اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ہندوستان میں انسداد بدعنوانی کے سب سے بڑے ادارے سینٹرل بیورو آف انوسٹیگیشن یعنی سی بی آئی میں موجودہ اختلافات اور ان پر سیاست تاریخ ہندوستان میں اس ادارہ کی بدترین صورت حال کوپیش کر رہی ہے ، خبروں کے مطابق جہاں سی بی آئی کے سربراہ آلوک ورما نے بیورو کے دوسرے سب سے بڑے افسر راکیش استھانا پر ایک کیس کو دبانے کے لیے کروڑوں روپے کی رشوت لینے کا الزام عائد کیا ہےتو دوسری طرف استھانا نے بھی بیورو کے سربرا ہ پر رشوت خوری کے الزامات عائد کیے۔ معاملہ یہاں پر نہیں رکا بلکہ حکومت نے بیورو کا ایک نیا عارضی سربراہ مقرر کر دیا ہے۔ جب کہ مزے کی بات یہ ہے کہ نئے سربراہ پر بھی بھی سیاسی وابستگی اور بدعنوانی کے الزامات مسلسل لگائے جارہے ہیں ساتھ ہی انہیں وزیر اعظم مودی کا قریبی معتمد بھی بیان کیا جا رہا ہے اس پورے معاملہ کا دلچسب موڑ یہ ہے کہ نئے آنے والے سربراہ نے ان سبھی افسروں کا تبادلہ کر دیا جو استھانا کے معاملے کی جانچ کر رہے تھے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق سی بی آئی اس وقت شدید بحران کے شنکجے میں ہے ۔ بیورو کے تین اعلیٰ افسران پر پر بدعنوانی اور جانبداری کے الزامات ہیں قابل ذکر ہے کہ ہندوستان میں سی بی آئی انسداد بدعنوانی کا سب سے بڑا تفتیشی ادارہ ہےلہذا ہمیشہ ہی افسران کے تقرر کے سلسلہ سے یہ حساسیت رہتی ہے کہ صاف ستھری شبیہ کے لوگ یہاں بھرتی ہوں تاکہ کرپشن اور بد عنوانی کے خلاف کھل کر اقدام کر سکیں ، اور اسی سبب مختلف حکومتوں میں موجود کرپشن کی بنیاد پر بد عنوانی کی فائلوں کے سامنے آنے کے خوف کے چلتے حکومتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ اس اداہ میں اپنا نفوذ بڑھایا جا سکے اور اسی لئے ،حکومتوں کے اس مستقل ادارے میں دخالت کے خطرے کے پیش نظر ہی ہندوستان کی عدالت عظمیٰ کے ذریعہ ادارہ کے سربراہ کو مقرر کرنے کا طریقہ کار یہ طے پایا کہ اس ادارہ کے سربراہ کی تقرری وزیر اعظم، حزب اختلاف کے رہنما اور چیف جسٹس مل کر کریں گے۔نیز سربراہ کو مستقل ہو کر فیصلہ لینے کے سلسلہ سے معین ہوا تھا کہ سربراہ کی تقرری کے بعد دو برس سے پہلے اس عہدے سے اس شخص کو ہٹایا نہیں جا سکتا ۔ شاید انہیں تمام حساسیتوں کے پیش نظر عدالت عظمی نے اسے ‘پنجرے کا طوطا’ قرار دیا تھا ۔
پنجرے کا طوطا جب تک اپنے مالک کی گاتا ہے تب ہی تک اسکی چلتی ہے جب تک اپنے مالک کی زبان بولتا ہے تبھی تک اسے دانا پانی بھی ملتا ہے لیکن جب وہ من مانی کرنے لگے تو مالک اسے جا کر بیچ آتا ہے ، فی الحال بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے موجودہ بحران میں حکومت نے نہ صرف براہ راست مداخلت کی ہے بلکہ موجودہ سربراہ کو ان کے عہدے سے ہٹا کر ایک نیا سربراہ بھی مقرر کر دیا۔
آلوک ورما نے سرکار کے اس فیصلے کو غیر آئینی بتاتے ہوئے سپریم کورٹ میں کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے اور عدالت سے کہا کہ وہ کچھ بے حد حساس معاملوں کی جانچ پرکر رہے تھے جو اب ادھوری رہ جائے گی انکے پاس عدالت ہی کی جانب سے دیا گیا یہ مضبوط پوائنٹ بھی ہے قانونی طور پر سی بی آئی چیف کو ان کے تقرری سے لے کر ۲ سال کی مدت تک ہٹایا نہیں جاسکتا۔ان تمام باتوں کے چلتے اب چاروں طرف سے حکومت کو تنقید کا سامنا ہے ، اور گذشتہ چند برسوں میں سی بی آئی کے اہلکاروں کی تقرری سے لے کر ان کی تفتیش کے طریقۂ کار تک، ہر پہلو پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔اور اس کے اہلکاروں کی سیاسی وابستگیوں کے بارے میں کھل کر لوگ باتیں کر رہے ہیں ۔ حکومت کی جانب سے اس جلد بازی کے پیچھے بھی دال میں کالا نظر آتا ہے کیوں کہ ہندوستانی میڈیا و ذرائع ابلاغ کے مطابق رافیل ڈیل معاملے سے لے کر میڈیکل کاؤنسل آف انڈیا رشوت معاملہ ،کوئلہ کان الاٹمنٹ معاملہ میں مبینہ طور پر آئی اے ایس افسر بھاسکر کلبے کے رول سے لے کر اسٹرلنگ بایوٹیک معاملہ جس میں راکیش استھانا کے مبینہ رول کی جانچ کی جانی تھی۔ یہ وہ معاملات سے جو حساس نوعیت کے تھے اور انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ کچھ بے حد اہم معاملے تھے جو کہ سی بی آئی چیف آلوک ورما کے ذریعے جانچ کے دائرہ میں تھے ،۔حزب اختلاف کے محاذ نے بھی مرکز ی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ راکیش استھانا کو بچانے اور رافیل سودے کی جانچ سے بچنے کے لیے آلوک ورما کو غیر قانونی طور پر ہٹا کرعارضی سربراہ مقرر کیا گیا ہے ۔حزب اختلاف کی باتوں میں اس وجہ سے دم نظرآتا ہے کہ ایسے حساس معاملوں کی ایک بڑی فہرست ہے جو ورما کی جانچ کے دائرہ میں تھی ۔
ان میں سب سے اہم معاملہ ہے مبینہ طور پر رافیل سودا گھوٹالہ : سابق بی جے پی لیڈر یشونت سنہا ،ارون شوری اور سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے اس معاملے کو لے کر ۴اکتوبر کو سی بی آئی میں ۱۳۲ صفحات پر مشتمل شکایت سونپی تھی ،جس کو آلوک ورما نے منظور کیا تھا۔ اس شکایت کی تصدیق کی کارروائی ایجنسی کے اندر چل رہی تھی ۔ ذرائع نے انڈین ایکسپریس کو بتا یا کہ اس پر جلد ہی فیصلہ لیا جانا تھا۔ علاوہ از ایں سی بی آئی میڈیکل کاؤنسل آف انڈیا رشوت معاملے میں ہائی پروفائل لوگوں کے رول کی جانچ کر رہی تھی ۔ اس معاملے میں ہائی کورٹ کےریٹائرڈ جج آئی ایم قدوسی کو گرفتا ر کیا گیا تھا ۔ ذرائع نے بتایا کہ قدوسی کے خلاف چارج شیٹ تیار کر لی گئی تھی اور صرف آلوک ورما کے دستخط ہونے تھے ۔
میڈیکل ایڈمیشن میں مبینہ طور پر بدعنوانی کے معاملے کو لے کر الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ایس این شکلا ملزم تھے اور ایجنسی نے اس معاملے کو اپنی جانچ میں شامل کیا تھا ۔ ذرائع نے بتایا کہ پرائمری جانچ پوری ہوگئی تھی اور اس پر بھی صرف آلوک ورما کے دستخط باقی تھے۔
بی جے پی ایم پی سبرامنیم کے ذریعے فنانس سکریٹری آف انڈیا (انچارج آف ڈیپارٹمنٹ آف ریونیو)کے خلاف کی گئی شکایت بھی سی بی آئی کے جانچ کے دائرے میں تھی۔ان سب کا معاملہ تو حساس تھا ہی لیکن یہ ورما کی زیر نظر ایک بہت اہم او ر حساس جانچ وزیر اعظم کے سکریٹری کے سلسلہ سے تھی چنانچہ وزیر اعظم کے سکریٹری آئی اے ایس افسر بھاسکر کلبے کی کوئلہ کان کے الاٹمنٹ میں مبینہ رول کو لے کر سی بی آئی جانچ کر رہی تھی ۔
خبروں میں تو یہاں تک کہا جا رہا ہے کہ دیگر ہندوستان کے بد عنوان اداروں کی طرح کرپشن بری طرح سی بی آئی میں بھی اپنے پیر جما چکا تھا جسکا ثبوت یہ ہے کہ دہلی کے ایک دلال کے یہاں اکتوبر کی شروعات میں چھاپہ مارا گیا تھا ۔ اس دوران لوگوں کو ادا کیے گئے رقم کی مبینہ فہرست اور ۳ کروڑ روپے کیش برآمد ہوئے تھے ۔ سی بی آئی کو یہ بتایا گیا تھا کہ اس شخص نے پی ایس یو میں سینئر عہدوں پر تقرری کے لیے لیڈر اور افسروں کو رشوت دی تھی ۔
یہ سارے ہی حساس معاملات ہیں جنکی حساسیت کے پیش نظر حزب اختلاف نے جم کر احتجاج کیا ہے اور صدر کانگریس راہول گاندھی نے کھلے طور پر سی بی آئی کے ڈائرکٹر الوک ورما کو ہٹادینے اور دیگر سی بی آئی عہدیداروں کے خلاف کی گئی کارروائی کا سوال اٹھا کر وزیراعظم نریندر مودی سے کہا ہیکہ وہ ملک کا پیسہ چوری کرکے راہ فرار اختیار تو کرسکتے ہیں لیکن وہ سچائی نہیں چھپا سکتے ہیں۔ نئی دہلی میں خود کو گرفتاری کیلئے پیش کرتے ہوئے راہول گاندھی وزیراعظم مودی کے خلاف اپنے الزامات کا اعادہ کیا۔ رافیل لڑاکا جیٹ طیاروں کی خریداری میں ہوئے اسکام کی تحقیقات سے دلچسپی رکھنے والے سی بی آئی عہدیدار الوک ورما کو خاموشی کے ساتھ ان کے عہدہ سے ہٹا دیا گیا ہے ۔ راہول گاندھی نے تقریباً ۳۰,۰۰۰ کروڑ روپئے انیل امبانی کے پراجکٹ میں جمع کردینے پر بھی حکومت سے سوال کیا ہے ہندوستان موجودہ سیاسی بھونچال کے چلتے ہندوستانی اسٹاک مارکٹ میں اس ہفتہ بدترین گراوٹ درج کی گئی ہے جسکی بنا پر تجارتی شعبوں میں تشویش پیدا ہوگئی ہے ۔
حالات خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں اور اب تو بات یہاں تک آ چکی ہے اندر وششٹھ نے اپنے کالم میں موجودہ حالات کے پیش نظر ایک الگ ہی انداز سوال داغ دیا ہے کہ عدالت عظمی نے جس پنجرے میں طوطے کے طور پر سی بی آئی کو پیش کیا تھا وہ کہیں گدھ تو نہیں چنانچہ انکے کالم کا عنوان ہی طوطا یا گدھ ہے جو خاموشی کے ساتھ بہت کچھ بتا رہا ہے ۔ اب تووقت ہی بتائے گا کہ پنجرے کو توڑ طوطا بیرون ملک اڑ کر جاتا ہے یا گدھ پرواز کر کے کسی گدی پر براجمان ہوتا ہے ۔
بقلم: سید نجیب الحسن زیدی
خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲