عالمی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی - ابنا - نے شہاب نیوز کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ مذکورہ ہوابازوں نے صہیونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے کل کے خطاب اور صہیونی عدلیہ کے اختیارات کم کرنے پر اس کے اصرار، پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے، فوج سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا ہے۔
صہیونی ٹی وی چینل 12 کے مطابق، یہ ہواباز صہیونی فضائیہ کے ایک بڑے حصے کو تشکیل دیتے ہیں، جو ہفتہ وار فوجی مشقوں کا اہتمام کرتے ہیں اور انھوں نے باضابطہ ہوابازوں کے ساتھ مل کر درجنوں کاروائیوں میں شرکت کی ہے۔
احتجاجی ہوابازوں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو غیر جمہوری قوانین کی منظور کے اپنے منصوبے سے باز آنے کا ارادہ نہیں رکھتا اور آمرانہ طرز حکومت کی طرف فیصلہ کن انداز سے آگے بڑھ رہا ہے چنانچہ ہمارے لئے اپنی خدمات جاری رکھنے کا امکان میسر نہیں ہے۔
اسی اثناء میں صہیونی فوج میں حاضر سروس 100 ڈاکٹروں نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ فوج میں اپنی خدمات جاری رکھنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
گذشتہ بدھ (22 مارچ 2023ع) کو بھی 100 پائلٹوں، خفیہ اداروں کے افسران، ڈرونز کے آپریٹرز اور کنٹرول ٹاورز میں مصروف عمل کارکنوں نے نیتن یاہو کے خلاف احتجاج کے طور پر اپنی خدمات جاری رکھنے سے انکار کیا تھا۔
ادھر ڈیلی ٹیلی گراف نے رپورٹ دی ہے کہ لندن کے دورے پر آنے والے نیتن یاہو کا جہاز اڑانے سے بعض پائلٹوں کے انکار کے بعد، اس کو اپنا دورہ برطانیہ مؤخر کرنا پڑا ہے۔
صہیونی اخبار ویب گاہ والا (Walla! NEWS) نے جمعہ (24 مارچ کو) لکھا کہ صہیونی فوج کی یونٹ "8200" میں مصروف عمل صہیونی ریزرو افسروں اور جوانوں نے، نیتن یاہو کے جمعرات (23 مارچ 2023ع) کے خطاب کے بعد ایک طومار پر مندرجہ فوجی خدمات سے کنارہ کشی پر مبنی تحریر پر دستخط کئے ہیں۔
یاد رہے کہ 8200 نامی یونٹ غاصب ریاست کی فوج کا الیکٹرانک بازو ہے جو لوگوں کے مکالمات سننے، کمپیوٹر پیغامات کی ڈی کوڈنگ، سائبر جنگ اور سائبر دفاع، مالویئرز یا مصانع خبیثہ (Malicious softwares = Malwares) کی تیاری پر مامور ہے اور ہر وہ کام کرتا ہے جو فنی آلات کے ذریعے، جاسوسی اور معلومات جمع کرنے اور دوسرے ممالک کو نقصان پہنچانے کے کام آتا ہے۔
واضح رہے کہ نیتن یاہو کی سربراہی میں صہیونی ریاست کی نئی حکومت نے اس سال چار جنوری (2023ع) کو صہیونی پارلیمان (کنیسٹ) میں صہیونی عدالتی نظام کی اصلاح کا ترمیمی بل پیش کیا۔ نیتن یاہو، جس پر گذشتہ کئی برسوں سے بدعنوانی، رشوت ستانی اور امانت میں خیانت جیسے الزامات میں، مقدمہ چل رہا ہے، "عدالتی نظام کی اصلاح" کے بہانے مقدمہ سے جان چھڑانے چکر میں ہے۔
نیتن یاہو، جو کسی وقت صہیونیوں کی قوت کی علامت کہلوا رہا تھا، اس وقت جعلی ریاست کی تباہی کا نشان بنا ہؤا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110