23 اگست 2021 - 07:59
حرم تقریبات کے پر امن انعقاد پر انجمن شرعی کا اظہار اطمینان تمام متعلقین کا شکریہ

علما کونسل نے عزاداروں کی طرف سے مجالس و جلوس ہائے عزا کے دوران احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے اور آپسی بھائی چارے کو قائم رکھنے کے جذبہ کو سراہتے ہوئے جملہ عزادارن سید الشہدا ؑ کے تئیں نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عشرہ محرم کی خصوصی تقریبات کے پر امن اور شایان شان انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انجمن شرعی شیعیان کی علماء کونسل زیر سرپرستی حجت الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے تمام متعلقین بشمول عزادارن ،خطیب و ذاکرین ،نواح خوانوں اور گرانقدر خدمات انجام دینے والی انجمنوں اور تنظیمی اراکین و عاملین کا پر خلوص شکریہ ادا کیا۔

علما کونسل نے عزاداروں کی طرف سے مجالس و جلوس ہائے عزا کے دوران احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے اور آپسی بھائی چارے کو قائم رکھنے کے جذبہ کو سراہتے ہوئے جملہ عزادارن سید الشہدا ؑ کے تئیں نیک خواہشات کا اظہار کیا علما کونسل نے 8 اور 10 محرم کے تاریخی عاشورا جلوسوں پر مسلسل پابندی کی پر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے امسال قدغن ہٹانے کے گمراہ کن حکومتی اعلان کو عالمی برادری کے آنکھوں میں دھول جھونکنے کی سعی ناکام قرار دیا اور لال چوک سرینگر میں عزاداروں پر وحشیانہ پولیس تشدد کی مذمت کی بیان میں علما کونسل نے میر واعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق کی مسلسل خانہ نظر بندی اور شیعہ عالم دین مولوی منظور احمد ملک کی گرفتاری کے خلاف شدیدردعمل ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ علماے دین کو ہراساں کرکے انھیں اپنی منصبی ذمہ داریوں سے روکنے سے نہ ہی کشمیر کے زمینی حقائق اور صورتحال کو تبدیل کیا جا سکتا ہے اور نہ عوام کی اضطرابی کیفیت کا رخ موڑا جا سکتا ہے۔

علماء کونسل نے مولوی منظور احمد ملک کی بلاجواز اور بلا وجہ گرفتاری پر صداے احتجاج بلند کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری قوم اس وقت اپنی سیاسی تاریخ کے ایک کربناک مرحلے سے گذر رہی ہیں جہاں حق و انصاف کی آواز دبانے کے لئے انتہائی جابرانہ حربے بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور دینی و تبلیغی سرگرمیوں کو مسدود کرنے کے لئے علماے دین کو ہراساں کیا جا رہا ہیں۔

علما کونسل نے اپنے بیان میں مولوی منظور احمد ملک کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے افسوس ظاہر کیا کہ موصوف کو عشرہ محرم سے پہلے ہی گرفتار کرکے محرم تقریبات میں شرکت کرنے اور اپنی منصبی ذمہ داری کی ادائیگی سے روکا گیا جو سراسر مداخلت فی الدین ہے میر واعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق کی مسلسل خانہ نظر بندی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے علما کونسل نے وادی کے قدیم ترین دینی مرکز جامع مسجد سرینگر میں 3 سال سے مسلسل نماز جمعہ اور دیگر دینی سرگرمیوںپر قدغن کو کشمیری عوام کے دینی جذبات کو مجروح کرنے کی بدترین مثال قرار دیا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲

۔