17 ستمبر 2019 - 15:07
اسرائیلی انتخابات اور نیتن یاہو کی چالیں

نتین یاہو کے سامنے اس بار انتخابات میں کامیابی کے لیے شرائط بالکل فراہم نہیں تھے لہذا انہوں نے ووٹ بٹورنے کے لیے طرح طرح کی چالیں چلی ہیں۔ وہ الگ بات ہے کہ ان کی بعض یہ چالیں الٹا ان کے گلے پڑ گئیں اور حتیٰ اس بات کا باعث بنیں کہ مقبوضہ فلسطین میں ان کی گزشتہ مقبولیت بھی خطرے میں پڑ جائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کی شیطانی چالیں کس قدر موثر واقع ہوتی ہیں اور کیا ایک مرتبہ پھر وہ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان ہوتے ہیں یا پھر ان چالوں میں ناکام ہو کر جیل کی سلاخوں کے پییچھے جاتے ہیں؟

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ابنا۔ سال میں دوسری مرتبہ آج اسرائیل میں کینسٹ کے انتخابات ہو رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا نیتن یاہو اس انتخابات میں اکثریت حاصل کر ایک مرتبہ پھر صہیونی ریاست کی وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان ہو پائیں گے یا نہیں؟ اگر انتخابات میں کامیابی کے لیے ان کی جد وجہد اور انتھک کوششوں کی طرف نگاہ دوڑائی جائے تو ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اس انتخابات میں کامیابی کے لیے ہر طرف ہاتھ پیر مارے ہیں اس لیے کہ جیسا کہ اکثر تجزیہ نگاروں کا کہنا بھی ہے کہ نیتن یاہو کے سامنے صرف دو ہی راستے ہیں یا انتخابات میں کامیابی یا جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندگی۔ اگر نیتن یاہو اس الیکشن میں کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو پاتے تو ان پر سالہا سال سے چل رہے مالی گھوٹالوں کے مقدمے انہیں بآسانی جیل میں دھکیل دیں گے۔ لہذا جیل کی سزا سے بچنے کے لیے انہوں نے گزشتہ عرصے میں انتھک کوشش کی ہے کہ انتخابات میں کامیابی حاصل کریں، ذیل میں غیرسنجیدہ یا سنجیدہ ان اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو انہوں نے اس عرصے میں انجام دیئے ہیں:

بقیہ یہاں پڑھیں