا ہے، آل خلیفہ کے "جو" نامی جیلخانے کی انتظامیہ نے تقریباً 5 ماہ قبل ان پر مختلف قسم کی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

بحرینی انسٹی ٹیوٹ برائے حقوق و جمہوریت کے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ عبدالوہاب حسین کو صحت کے لحاظ سے پیچیدہ مسائل کا سامنا ہے، جن میں سب سے اہم مسئلہ انہیں درپیش غیر منظم ذیابیطس کا مرض ہے، جس کے لئے ماہر ڈاکٹروں کے توسط سے مسلسل طبی معائنات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اس وقت ان کی یہ بیماری اس قدر شدید ہے کہ ان کے پیروں کی جلد پھٹ چکی ہے۔

انھوں نے کہا: عبدالوہاب حسین پابند سلاسل ہونے سے پہلے اعصابی امراض میں مبتلا تھے لیکن خلیفی حکام نے انہیں دوا دینے سے انکار کیا، لیکن فوجی اسپتال میں انہیں منظم طبی خوراک فراہم کی جاتی تھی، جو پابندیوں کی وجہ سے روک دی گئی ہے اور وہ اس وقت علاج معالجے سے بالکل محروم ہیں۔

سید احمد الوداعی کا کہنا تھا کہ 10 ماہ قبل ان کے لئے ڈاکٹروں سے وقت لیا گیا تھا لیکن جیل کے خلیفی حکام نے انہیں پروگرام کے مطابق ڈاکٹروں کے پاس نہیں جانے دیا؛ اور ان کے دانتوں کا علاج بھی کئی ماہ قبل روک دیا گیا جس کی وجہ سے ان کی حالت تشویشناک ہو چکی ہے۔

سید الوداعی نے خلیفی وزیر صحت رشید بن عبداللہ آل خلیفہ سے مطالبہ کیا ہے کہ عبدالوہاب حسین کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرے اور انہیں فوری طور پر رہا کر دے۔

واضح رہے کہ شیخ حسن مُشَیمَع، شیخ عبدالجلیل المقداد، شیخ علی سلمان اور عبدالوہاب حسین نامی گرامی لبنانی علماء اور سیاسی راہنما ہیں جنہیں سنہ 2011ع‍ سے اب تک آل خلیفہ کے قیدخانوں میں پابند سلاسل رکھا گیا ہے اور انہیں مسلسل جبر و تشدد اور انسانی سہولیات سے محروم، رکھا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110