3 جنوری 2021 - 19:51
تیسری عالمی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے: راجہ ناصر جعفری

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیسری عالمی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے یہ پہلی اور دوسری عالمی جنگ کی طرح روایتی جنگ نہیں بلکہ دشمن منظم انداز سے میں ایک پیچدہ جنگ میں دھکیل رہا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عراق میں امریکی جارحیت کا نشانہ بنے والے امت مسلمہ کے عظیم لیڈر قاسم سلیمانی، ابومہدی المہندس ودیگر شہداء کی برسی کے سلسلے میں تقریب کا انعقاد شہداء شمع بزم عاشقان کے عنوان سے نیو رضویہ سو سائٹی میں منعقد ہواتقریب میں ملک کی نامور مذہبی جماعتوں کے قائدین، علما کرام، مشہور شعراء کرام و منقبت خواں سمیت بڑی تعداد میں مرو و خواتین ،بزرگوں اور بچوں نے شرکت کی۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیسری عالمی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے یہ پہلی اور دوسری عالمی جنگ کی طرح روایتی جنگ نہیں بلکہ دشمن منظم انداز سے میں ایک پیچدہ جنگ میں دھکیل رہا ہے عالمی سرمایہ دارانہ نظام پوری دنیا کو اپنے شکنجے میں رکھنا چاہتا ہے اپنے ان عزائم کے حصول کے لیے مشرق وسطی سمیت تمام تجارتی مراکز پر غلبہ پانا امریکہ کا اولین ہدف ہے قاسم سلیمانی وہ شخصیت تھے جو امریکہ کے خلاف جاری مزاحمت کی سرپرستی کر رہے تھے اس جرات مند سپہ سالار نے امریکی عزائم کو قدم قدم پر شکست دی اس مو قع پر مقررین سے خطاب میں علامہ حسن ظفر نقوی کا کہنا تھا قاسم سلیمانی نے گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو کامیاب نہ ہونے دیا۔

انہوں نے کہا جو کوئی اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی بات کرتا ہے وہ ارض پاک کے ساتھ بددیانتی کا مرتکب ہو رہا ہے امریکہ نے داعش کو تقویت دینے کے لیے قاسم سلیمانی کو شہید کرایا امریکہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے شہید قاسم سلیمانی پر حملہ عراق کی خود مختاری پر حملہ اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے شہید قاسم سلیمانی شیعہ سنی اتحاد کے داعی تھے اورعالم اسلام کو یکجا کرنے میں اہم کردار ادا کررہے تھے امریکہ نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ عالمی امن کا بدترین دشمن ہے امریکہ کے خلاف آج کا اجتماع اس بات کا اعلان ہے کہ ہم امریکہ کو نا ہی سپر پاور اور نہ ہی اس کے فیصلوں کو آخری فیصلہ تسلیم کرتے ہیں تقریب میں علامہ احمد اقبال،علامہ مرزا یوسف حسین،علامہ باقر حسین زیدی،علامہ باقر عباس زیدی،شبر رضا ،رضی حیدر رضوی، مولانا نشان حیدر ،،مولانا علی انور جعفری،میر تقی ظفر سمیت دیگر علما بھی شریک تھے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲