اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ گزشتہ سے پیوستہ
جانے پہچانے اور ناقابل انکار اور تسلیم شدہ طاغوت کی گود میں بیٹھے، ملکہ کے پیروکار، دنیا بھر میں طاغوت کی کسی بھی حکومت پر نہ صرف انگلی نہیں اٹھاتے بلکہ ان کی مداحی کو اپنا فریضہ سمجھتے ہیں یہاں تک کہ ملکہ کے لئے جعلی شجرہ نسب تیار کرکے اس کو سیادت کا رتبہ دیتے ہیں لیکن ایران میں قائم اسلامی حکومت اور امام زمانہ(ع) کے ظہور سے پہلے قائم ہونے والی کسی بھی حکومت کو طاغوت کی حکومت قرار دیتے ہیں اور اسلامی حکومت کے قیام کی ضرورت کے سلسلے میں بے شمار آیات کریمہ اور احادیث شریفہ کو نظرانداز کرکے ایک خاص روایت کے سہارے، مختلف روشوں سے اسلامی جمہوریہ کی تنقیص کرتے ہیں اور پوری دنیا میں واحد شیعہ حکومت پر یلغار کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کی باتوں سے حتّٰی کہ امام حسین علیہ السلام کا قیام بھی زیر سوال آتا ہے چہ جائے کہ زید بن علی بن الحسین کا قیام، مختار بن ابی عبیدہ ثقفی کا قیام اور حتّٰی کہ یمانی کا قیام، جنہیں انگریزی شیعہ اس روش سے متنازعہ بنا رہے ہیں، جس سے لا محالہ ان کے دشمنوں کی حکومتوں کی تائید لازم آتی ہے؛ جبکہ:
زید بن علی کے قیام کے بارے میں امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: زید علمائے آل محمد(ص) میں سے تھے، جنہوں نے اللہ کی خاطر غضب کیا، اور اللہ کے دشمنوں کے ساتھ لڑے اور اسی راہ میں شہید ہوئے۔ (1) امام موسی کاظم علیہ السلام نے فرمایا: میرے چچا زید بن علی نے آل محمد(ص) کی خوشنودی کے لئے قیام کیا۔ (وہی مأخذ) اور دوسرے ائمۂ طاہرین علیہم السلام نے بھی زید کی تأئید اور توثیق کی ہے۔ (2)
امام زین العابدین علیہ السلام نے مختار بن ابی عبیدہ ثقفی کے قیام کی تأئید کرتے ہوئے فرمایا: *"يا عم لو أن عبدا زنجيا تعصب لنا أهل البيت، لوجب على الناس موازرته؛ اگر کوئی زنگی غلام بھی ہم اہل بیت(ع) کی مدد و نصرت کے لئے قیام کرے، تو لوگوں پر واجب ہے کہ اس کی پشت پناہی کرے۔ (3)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل بیت(ع) کی حمایت اور ان کے مکتب کی ترویج کے لئے قیام نہ صرف ممنوع نہیں بلکہ اگر کوئی قیام کرے تو دوسروں پر اس کی حمایت کرنا واجب ہے۔ امام محمد باقر علیہ السلام نے مختار کے بارے میں فرمایا: "أولم يبن دورنا ؟ وقتل قاتلينا ؟ وطلب بدمائنا ؟ فرحمه الله؛ کیا مختار وہی نہیں تھا جس نے ہمارے گھروں کو تعمیر کیا، قاتلوں کو ہلاک کردیا اور ہماری خون خواہی کی؟؛ پس اللہ کی رحمت ہو اس پر"۔ (4) ائمہ علیہم السلام کے ان ارشادات سے حکومت کی تشکیل اور حق و حقیقت کے تحفظ کی طاقت اور صلاحیت کا حصول ثابت ہوتا ہے۔
علاوہ ازیں یمانی کا پرچم بھی ظہور سے پہلے اٹھے گا جس کو اہل بیت(ع) نے ہدایت کا پرچم قرار دیا ہے۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: "وَلَيْسَ فِي الرَّايَاتِ رَايَةٌ أَهْدَى مِنْ رَايَةِ الْيَمَانِيِّ هِيَ رَايَةُ هُدًى لِأَنَّهُ يَدْعُو إِلَى صَاحِبِكُمْ؛ پرچموں کے درمیان یمانی کے پرچم سے زیادہ ہدایت یافتہ کوئی پرچم نہیں ہے؛ کیونکہ وہ لوگوں کو تمہارے صاحب کی طرف بلاتا ہے"۔ (5)
اگر ہم دیکھ لیں کہ کوئی حدیث معصومیں علیہم السلام سے نقل ہوئی ہے جس میں ظہور سے پہلے کسی بھی پرچم کو باطل کا پرچم سمجھتی ہے؛ تو پہلی بات تو یہ ایسی حدیث خاص حالات کے تناظر، کسی خاص سوال کے جواب میں، یا حالت تقیہ میں صادر ہوئی ہوگی کیونکہ اگر اس کو معمول کے اوقات میں صادر ہونے والی روایت سمجھا جائے تو زید، مختار اور یمانی کے پرچم پر بھی حرف آئے گا اور امر و نہی اور جہاد اور دوسرے فروع دین ـ بشمول نماز عید، نماز جمعہ، ـ کو ظہور تک معطل کرنا پڑے گا!! کیونکہ اگر انگریزی تشیّع کی اس گمراہانہ تبلیغ کو مان لیا جائے تو غیبت کے زمانے میں ظہور کی تمہید سازی کو روک لیا جائے گا؛ جہاد اور امر و بالمعروف اور نہی عن المنکر کو مکمل طور پر ترک کرنا پڑے گا، پوری طرح تقیہ اپنانا پڑے گا اور تبلیغ مذہب کو روکنا پڑے گا اور بےشک اس صورت میں وہابیت سے لے کر صہیونیت تک کو جولانیوں کا ماحول فراہم ہوگا اور وہ مکتب کے ہادیوں اور راہنماؤں اور مجاہدوں قتل کریں گے یا کروائیں گے، اور بےسروسامانی کی کیفیت میں وہی ہوگا جو دنیا کے بہت سے حصوں میں آج تک ہوتا چلا آیا ہے اور لاکھوں، کروڑوں انسان اپنے عقائد و احکام بھول جائیں گے اور لوگ اپنا تشخص کھو جائیں گے۔ یہ وہی چیز ہے جو انگریزی تشیع کرکے دکھانا چاہتا ہے۔ وہ تشیع کو ایک مردہ اور قابل نفرت مذہب میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔
ظہور سے قبل اٹھنے والے باطل کے پرچموں کو ـ جن میں سے آخر میں اٹھنے والا پرچم سفیانی کا پرچم ہے ـ نظر انداز کرکے یا ان پرچموں کے متعلقین کے ساتھ ہم پیالہ اور ہم نوالہ بن کر دنیا کے ایک ہی مقام پر بننے والی اسلامی حکومت اور ایک ہی ملک میں ان کے خلاف اٹھنے والے پرچم کو نشانہ بنانا، کیا لمحۂ فکریہ نہیں ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابو اسد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ حر عاملی، وسائل الشيعه، ج11، ص39، حدیث 11۔
2۔ مجلسي، بحارالانوار، ج46، ص199۔
3۔ مجلسي، بحارالانوار، ج45، ص365۔
4۔ مجلسي، بحارالانوار، ج45، ص343۔
5۔ نعمانی، الغیبة، ص361، باب 14، ح13۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲