اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مقتدا صدر کا نام ہمیشہ کچھ حواشی ساتھ لئے پھرتا رہا ہے جن میں سے بعض حواشی اہل مقاومت کو زیادہ اچھے بھی نہیں لگے؛ مقاومت کی دشمن اور قدس شریف کے سودے میں پیش پیش سعودیوں اور اماراتیوں سے ان کے رابطے اور ان رابطوں اور ملاقاتوں کے بعد ان کا موقف اس نام کا سنجیدہ ترین حاشیہ سمجھا جاتا تھا جس نے مقتدا کو دنیا جہاں کی خبروں میں سرفہرست قرار دیا تھا اور عراقی عوام کے درمیان بھی اس شخصیت کی ساکھ کو شاید مجروح کردیا؛ اس کے باوجود تہران میں عصر عاشورا ۱۴۴۱ھ کو پیش آنے والے واقعے اور رہبر معظم امام خامنہ ای کے ساتھ ان کی ملاقات نے ثابت کیا کہ گوکہ ممکن ہے کہ صدر کبھی کبھی مخالفت پر بھی اترتے ہیں لیکن ڈوری کا سرا کبھی نہیں کاٹتے۔ جو بھی ہو وہ عراق کے نہایت بااثر راہنماؤں میں سے ہیں اور ضرورت کے وقت وہی کرتے ہیں جو عراقی ملت کے لئے فائدہ مند ہو اور اس لحاظ سے بہت بہتر ہیں بعض انگریزی شیعوں سے جن کی ڈوریوں کے سرے صہیونی مراکز اور ایم آئی سکس سے جڑے ہوئے ہیں۔
بقیہ یہاں پڑھیں