اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سعید خطیب زادہ نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، بحثیت ایک ملک جو اپنے قیام کے ابتدا ہی سے مختلف قسم کی معاشی اور سیاسی اندھادھند دہشتگردی کا شکار رہا ہے، اس حوالے سے اپنے قیمتی تجربات سے دہشتگردی سے متاثرہ تمام افراد کیساتھ کھڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے متاثرہ افراد ساتھ کھڑے ہونا دہشتگردی کیخلاف جنگ کی طرح بہت ہی ضروری ہے، کیونکہ دہشتگردی کے واقعے میں کسی عزیز کا نقصان بھی کسی دوسرے نقصان سے زیادہ تکلیف دیتا ہے ، کیونکہ ان پیاروں کا درد ہے گہری دہشتگردی کا شکار کسی دوسرے درد کے مقابلے میں زیادہ تکلیف دہ ہے؛ وہ بغیر کسی بیچوان کے ناانصافی، ظلم اور وحشت کا تجربہ کرتے ہیں۔
خطیب زادہ نے کہا کہ آج ، جب ہم دہشتگردی کے متاثرین کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں، دہشتگردی کا شکار لواحقین کی بھاری ذمہ داری پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، ان کو اس ناانصافی پر بڑا غصہ ہے اور ناانصافی کے غصے کو بدلنا چاہتے ہیں اور وہ ناانصافی کے اس غصے کو ایک عظیم چیز میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں تاکہ اس مذموم لعنت کے تسلسل کو روکا جا سکے۔
ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ اس مشترکہ درد کی اکیلے برداشت کرنا ممکن نہیں ہے، اس کی برداشت کیلئے عالمگیر عزم کی ضرورت ہے لہذا اسلامی جمہوریہ ایران، بحثیت ایک ملک جو اپنے قیام کے ابتدا ہی سے مختلف قسم کی معاشی اور سیاسی اندھادھند دہشتگردی کا شکار رہا ہے، اس حوالے سے اپنے قیمتی تجربات سے دہشتگردی سے متاثرہ تمام افراد کیساتھ کھڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم دہشتگردی کیخلاف جنگ میں دنیا کے ہر کسی ملک سے زیادہ قربانیاں دی ہیں اور اس حوالے سے ہمارے عظیم الشان اور بہادر کمانڈر جنرل سلیمانی شہید ہوگئے۔ و دہشتگردی کیخلاف جنگ کے ہیرو ہیں جو امریکی ریاستی دہشتگردی میں شہید کیے گئے۔
خطیب زادہ نے کہا کہ ہم اس شہادت کو دہشتگردی کیخلاف جنگ میں اپنی عزت اور قربانی سمجھتے ہیں؛ ایٹمی سائنسدانوں کا قتل، انجینئر فخری زادہ کا قتل اور بہتر اور زیادہ باوقار دنیا کے لیے کام کرنے والے ہزاروں آزاد لوگوں کے قتل نے ایران جیسی عظیم قوم کو دہشتگردی کا شکار متاثرہ ملک میں بدل کردیا ہے اسی وجہ سے شاید کسی دوسرے ملک سے زیادہ، ہم لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے کیلئے دروازے کھول سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے بچوں نے اپنے آپ کو قربان کیا تاکہ دہشتگردی اور ریاستی دہشتگردی اور منظم دہشت گردی خطے کے مختلف حصوں سے امن اور استحکام نہ چھین سکے۔
خطیب زادہ نے کہا کہ ہم یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہے ہیں کہ دو جڑواں مسائل یعنی دہشت گردی اور انتہا پسندی، موجودہ بین الاقوامی صورتحال خاص طور پر حالیہ تبدیلیوں اور مختلف سطحوں پر کچھ سیاسی بہانوں کی نا اہلی کا نتیجہ ہیں اور کسی خاص مذہب کیلئے مخصوص نہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی؛ انتہا پسندانہ خیالات، مذموم اور شیطانی مقاصد اور ناکارہ اور ناجائز ذرائع سے حاصل ہوتی ہے۔ کوئی آزاد آدمی مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال کو دیکھ کر اس صورتحال کو پیدا کرنے میں لاپرواہ اور بدنام سیاستدانوں کے کردار کو انکار اور نظر انداز نہیں کر سکتا۔
خطیب زادہ نے کہا کہ وہ سیاست دان جو خطے میں جنگ کی آگ کو آسانی سے روشن کرتے ہیں اور جنگ کو اس خطے میں ایک قدرتی اور عام حقیقت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے اس طرح کی جنگوں کیساتھ انتہا پسندی کے فروغ کیلئے انتہائی حساس ماحول فراہم کیا ہے اور جب آگ بھڑکتی ہے تو وہ بغیر کسی ذمہ داری کے جائے وقوع سے نکل جاتے ہیں اور بھاگ جاتے اور بغیر کسی شرم کے وہ اپنی کامیابیوں کے بارے میں جھوٹ بولتے ہیں، سمپوزیم منعقد کرتے ہیں اور لیکچر دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج ہم مظلوم اور پیارے افغانستان میں جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ ریاستی دہشت گردی ہے۔ افغانستان سے قابضوں کا غیر ذمہ دارانہ اور مکروہ انخلا، اس انتہاپسندانہ منطق کو ظاہر کرتا ہے۔
خطیب زادہ نے کہا کہ آج مغربی معاشرہ اور مغربی ممالک اچھی طرح جانتے ہیں کہ امریکہ اور مغربی ممالک کی فوجی مہم جوئی ہمارے خطے میں دہشت گرد گروہوں جیسے کہ داعش اور جبہت النصرہ کے ظہور اور نمو کی راہ ہموار کرتی ہے۔
ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک تشدد اور انتہاپسندی سے پاک دنیا بنانے میں پختہ عزم رکھتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲