اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل اور ان کے ہمراہ وفد جو عراق کے دورے پر ہیں نے عراق کے سابقہ وزیر اعظم اور اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جنرل اسمبلی کے رکن جناب نوری مالکی سے ملاقات کی۔
قاسم سلیمانی، بین الاقوامی میدان کے شہید مزاحمت ہیں
آیت اللہ "رضا رمضانی" نے اس ملاقات میں اسلام میں مزاحمت کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: قرآن کی آیات میں مزاحمت اور جہاد دونوں چیزیں موجود ہے اور عقلی دلائن کی بنا پر ان کی وضاحت کی جاسکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: "دوسروں کی زمینوں پر قبضہ، ظلم اور استحصال اسلام میں مزاحمت کے مقاصد کا حصہ نہیں ہیں ، بلکہ مزاحمت کا ہدف کلمہ حق کو بلند کرنا اور مظلوموں کو ظالموں کے چنگل سے آزاد کرنا ہے۔ آمریت پسندی اور ناجائز تسلط کا مقابلہ کرنا اس کے دیگر مقاصد میں شامل ہے۔
انہوں نے عراقی عوام کے درمیان سامراجی نظام کا مقابلہ کرنے کی فکر کے بارے میں کہا: میں نے عراق کے پڑھے لکھے طبقے، قبیلوں کے سرداروں اور جوانوں سے ملاقاتیں کی ہیں میں نے ان میں یہ محسوس کیا کہ سامراجی نظام کا مقابلہ کرنا ان کا بنیادی نظریہ ہے اور یہ چیز انقلاب اسلامی اور امام خمینی (رہ) کی بدولت وجود میں آئی ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا: آج مزاحمت ایک بین الاقوامی اور عالمی مکتب فکر میں تبدیل ہو چکی ہے اور شہید قاسم سلیمانی بین الاقوامی سطح کی مزاحمت کے شہید ہیں۔
انہوں نے سامراجی نظام کو پہنچنے والے مسلسل شکست کے بارے میں کہا: عالمی استکبار نے بحرین، عراق اور افغانستان کے لیے کافی خرچہ کیا لیکن وہ شکست سے دوچار ہوا، لیکن مزاحمتی مکتب فکر عالمی طاقت کا حامل ہو گیا ہے۔ قومی اور بین الاقوامی اتحاد اس مزاحمتی فکر کو مزید طاقتور بنا سکتا ہے۔ لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام کو درست، گہرائی اور گیرائی کے ساتھ دنیا میں متعارف کروایا جائے۔
آیت اللہ رمضانی نے مزید کہا: ہم مزاحمت کو عین عقلانیت اور رحمت الہی سمجھتے ہیں۔ اور پورے انسانی معاشرے کو اس رحمت سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
انہوں نے اسلامی وحدت کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اسلامی وحدت کو صرف ایک تاکتیک کے عنوان سے نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ وحدت قرآن اور اہل بیت (ع) کا طریقہ کار ہے۔ نیز ہر طرح کی انتہا پسندی چاہے وہ شیعہ مکتب فکرمیں ہو یا سنی، اس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔
اپنی تقریر کے دوسرے حصے میں، اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے کہا: مذہبی سیاست کے انچارج افراد کو چاہئے کہ وہ سیاست کے میدان کے اصولوں اور بنیادوں پر سنجیدگی سے غور کریں اور میکیا ویلین ازم کے نظریہ سے نفرت کریں جو اسلامی ممالک میں رائج ہے۔
نوری المالکی سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے کہا: "آپ نے عملی طور پر ثابت کیا ہے کہ آپ بلند مقاصد کے حصول کے لئے عراق کے اتحاد کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ خود کا مرجعیت کا تابع سمجھتے ہیں اور یہ ولایت اور مرجعیت کو ماننے کی نشانیاں ہیں ۔
اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے بیان کیا: دنیا کو سیاسی اور معاشرتی اسلام کا احساس ہوگیا ہے اور ہم انسانی معاشروں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لئے انتہائی درست مفاہیم پیش کرسکتے ہیں۔ آج آزمائش اور خطرے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اور ہماری سب سے چھوٹی غلطی بڑے نتائج کا خطرہ ہوسکتی ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا: "آج ہم ایک زبردست تحریک میں ہیں اور ہم اسلامی تہذیب کی راہ میں ایک قدم اٹھانا چاہتے ہیں اور ہر چیز کو امام الزمان علیہ السلام کے ظہور کا پیش خیمہ بنانا چاہتے ہیں۔" دوسری طرف، ظہور کا سب سے اہم جزو انسانی معاشروں میں انصاف کا حصول ہے۔ امام خمینی (رہ) کہتے تھے کہ اگر ہم آیت "أَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ مَثْنَى وَفُرَادَى" پر عمل کریں تو مسلمانوں کا وقار حاصل ہوجائے گا۔
عراق میں دشمن شیعہ بغاوت پیدا کرنے کے درپے ہیں
سابق عراقی وزیر اعظم نوری المالکی ، جو اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کی جنرل اسمبلی کے ممبر ہیں، نے اس ملاقات میں کہا: "ماضی میں ، کچھ لوگ سیاست کو نجس سمجھتے تھے اور ان کا یہ ماننا تھا کہ صرف مساجد کا رخ کریں اور عبادت کے احکام بیان کریں لیکن اب ان باتوں کا زمانہ گزر گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: اسلام کے آغاز کی تاریخ میں، ہم نے پڑھا ہے کہ نبی اکرم (ص) کے زمانے میں مسجد نبوی حکمرانی کا مرکز تھا اور مسجد میں امن و جنگ اور معاشی فیصلے کیے جاتے تھے۔
سابق عراقی وزیر اعظم نے مزید کہا: "روایات کے مطابق ، اگر کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کی مظلومیت کی آواز سنتا ہے تو اسے اس آواز کا جواب دینا چاہئے اور اس کی مدد کرنی چاہئے۔ یہ کام سیاسی میدان میں داخل ہوئے بغیر ممکن نہیں ہے۔ فلسطین کے مظلوم عوام کی مدد کرنا سیاسی میدان میں داخل ہو کر ہی ممکن ہو گا۔
نوری المالکی نے اسلامی انقلاب کی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: شہید صدر نے کہا کہ امام خمینی (رہ) نے انقلاب اسلامی کی فتح کے ساتھ انبیاء الہی کی خواہش کو پورا کیا، اور انقلاب اسلامی کی فتح کے بعد ، اسلامی تحریکیں ابھر کر سامنے آئیں۔
انہوں نے مزید کہا: "امریکہ کو خدشہ ہے کہ ایک عالمی اتحاد تشکیل پا جائے جس کا مرکز ایران ، عراق ، لبنان ، شام ، بحرین اور افغانستان جیسے ممالک میں قائم ہو، یہ ممالک معاشی طاقتیں ہیں اور وہ امریکہ کے حریف محور کی تشکیل کے قابل ہیں۔ امریکہ اس محور کی تشکیل کو روکنے کے لئے کوشاں ہے۔
اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کی جنرل اسمبلی کے ممبر نے مزید کہا: "ہم امت اسلامیہ میں اتحاد پیدا کیے بغیر کچھ نہیں کرسکتے ، اور اہل بیت عالمی اسمبلی کا ایک اہم کام مسلمانوں کو اکٹھا کرنا ہے۔
عراق میں ہونے والی پیشرفت کا ذکر کرتے ہوئے نوری المالکی نے کہا: "عراق میں دشمن شیعہ بغاوت پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اس ملک میں شیعوں کو آپس میں لڑا کر نقصان پہنچائیں۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲