اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جناب ابوطالب(ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی کانفرنس تین سال علمی، ادبی، ثقافتی اور تبلیغی سرگرمیوں کے بعد آخر کار اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی اور دیگر ہم خیال اداروں کے باہمی تعاون سے رواں سال فروری کے مہینے میں منعقد ہو رہی ہے۔
اس کانفرنس کی سرگرمیوں میں سے کچھ اہم سرگرمیاں جناب ابوطالب کے بارے میں تاریخی آثار کا احیاء، تحقیق، تصحیح اور ترجمہ ہے نیز "پیغمبر اکرم (ص) کے نزدیک جناب ابوطالب کا مقام شیعہ سنی منابع میں" کے زیر عنوان رسالے کا سلسلہ جاری ہے۔
شرح قصیدہ لامیہ مولف سردار کابلی کے تعارف کے بعد اس حصے میں دوسرے اثر کا تعارف پیش کیا جا رہا ہے؛
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۔ جناب ابوطالب(ع) کے قصیدہ لامیہ کا ترجمہ
نام: ترجمہ لامیہ حضرت ابوطالب علیہ السلام
زبان؛ فارسی
مترجمین: محسن احمدی تہرانی، عبد اللہ موحدی محب آرانی
کوشش: محمد مہدی صباحی کاشانی
طباعت: موسسہ فرہنگی تحقیقات و نشر حضرت ابوطالب(ع)
طبع اول: 1440ھ ق
آئی ایس بی این: 978-622-95539-4-7
صفحات کی تعداد: 82
کتاب کے فصلیں
۔ مقدمہ ( جناب ابوطالب کے شاعر ہونے اور آپ کے قصیدہ لامیہ کے بارے میں علماء کا نظریہ، قصیدہ لامیہ کا مقصد، قصیدہ کا اعتبار، قصیدہ کے ابیات کی تعداد، قصیدہ کی شروح اور تراجم، سپاس و شکریہ)
۔ قصیدہ لامیہ اور اس کا فارسی ترجمہ
۔ کتابنامہ
نیز اس کتاب کے آخر میں ابوطالب تحقیقاتی سینٹر کے ذریعے چھپی گئی کتابوں کی فہرست بھی دی گئی ہے۔
وضاحت
جناب ابوطالب(ع) قبل اسلام اور صدر اسلام کے معروف عرب شاعروں میں شمار ہوتے تھے ابن شہر آشوب (متوفی ۵۸۸) کے بقول آپ نے ۳۰۰۰ بیت اشعار کہے ہیں جو ان کے ایمان کی نشانی بھی ہے، تقریبا ۷۰۰ بیت اشعار رسول خدا اور صدر اسلام کے واقعات کے حوالے سے ہیں۔ جیسے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دینا، بادشاہ حبشہ کو مسلمان ہونے کی دعوت دینا، یا دشمنان اسلام کی مذمت کرنا۔
آپ کا سب سے بڑا اور مضبوط قصیدہ "قصیدہ لامیہ" کے نام سے ہے کہ جو پیغمبر اکرم (ص) کی مدح و ثنا میں لکھا گیا ہے اور شیعہ سنی علماء نے اسے نقل کیا ہے۔ یہ قصیدہ ایک ادبی شاہکار بھی شمار ہوتا ہے۔ جیسا کہ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ "قصیدہ لامیہ اس قدر فصیح و بلیغ ہے کہ خود شاعر کے علاوہ کوئی ایسا قصیدہ کہنے کی طاقت نہیں رکھتا"۔
قصیدہ لامیہ پر طول تاریخ میں شیعہ سنی علماء نے شرح کی ہے اور اسے دوسری زبانوں میں ترجمہ کیا ہے۔ لیکن مذکورہ کتاب واحد وہ کتاب ہے جس میں یہ قصیدہ مکمل ترجمہ کیا گیا ہے۔
قصیدہ لامیہ کی جمع آوری سے متعلق مختصر وضاحت
قصیدہ لامیہ طول تاریخ میں درج ذیل طریقے سے جمع آوری ہوا ہے:
- البدایة والنهایة و السيرة النبوية، دو اثر «ابن کثیر»: 83 بیت
- السیرة النبویة، اثر «ابن هشام»: 94 بیت
- دیوان ابوطالب، جمع آوری شده توسط «عبدالحق العانی»: 96 بیت
- المناقب والمثالب، اثر «قاضی نعمان المغربی»: 107 بیت
- دیوان ابوطالب، جمع آوری شده توسط «دکتر محمد التونجی»: 110 بیت
- دیوان ابوطالب، جمع آوری شده توسط «ابوهفان البصری»: 111 بیت
- ناسخ التواریخ، اثر «محمدتقی لسان الملک سپهر»: 112 بیت
- دیوان ابوطالب، جمع آوری شده توسط «علی بن حمزه تمیمی»: 115 بیت
- الصحیح من سیرة النبي الاعظم(ص)، اثر «سید جعفر مرتضی العاملی»: 118 بیت
- الدرة الغرّاء في شعر شیخ البطحاء، جمع و تحقیق و شرح «باقر قربانی زرین»: 120 بیت
- ابوطالب شاعر الرسول الأعظم(ص)، اثر «محمدمهدی صباحی کاشانی»: 133 بیت
حضرت ابوطالب (ع) تحقیقی سینٹر جو " حضرت ابوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظم بین الاقوامی کانفرنس" کو منعقد کرنے والوں میں شامل ہے، نے اس کتاب کو دوبارہ زیور طبع سے آراستہ کیا ہے۔
جناب محسن احمدی تہرانی اور عبد اللہ موحدی محب آرانی اس کتاب کے مترجمین ہیں، جو حوزہ علمیہ قم کے اساتید میں شامل ہیں۔ نیز علی فاضل سعدی جو عربی زبان کے استاد ہیں نے بھی اس کتاب کے ترجمہ میں تعاون کیا ہے۔
یہ کتاب مذکورہ سینٹر کی چوتھی کتاب ہے جو رسول خدا کے نزدیک جناب ابوطالب کے مقام کے حوالے سے منظر عام پر آئی ہے۔
خیال رہے کہ "جناب ابوطالب(ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار'' اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے ذریعے اور دیگر ہم خیال اداروں منجملہ آستان مقدس حسینی، موسسہ فرھنگی تحقیقات و نشر حضرت ابوطالب، مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی، دفتر تبلیغات اسلامی، جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ، مرکز آموزش زبان حوزہ ہائے علمیہ، اہل بیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی، موسسہ فرہنگی میراث نبوت، جامعۃ الزہرا(س)، الذریہ النبویہ تحقیقی سینٹر، موسسہ فرہنگی قاسم بن الحسن(ع)، موسسہ فرہنگی ابناء الرسول، وغیرہ کے باہمی تعاون سے منعقد کی جا رہی ہے۔
مقالات اور علمی آثار بھیجنے کی آخری تاریخ 6 فروری 2021 ہے اور سیمینار کے بارے میں مزید جانکاری کے لیے فارسی، عربی، انگریزی اور اردو کے پوسٹرز کو یہاں سے حاصل کر سکتے ہیں۔
جناب ابوطالب عالمی مشاعرہ کانفرنس بھی اس سیمینار کے ضمنی پروگراموں کا حصہ ہے۔
........
242