16 جون 2010 - 19:30

عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی نے ایک بیان جاری کرکے سعودی عرب میں شیعہ ـ سنی پرامن بقائے باہمی کے منشور کی تیاری کا خیر مقدم کیا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں شیعہ اور سنی علماء کے دستخطوں سے جاری ہونے والے "پرامن بقائے باہمی کے منشور" کے حوالے سے سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی حجت الاسلام والمسلمین محمد حسن اختری نے شیخ قرنی اور شیخ صفار کے نام خط لکھ کر ان کے اس اقدام کا شکریہ ادا کیا اور اس قسم کے اقدامات کی ہمہ جہتی حمایت کا اعلان کیا۔ یاد رہے کہ سعودی عرب کے اعتدال پسند علماء نے اس منشور کا زبردست خیر مقدم کیا ہے۔

خط کا متن درج ذیل ہے:

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

«واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا»  صدق اللہ العلی العظیم

حضرت استاد جناب آقای شیخ عائض القرنی

حضرت حجت الاسلام والمسلمین جناب آقای حاج شیخ حسن صفار (دامت برکاتہما)

السلام علیکم و رحمة اللہ وبرکاتہ

اشرف مخلوقات، اکرم موجودات، فخر کائنات، محورِ وحدت حضرت ختمی مرتبت رسول اعظم محمد مصطفی صلی علیہ و آلہ و سلم کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے شیعہ سنی پرامن بقائے باہمی کے عنوان سے منشور کے اجراء کی خبر باعث صد مسرت ہوئی جو اس سرزمین کے تمام مسلمانوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سچے پیروکاروں کے لئے فرح و شادمانی کا باعث اور نہایت تحسین انگیز ہے۔

یہ دانشمندانہ اور حکیمانہ اقدام جو عالم اسلام کی موجودہ صورت حال سے ہمدرد اور دلسوز و مخلص اور آکاہ و مطلع علماء دین کے گہرے ادراک کی علامت ہے، قطعی طور پر اللہ کی رضا اور پیغمبر رحمت و رأفت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خوشی اور سرور کا سبب ہوگا وہی جو مبعوث کئے گئے تا کہ اہل عالم کو مودت اور دوستی اور مکارم اخلاق کی تعلیم دیں اور رحمۃللعالمین کے درجے پر فائز ہوجائیں۔

نئے ملینیم میں عالم اسلام کو شیطانی افواج کی جانب سے یلغاروں اور دشمنیوں کی لہروں کا سامنا ہے خاص طور پر بین الاقوامی صہیونیت کی سرکردگی میں مغرب میں اسلام فوبیا کا تقاضا ہے کہ مکتب رسالت و نبوت کے فرزند حکمت اور بصیرت سے استفادہ کرتے ہوئے مناقشات اور فتنہ انگیزیوں کا سامنا کریں اور اختلاف و افتراق کا باعث بننے والے ہر اقدام سے پرہیز کریں جیسا کہ آپ حضرات نے اپنی مدبرانہ آگہی اور دوراندیشی کی بنا پر ایسا ہی کیا۔

امت اسلامی کو اس قرآنی آیت کو مدنظر رکھنا چاہئے: و لن ترضی عنک الیہود و لاالنصاری حتی تتبع ملتہم۔

یہ خداوند متعال کا کلام صدق ہی جو امت اسلامی کو اصحاب کفر اور زمانی کے ابرھوں کی نہ ختم والی دشمنی کے سلسلے میں متنبہ کررہا ہے اور مسلم امہ کو ان کے فریب سے بھرپور اقدامات کی نسبت حسن ظن اور سادہ اندیشی سے منع کررہا ہے۔

عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ (ص) کے خاندان عظیم الشأن کی تعلیمات کے مطابق اسلامی مذاہب کے درمیان دو طرفہ اور چند طرفہ احترام پر زور دیتی ہے اور ان تعلیمات سے مطابقت رکھنے والی ہر کوشش کی ہمہ جہت حمایت کرتی ہے۔

ہمیں امید ہے کہ دیگر مسلم علماء اور دانشور بھی دینی اور شرعی ذمہ داری محسوس کریں اور اس عظیم میثاق میں شامل ہوجائیں اور مسلم امہ کو یکجہتی، اور آپس میں ہمدردی اور تعاون کی دعوت دیں۔

بارگاہ الہی میں اسلام اور شریعت محمدی (ص) کی وحدت آفرین تعلیمات کے سائے میں اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے سلسلے میں آپ حضرات کی توفیقات کے اضافے کی التجا کرتا ہوں۔ 

محمدحسن اختری

سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی

 

قابل ذکر ہے کہ تقریبا ایک مہینہ قبل اہل سنت کی جانب سے شیخ عائض القرنی اور اہل تشیع کی جانب سے شیخ حسن الصفار نے "قومی وحدت اور بقائے باہمی" کے عنوان سے ایک مشترکہ سند پر دستخط کردیئے۔

سعودی عرب کے نامور دانشور شیخ "محمد الشیوخ" نے اس اقدام کی تعریف و تمجید کرتے ہوئے کہا: "اکثر مسلم عقلاء ـ خواہ شیعہ ہوں یا سنی ـ نے العریفی کے تفرقہ انگیز موقف پر تنقید کی ہے اور اس موقف کی مذمت کی ہے اور قومی اتحاد کے منشور اور مذاہب میں باہمی احترام کی ضرورت پر تأکید کا خیر مقدم کرتے ہیں اور تمام مذاہب کی طرف سے فتنہ اور انتشار کے خلاف ہر قسم کا اقدام تمام مذاہب کے نزدیک قابل تحسین و تعریف ہے"۔

یہ منشور اسلامی مذاہب کے باہمی احترام پر زور دیتا ہے اور تکفیری موقف کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔

اس منشور کی شقوں میں اسلام کی جامعیت پر تأکید، دوسروں کی تکفیر اور دیگر مذاہب کو متنازعہ بنانے سے پرہیز، سعودی شہریوں کے مابین عدل و انصاف اور مساوات کے فروغ پر تأکید اور امتیازی رویوں کے خاتمے کی ضرورت پر تأکید، خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

.......................

/110