23 دسمبر 2018 - 15:35
مسئلہ کشمیر اور بھارتی فوجی افسران کے متضاد بیانات

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بھارتی فوجی قیادت کے امن کے خیالات کا مقبوضہ کشمیر میں زمینی سطح پر کوئی اثر ہے اور نہ مطابقت۔ اگر یہی بات دیکھیں کہ مقبوضہ کشمیر میں معرکہ آرائیوں میں نو آموز اور نو عمر لڑکے مارے جاتے ہیں، پھر خواہ مخواہ انتقامی کارروائی کے طور پر رہائشی مکانات اور جائیداد تباہ کی جاتی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے بارے میں بھارتی حکام کے بعد اب فوجی قیادت بھی بیانات کے حوالے سے فعال نظر آرہی ہے۔ جموں و کشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ کا کہنا ہے کہ کشمیر میں 250 عسکریت پسند سرگرم ہیں اور حالات دن بدن ان کے خیال میں معمول پر آرہے ہین۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فوجی قیادت بھی اب کہہ رہی ہے کہ کشمیر مسئلہ کے حل میں فوج کا کردار محدود ہے۔ 15ویں کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹنٹ جنرل انل کمار بھٹ کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج عسکریت پسندی کو ختم کرسکتی ہے، سنگ باری کے واقعات پر روک لگانے میں کردار نبھا سکتی ہے لیکن پائیدار امن کے لئے اور مسئلہ کشمیر کے دیرینہ معاملے کو حل کرنے کے لئے سیاسی گفت و شنید، اچھی حکمرانی اور کشمیری نوجوانوں کے ذہنوں اور رجحانات کو بہتر سمت دینے کی ضرورت ہے۔

سنڈے ایکسپریس میگزین کو اپنے ایک انٹرویو میں جنرل انل کمار بھٹ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل میں فوج کا کردار محدود ہے اور باقی کام سیاسی قیادت کا ہے۔ انہوں نے بھی بھارت کے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے اقدامات کا ذکر کیا ہے کہ کشمیریوں کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت ہے۔ مجموعی طور پر ان کا کہنا ہے کہ کشمیریوں میں یہ اعتماد بحال کرنا ہوگا کہ اُن کا مستقبل ہندوستان میں محفوظ ہے۔ اس سے قبل ہی جنرل پناگ (ریٹائرڈ) نے بھی تفصیل کے ساتھ یہ بات بتائی کہ مسئلہ کشمیر کا کوئی فوجی حل نہیں ہے بلکہ اس کا صرف سیاسی حل ہی ممکن ہے۔ ان سے پہلے بھی کئی بھارتی فوجی جنرل اس طرح کے خیالات کا اظہار کرچکے ہیں۔ ان میں جنرل پدمنا بھن سب سے نمایاں ہیں۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بھارتی فوجی قیادت کے امن کے خیالات کا مقبوضہ کشمیر میں زمینی سطح پر کوئی اثر ہے اور نہ مطابقت۔ اگر یہی بات دیکھیں کہ مقبوضہ کشمیر میں معرکہ آرائیوں میں نو آموز اور نو عمر لڑکے مارے جاتے ہیں، پھر خواہ مخواہ انتقامی کارروائی کے طور پر رہائشی مکانات اور جائیداد تباہ کی جاتی ہے۔ یہ بھارتی فورسز کا کشمیر میں معمول بن چکا ہے۔ اس سے کشمیریوں میں یہ نظریہ کبھی مستحکم نہیں ہوسکتا ہے کہ ان کا مستقبل ہندوستان میں محفوظ ہے۔ جنرل بپن راوت اس سے قبل پاکستان کو دھمکی دے چکے ہیں کہ وہ ایک اسلامی ملک کے ساتھ کوئی بھی امن کی گفت و شنید نہیں کرسکتے ہیں۔ بقول اُن کے اگر پاکستان بھارت کے ساتھ دوستی چاہتا ہے تو اس کو سکیولر ملک بننا پڑے گا اور اسی بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر بھارت کی سیاسی قیادت اس کی اجازت دیتی ہے کہ عسکری پسندوں کے خلاف ڈرون حملوں کا استعمال کیا جائے تو وہ ایسے حملے کرنے کے لئے بھی تیار ہیں۔ یوں جنرل بپن راوت، جو بھارتی فوج کے سربراہ ہیں، کے جارحانہ بیانات اور 15ویں کور کے جنرل بھٹ کے مصالحانہ خیال میں واضح تضاد موجود ہے۔

جنرل بپن راوت، جنرل بھٹ، جنرل انبو، جنرل پناگ (ر)، جنرل ہوڈا (ر) اور بھارت کے دوسرے جنرل بظاہر امن و سلامتی کے خیالات اور کشمیریوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، لیکن عملی دنیا میں اس کا کہیں پر وجود نہیں ہے۔ یہ صورتحال مزید طوالت اختیار کرگئی تو بھارتی افواج قاتلانہ نفسیات اور قاتلانہ مزاج کی آبادی بن جائے گی، جو خود اپنے بھارتی سماج کے لئے مصیبت بن جائے گی، کیونکہ بہت سارے فوجی ریٹائرڈ ہونے کے بعد مقامی سطح پر آر ایس ایس میں شامل ہوکر نسلی و مذہبی منافرت اور قتل و غارتگری کا ہراول دستہ بن جاتے ہیں۔ حال ہی میں کشمیر سے چھٹی پر گئے ایک بھارتی فوجی نے بھارتی ریاست اترپردیش میں وہاں ایک اپنے ہی بظاہر سکیولر پولیس اہلکار کو گولی مار دی۔ اس طرح کی بہت ساری مثالیں دی جاسکتی ہیں کہ بھارتی فوج کو جس طرح کشمیر میں قتل و غارتگری اور تباہی کی مکمل چھوٹ حاصل ہے، اس سے خود ان کی ذہنیت اور مزاج کی بربادی ہو رہی ہے یا ہونے والی ہے۔ وہ قاتلانہ جبلت پال کر اپنے ہی سماج کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ اب اگر بھارتی فوجی قیادت واقعاً کشمیر میں امن کی فضاء دیکھنا چاہتی ہے تو انہیں اپنی وحشی کارروائیوں فوری طور پر بند کر دینی چاہیں۔

جے اے رضوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲