اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ موجودہ حالات میں مغربی ـ عربی محاذ نے الحدیدہ پر قبضہ جمانے کے لئے اپنی کوششوں میں زبردست اضافہ کیا ہے۔ چھ دن قبل امریکی وزیر دفاع نے جنگ یمن کے خاتمے کے لئے بنی سعود اور بنی نہیان کو 30 دن کی مہلت دی ہے اور اسی دن سے الحدیدہ پر مغربی ـ عربی دباؤ میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ دلچسپ امر یہ کہ ـ اب جبکہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس جنگ یمن کے خاتمے پر متفق القول نظر آرہے ہیں ـ یمن کے لئے اقوام متحدہ کے ایلچی مارٹن گریفٹ نے بھی یمنی فریقوں کے درمیان بات چیت کو ملتوی کردیا ہے!! جس سے اقوام متحدہ کی امریکہ اور اس کے ساتھیوں نیز بنی سعود سے وفاداری کی نشانیاں ملتی ہیں۔ گریفت نے مذاکرات کی اکلی تاریخ بھی متعین نہیں کی ہے۔ بہ الفاظ دیگر، اقوام متحدہ کے ایلچی نے مذاکرات کو الحدیدہ کی جنگ کے نتائج سے مشروط کردیا ہے!
چنانچہ زیادہ امکان یہی ہے کہ جو کچھ اگلے دنوں میں شروع ہوگا وہ تین ہفتوں تک جاری رہے گا اور وہ ہے مظلوم یمنی عوام کے خلاف جنگی جرائم کا ارتکاب جس کو شدت ملے گی۔ جیسا کہ پچھلے دنوں سعودی اتحاد نے الحدیدہ کے شمالی علاقوں پر بمباریاں کرکے بےشمار شہریوں کو شہید کرنے کے علاوہ تقریبا ایک لاکھ افراد کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا ہے۔
اس کے باوجود امریکیوں کے ساتھ سعودیوں کو بھی ان نئے حملوں کی نتیجہ خیزی کے سلسلے میں شک و تذبذب کا سامنا ہے۔ چنانچہ ـ باوجود اس کے کہ امریکہ یمن میں بنی سعود اور بنی نہیان دل دہلا دینے والے ہولناک جرائم میں شریک ہے ـ امریکی حکام گذشتہ چار دنوں سے کچھ یوں جتا رہے ہیں کہ گویا اس نے جارح سعودی اور اماراتی طیاروں کو ایندھن کی فراہمی روک لی ہے۔ جبکہ چار دن قبل کے امریکی وزیر دفاع کے موقف سے چند ہفتے قبل ریپلکنز کے قریبی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعوی کیا تھا کہ امریکہ نے فضا میں امارات اور سعودی عرب کے طیاروں کو ریفیولنگ کی سہولت کی فراہمی روک لی ہے۔ لیکن محمد علی الحوثی نے چا روز قبل اعلان کیا کہ امریکی اخبار کا دعوی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں رکھتا اور امریکہ آج بھی یمن کی فضاؤں میں جارح طیاروں کو ایندھن فراہم کررہا ہے۔
گوکہ امریکی وزیر دفاع کی سطح کے کسی امریکی اہلکار نے پہلی مرتبہ اس بات کا باضابطہ اعتراف کیا ہے کہ کہ امریکہ یمن کے خلاف ظالمانہ جنگ میں سعودی اور اماراتی طیاروں کو ایندھن فراہم کرتا رہا ہے۔
امریکی وزیر دفاع کے اس سرکاری اعتراف کا مطلب یہ ہے کہ یمنی عوام پر گرائے جانے والے نصف بموں کی ذمہ داری واشنگٹن کے سر ہے اور ابھی تک یمن عوام پر 25000 سے زائد بم گرائے جاچکے ہیں۔
اگر امریکی ایندھن رسانی نہ ہوتی تو یہ طیارے ـ بالخصوص امارات کے طیارے ـ یمن تک پرواز ہی نہ کرسکتے اور عملی طور پر یمن تک بم پہنچانے کے لئے ضروری ایندھن لے کر پرواز کرنے کے قابل نہ ہوتے۔
نیز یہ جو امریکہ کہہ رہا ہے کہ جنگ کو اختتام پذیر ہونا چاہئے اور یہ کہ امریکہ جارح طیاروں کو ایندھن فراہم نہیں کرے گا، اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ امریکہ اس جنگ سے ناامید ہوچکا ہے اور وہ اپنے انداز کی جنگ آگے بڑھانے کا قابل نہیں رہا ہے۔ امریکہ ایسے مواقع پر دو پالیسیوں پر کاربند رہتا ہے "فیصلہ کن ضرب" اور "تعمیری انارکی"۔
اس جنگ میں امریکہ اور سعودیوں نے ابتداء میں ضرب قاطع یا فیصلہ کن حملے کی بات کی اور اپنی کاروائی کا آغاز عاصفۃ الحزم (فیصلہ کن طوفان) کے نام سے کیا اور چھ مہینوں تک کوشش کرتے رہے کہ عبدالملک بدرالدین الحوثی اور ان کے افسانوی ساتھیوں کو فیصلہ کن نقصان پہنچا دیں، لیکن ہر جرم کے ارتکاب کی مکمل آزآدی کے باوجود عمل میں وہ ایسا کرنے سے قاصر و عاجز رہے، لہذا پلٹ گئے اور چونکہ بنی سعود کو یمن کے خلاف کاروائی جاری رکھنے کے حوالے سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، کاروائی بند کرنے کے بجائے، مغرب کے مشورے پر، کاروائی کا نام بدل کر "اعادۃ الامل" (امیدوں کی واپسی) کے نام سے خونریزی کا سلسلہ جاری رکھا اور دارالحکومت صنعا اور صنعا تک جانے والے راستوں پر قبضہ کرنے کے لئے اپنی اور اپنے حلیفوں کے تمام تر وسائل کا وسیع استعمال کیا تا کہ شمال میں انصار اللہ کے اصلی مراکز تک رسائی حاصل کرسکیں اور یوں اپنی اور اپنے حلیفوں کی شکست خوردہ اور ناامید افواج کو امید دلا دیں لیکن دو سال سے زائد عرصہ گذرنے کے باوجود مایوس عربی ـ مغربی افواج امید کے پلٹ آنے کا انتظار کررہی ہیں لیکن اعادۃ الامل نامی خونخواری کا سلسلہ بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکا۔ چنانچہ بنی سعود اور بنی نہیان کے شیوخ نے اپنے مغربی آقاؤں کے ہاں بیٹھ کر طویل صلاح مشوروں کے بعد یمن کی سماجی اور اقتصادی حیات میں اہم کردار ادا کرنے والی بندرگاہ الحدیدہ پر قبضہ کرنے کے منصوبے کا جائزہ لیا۔
یوں عربی ـ مغربی محاذ نے ـ عوام کو انصار اللہ سے الگ کرنے اور صنعا پر قبضہ کرنے میں مکمل ناکامی کے بعد ـ اپنی پوری قوت الحدیدہ پر مرکوز کرلی اور 16 جون 2018ع کو زبردست زمینی، فضائی اور بحری حملے کا آغاز ہوا اور امارات کی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ یہ کاروائی ایک مہینے تک جاری رہے گی لیکن یہاں بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور ساڑھے پانچ مہینے گذرنے کے باوجود مغربی ـ عربی محاذ کو کوئی کامیابی حاصل نہ ہوسکی اور بنی سعود اور بنی نہیان کی فوجیں ـ برطانیہ، فرانس، امریکہ اور یہودی ریاست کی بھرپور بحری اور فضائی حمایت کے باوجود ـ خالی پیٹ، خالی ہاتھ اور پا برہنہ یمنیوں کی استقامت کے آگے ناکام و نامراد ہوئیں۔ اس جنگ میں برطانیہ اور فرانس کے بحری جہازوں نے براہ راست حصہ لیا؛ لیکن آخر کار شکست قبول کرنا پڑی۔
اکتوبر میں بنی سعود نے اپنے وفادار صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں واقع اپنے قونصلیٹ کے اندر مار کر پانچ سوٹ کیسوں میں بھر کر تیزاب میں محو کیا تو بنی سعود کی انتظامی صلاحیت ایک بار متنازعہ بنی کیونکہ وہ حساس مسائل کو نتیجے تک پہنچانے میں ایک بار پھر ناکام و نامراد ہوچکے تھے اور انھوں نے ایک بڑی بین الاقوامی رسوائی اور سعودی ریاست کی جنگ ہنسائی کے اسباب فراہم کئے تھے؛ اور بنی سعود ـ بنی نہیان کی مسلط کردہ جنگ کے بیرونی حامیوں ـ یعنی امریکہ، فرانس اور برطانیہ ـ کے درمیان یہ بحث چھڑ گئی کہ بنی سعود اپنی نااہلی اور "گندی کاروائی Dirty operation" کے ذریعے مغرب کو مختلف بحرانوں کے انتظام سے روک رہے ہیں۔
دوسری طرف سے امریکی یمن میں اپنی پالیسی "تعمیری انارکی" پھیلانے میں بھی ناکام ہوچکے تھے۔ اس امریکی پالیسی کے مطابق "دشمن کے علاقے میں انارکی اور لاقانونیت آخرکار ایسے حالات کو جنم دے سکتی ہے کہ اصل قوت ـ جو اس انارکی اور لاقانونیت کے پیچھے چھپ جاتی ہے ـ میدان میں آتی ہے اور جنگ کو اپنے مفاد میں آگے بڑھاتی ہے، جبکہ اس کامیابی کے لئے حملہ آور فوج نے کوئی خاص اخراجات برداشت نہیں کئے ہوتے ہیں"۔
یمن کی جنگ میں سعودیوں کا خیال تھا کہ یہ جنگ اندرونی خانہ جنگی پر منتج ہوگی چنانچہ سعودیوں کا اصرار تھا کہ یمنی عوام ایک دوسرے کے خلاف لڑ پڑیں۔ مفرور و مستعفی صدر منصور ہادی کے منصوبے اور صنعا کے مقابلے میں، جنوبی یمن کے شہر عدن میں ایک حکومت قائلم کرنے کا مقصد یہی تھا لیکن یہ منصوبہ اس قدر رسوا اور ناکام ہوا کہ حال ہی میں سعودی ـ اماراتی خونخواروں نے عدن میں قائم حکومت پر اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری ڈال دی ہے اور کہہ رہے ہیں کہ اس حکومت پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلانا چاہئے!
امریکہ اور اس کے کٹھ پتلی بنی سعود کو توقع تھی کہ افراتفری اور انارکی یمن کی تمام تنظیموں اور جماعتوں کو ایک دوسرے سے لڑا دے گی اور آخر کار یمنی عوام خود ہی امریکہ اور سعودی عرب سے درخواست کریں گے آ کر ان حالات کو خود ہی سنبھالیں اور ملک میں امن و امان قائم کریں۔
انہیں توقع تھی کہ انصار اللہ اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کی فوجوں کے درمیان لڑائی نیز دوسری طرف سے انصار اللہ اور اخوانی جماعت "اصلاح" کے درمیان لڑائی، پوری سرزمین یمن میں جنگ کے شعلے بھڑکائے گی اور یہ جنگ آخر کار انصار اللہ اور "حراک جنوب" نامی جماعت کے درمیان جنگ پر بھی منتج ہوگی چنانچہ انھوں نے حراک جنوب کے راہنما حسن باؤوم کی سادہ لوحی اور لالچی پن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کو جنوبی یمن کی خودمختاری کا وعدہ دے کر الحدیدہ میں عربی ـ مغربی محاذ میں شامل ہوکر انصار اللہ کے خلاف لڑنے کی دعوت دی اور ایک بار پھر بنی سعود اور امریکیوں کو امید ہے کہ افراتفری انتہا کو پہنچے گی اور دوسری طرف سے الحدیدہ شہر اور بندرگاہ پر شدید بمباری کے نتیجے میں بےگھر ہونے والے ہزاروں یمنی شمال کی طرف ہجرت کریں گے اور صنعا میں بسیرا کریں گے اور یوں انصار اللہ اور عوامی کمیٹیوں کا کنٹرول عملی طور پر ختم ہوجائے گا اور ہر شہر اور ہر گاؤں ـ جنہیں انصار اللہ نے ایک مستقل یونٹ میں تبدیل کردیا ہے ـ انصار اللہ کے کنٹرول سے نکل جائے گا۔
بہرصورت افراتفری اور انارکی عملی طور پر وقوع پذیر نہیں ہوئی، علی عبداللہ صالح کی غداری کے باوجود انصار اللہ اور مؤتمر کے درمیان جنگ نہیں چھڑ سکی، انصار اللہ اور حزب الاصلاح کے درمیان جنگ میں شدت نہيں آئی بلکہ خطے میں اخوانی نظریات اور قوتوں کے خلاف بنی سعود کے تند و تیز موقف کی وجہ سے اس وقت انصار اللہ اور اخوانی حزب الاصلاح کے درمیان تعاون کے بارے میں سرگوشیاں سنائی دینے لگی ہیں۔
حراک جنوب کے دو بریگیڈ ـ جن کی کمانڈ حسن باؤوم کے ہاتھ میں ہے ـ رمضان کے مہینے میں الحدیدہ پر ہونے والے حملے میں شرکت کرنے کے بعد، الحدیدہ سے پلٹ کر واپسے آگئے اور باؤوم نے اعتراف کیا کہ انہیں اماراتیوں نے دھوکہ دیا تھا۔
چنانچہ افراتفری اور انارکی نہیں پھیل سکی اور جنگ کے اس عرصے میں شمالی علاقوں میں رہنے والی یمن کی تین چوتھائی آبادی ـ سعودی ـ امریکی ـ یہودی ریاست اور امارات کی فضائی بمباریوں کے سوا ـ نسبتا پرامن رہی ہے اور انصار اللہ کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہوا۔
آخری بات یہ کہ یمن کی جنگ میں امریکہ کے دو بنیادی اصول ناکام ہوگئے ہیں، امریکہ اور اس کے کٹھ پتلی عرب حکمرانوں کو ہزیمت اور بند گلی کا سامنا کرنا پڑا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اندھے جرائم کا سہارا نہیں لیں گے کیونکہ وہ ہر قابل تصور جرم کا بہ آسانی ارتکاب کرسکتے ہیں؛ چنانچہ کہنا چاہئے کہ یمن کو تین حساس ہفتوں کا سامنا ہے اور یہ سنجیدہ امکان موجود ہے کہ یہ جنگ سنگین جنگی جرائم پر اختتام پذیر ہو اتنا کہ یمنی عوام کو دشمنوں کے ممکنہ جرائم کے نتائج برسوں تک سہنا پڑیں۔ بہرحال لگتا نہیں ہے کہ تقریبا چار سال سے شروع ہونے والی بنی سعود اور بنی نہیان کی جنگ اس مختصر عرصے میں ان کے فائدے میں ختم ہوگی کیونکہ یمنی افواج اور انصار اللہ کے بھی اپنے منصوبے ہیں جو اگلے دنوں میں دشمن کے حملوں کے جواب میں ظہور پذیر ہونگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تبصرہ: سعداللہ زارعی
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
http://fna.ir/bpmzvo
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۱۰