اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بے منطقی [یعنی طاقت] کی منطق، جابر حکومت کی منطق کا دوسرا نام ہے، وہ بین الاقوامی قوانین کمزور ملکوں کے لئے منظور کرتے ہیں۔ امریکہ اور اس کے یورپی حلیفوں نے بےمنطقی کی منطق کی بنیاد پر شام کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا؛ نہ تو ان کے پاس اقوام متحدہ کی کوئی قرارداد تھی اور نہ ہی کوئی خاص منطق اور نہ ہی شامی افواج نے کوئی کیمیاوی حملہ کیا تھا۔
یقینا اگر کسی کمزور ملک نے کسی ہم پلہ یا اپنے سے کمزور ملک پر حملہ کیا ہوتا تو اقوام متحدہ ضرور سرگرم عمل ہوتی اور فریقین سے صبر و تحمل کا دامن تھامنے کی درخواست کرنے کے بجائے ایک کو ظالم اور دوسرے کو مظلوم قرار دیتی لیکن شام پر مغربی مثلث کے حملے کے آگے خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے چنانچہ جو قومیں ابھی تک اقوام متحدہ کو ایک عالمی اور ہمہ گیر تنظیم سمجھتے ہيں، انہیں بھی معلوم ہوچکا ہوگا کہ اقوام متحدہ صرف ایک علامتی تنظیم ہی نہیں بلکہ امریکیوں کے ہاتھوں میں ربڑ کا ٹھپہ ہے جسے وہ کسی بھی من مانی قرارداد پر ثبت کردیتا ہے اور اپنی سامراجیت کو آگے بڑھانے کے لئے بروئے کار لاتا ہے۔
اقوام متحدہ اور اس کی ذیلی تنظیموں نے کبھی بھی جابروں اور طاقت کے بل بوتے پر اقوام عالم کا استحصال کرنے والے ممالک کو آج تک کسی قاعدے کا پابند نہیں بنایا ہے بلکہ یہ تو ان طاقتوں کے ہاتھوں کے اوزار ہیں۔
چنانچہ صرف احمق یا غدار عناصر یا ممالک اقوام متحدہ اور اس کے متعارف کردہ اصطلاحات کو بروئے کار لاکر اپنی قوموں کو مغرب کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ رہے ہيں۔
امریکہ اور اس کے مغربی حلیفوں نے شام پر حملہ کرکے تمام بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کو پامال کررکھا ہے اور اس کے نتائج سنت الہیہ کے تحت ان کے اپنے گلوں میں پڑیں گے اور شاید اس کے لئے اقوام عالم کو طویل عرصے تک انتظار نہ کرنا پڑے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۱۰