بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ٹیلی گرام چینل 'جہاں بین' نے امریکی فوج کے ریٹائرڈ کرنل لیری (لارنس) ویلکرسن کا بیان شائع کیا ہے، جو کرنل ڈیئئل ڈیوس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ واشنگٹن نے آزاد دنیا کے رہنما کی حیثیت سے اپنا مقام کھو دیا ہے اور اب وہ پہلے کی طرح دنیا کے ممالک کو اپنے ساتھ نہیں ملا سکتا۔۔۔ دنیا کی تقریباً دو تہائی آبادی ایسے ممالک میں رہتی ہے اور امریکی ان کی حمایت کھو چکا ہے؛ یہ صورتحال ان کے بقول واشنگٹن کے عالمی اثر و رسوخ کے زوال کو عیاں کرتی ہے۔
کرنل ڈینئل ڈیوس: صدر ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان توانائی جنگ بندی کی خبر دیتا ہے، لیکن روس نے اسی رات اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
سعودی عرب کا مرکزی ہوائی اڈہ حملے کا نشانہ بنتا ہے اور ٹرمپ نہیں جانتا کہ اس بارے میں اس کو کیا کرنا چاہئے۔
کرنل لیری (لارنس) ولکرسن (Lawrence Wilkerson) ہم سے آملے ہیں۔
کرنل! کیا امریکہ آزاد دنیا کے لیڈر کے طور پر اپنی پوزیشن کھو گیا ہے؟ کیونکہ اگر لیڈرشپ کا مطلب یہ ہو کہ دوسرے آپ کی پیروی کریں، لگتا ہے کہ ہم مزید کسی کی بھی کسی سمت میں راہنمائی نہیں کرتے!
لیری ولکرسن: میں آپ سے 100 فیصد متفق ہوں۔ میرے خیال میں یہ پوزیشن کھونے کا یہ عمل بل کلنٹن کے دور میں شروع ہؤا۔ گوکہ اس کی داستان بہت مفصل ہے؛ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ، جوبائیڈن، ٹونی بلنکن اور خاص طور پر جیک سلیوان کے ـ اور خاص الخاص مؤخرالذکر دو افراد ـ ساتھ ہم یہ پوزیشن مکمل طور پر کھو گئے ہیں۔ کیونکہ میری رائے کے مطابق جو بائیڈن کم از کم اہنی صدارت کے آخری سال ضروری ذہنی صلاحیت سے محروم ہو چکا تھا۔
اب ایک بار پھر ٹرمپ فیصلہ کن انداز سے دنیا کی دو تہائی آبادی کی حمایت کھو دی ہے اور اس پوزیشن کے خاتمے کو حتمیت تک پہنجا دیا ہے۔
میرا خیال ہے کہ یہ تخمینہ اچھا ہے؛ دنیا کی دو تہائی آبادی جو تقریبا 60 فیصد عالمی جی ڈی پی پیدا کرتی ہے؛ جب آپ ان ممالک کی آبادی پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ اچھی خاصی بڑی آبادیاں ہیں؛ جن میں چین، بھارت وغیرہ، شامل ہیں اور ان کی یہ تین ارب سے زیادہ ہے۔ ہم ان سب کو کھو چکے ہیں۔ البتہ ہم ایسے ممالک کو بھی کھو چکے ہیں جو اس حقیقت کا اعتراف کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں! کیونکہ ہم ان میں سے بہت سوں کو اچھی خاصی رقوم دیتے ہیں، وہ ممالک جو ان قوانین کو مانتے ہیں جنہیں ہم "بین الاقوامی قوانین" کہتے ہیں۔ یا وہ چاہتے ہیں کہ ان قوانین کی رعایت کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ