اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں خلیج فارس کے ممالک ایران کے بارے میں اپنے مواقف بدلتے نظر آ رہے ہیں جیسا کہ متحدہ عرب امارات کے کوسٹ گارڈ کا ایک وفد نے ایران کے اپنے ہم منصبوں سے ملاقات کی اور اس کا نتیجہ یمن سے متحدہ عرب امارات کے فوجیوں کے انخلاء کے طور پر سامنے آیا۔
تل ابیب کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یمن میں متحدہ عرب امارات کی فوجی حمایت کے بغیر، ایران کی جانب سے حمایت یافتہ الحوثی گروہ کے آگے سعودی عرب گھٹنے ٹیک دے گا۔ دوسری جانب اسرائیل کے لئے یہ اچھی خبر نہیں ہے کہ بحیرہ احمر میں ایران سے ہتھیاروں کی سپلائی لائل المکلا پر حوثی گروہ کا قبضہ رہے کیونکہ یہاں سے جانے والا ہتھیار غزہ پٹی میں حماس تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ اسرائیل ذرائع کہتے ہیں کہ باب المندب میں اسرائیل کے سول سمندری جہازوں اور فوجی جہازوں کو دھمکانے کے لئے ایران، الحوثی گروہ سے مدد لے سکتا ہے۔
اسرائیلی اخبار ہارٹس لکھتا ہے کہ ایران نے الحوثی گروہ کی حمایت کیا اور اس کا نتیجہ بھی اسے ملا، یمن کے ڈرون طیاروں اوار ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی تیل تنصیبات پر حملے کئے گئے، ایران کی جانب سے الحوثی گروہ کو دیئے گئے اسکڈ میزائلوں سے حملے ہوئے، جن کو چلانا حزب اللہ لبنان کے جنگجوؤں نے سکھایا ہے، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ متحدہ عرب امارات بحران یمن سے فرار ہو گیا۔
اسرائیلی ذرائع آخر میں کہتا ہے کہ سعودی کوششیں ناکام ہوگئیں، یمن تقسیم ہوکر رہے گا، نا امیدی میں ڈوبا رہے گا، کوئی بات نہیں، ایرانی اس کو اپنے لئے کامیابی سمجھیں، یہ ایران مخالف اتحاد کے لئے بری خبر ہے کیونکہ نہ تو ٹرمپ، ایران کے خلاف کچھ کر پا رہے ہیں اور نہ ہی نتن یاہو ان کو ایران کے خلاف اشتعال دلانے میں ناکام رہے ہیں۔ اب تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ خلیج فارس میں کون شکست کھایا اور فاتح رہا؟
شکریہ
عبد الباری عطوان
رای الیوم
* abna24 کا مقالہ نگار کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے*
/129
29 اگست 2019 - 05:30
News ID: 972474
اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ میں کچھ ایسے بھی ہیں جو ایران کی انتظامیہ کو ہی بدلنا چاہتے ہیں جیسے جان بولٹن، اگر یہ کوشش کی گئی تو حالات جنگ تک پہنچ سکتے ہیں تاہم یہاں پر اس بات کا ذکر بہت ضروری ہے کہ ایران نے ملک کی سرحدوں کی خلاف ورزی کرنے والے امریکا کے ڈرون طیارے کو سرنگوں کر دیا تھا، یہاں پر امریکا نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ۔