اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ روس کے دارلحکومت ماسکو میں جاری والدائی کلب کانفرنس کے شرکا نے بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری، تمام ملکوں کی خود مختاری، اقتدار اعلی کے احترام، اشتعال انگیز اقدامات سے گریز، مشکلات کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں کو مشرق وسطی کے استحکام کا بہترین راستہ قرار دیا ہے۔
والدائی کلب کانفرنس میں شریک وفود نے پہلے دن بحران شام، یمن کی صورتحال، کردوں کے معاملے، فلسطین اسرائیل تنازعے کے حل اور اسرائیل ایران محاذ آرائی سمیت خطے کے تقریبا تمام مسلح تنازعات پر غور و خوض کیا۔
کانفرنس کے آغاز میں روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف، ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف، شامی صدر کی مشیر بعثینہ شعبان اور شام کے امور میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے مشیر رمزی عزالدین نے خطاب کیا۔
شام کی صورتحال، اس کانفرنس کا سب سے زیادہ گرم موضوع تھا جس پر تمام شریکوں نے بات کی اور بحران کے حل میں مدد دینے کے طریقوں کا جائزہ لیا۔
روس کے وزیر خارجہ نے یاد دہانی کرائی کہ اس وقت شام میں امریکی اقدامات سب سے اہم مشکل بنے ہوئے ہیں اور امریکہ آگ سے کھیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ روس کے وزیر خارجہ نے کہا کہ واشنگٹن آگ سے کھیلنے اور یکطرفہ مفادات کی فکر کے بجائے، شامی عوام کے مفادات اور خطے کے استحکام کو مد نظر رکھے۔
ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بھی شام میں امریکی اقدامات کو اشتعال انگیزی کی نئی لہر قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس قسم کے اقدامات کے خطے کی صورتحال پر انتہائی ناگوار اثرات مرتب ہوں گے۔
شامی صدر کی مشیر بعثینہ شعبان نے اپنے ملک کے شمال مغربی علاقے میں ترک فوج کی کاروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عفرین میں جاری آپریشن کے بارے میں شام اور ترکی کے درمیان کسی بھی طرح کی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔
فلسطین اسرائیل تنازعہ بھی والدائی کانفرنس کے شرکا کی تقریروں میں زیربحث رہا اور روس کے نائب وزیر خارجہ میخائل بوگدانوف نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے اپنے سفارت خانے کی تل ابیب سے بیت المقدس منتقلی کے اعلان کے بعد، مسئلہ فلسطین اور اس سے مربوط معاملات پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔
.......
/169