25 دسمبر 2017 - 21:32
ایرانی پارلیمنٹ اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی کی اسلام آباد میں اہم پریس کانفرنس

کلبھوشن چابہار میں ایک تاجر کے طور پر گیا/ اسرائیل کے تعلقات رکھنا ایک مسلم ریاست کے لئے باعث ننگ و عار ہے.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر نے اس بیان کیساتھ کہ کیا کوئی پاکستان میں سی آئی اے کے ایجنٹوں کی عدم موجودگی کی گارنٹی دے سکتا ہے، کہا کہ کلبھوشن چابہار میں ایک تاجر کے طور پر گیا، ہمارے پاس کوئی ایسی اطلاعات نہیں تھیں کہ وہ جاسوسی کی غرض سے داخل ہوا ہے۔
مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں منعقد ہونے والی انتہائی اہم، بروقت اور موزوں اقدام تھا۔ عراق میں داعش کے خلاف کامیابی کے لئے آیت اللہ سیستانی کے فتویٰ نے اہم کردار ادا کیا، اور عراق کی عوام داعش کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی اور انہیں اپنے ملک سے نکال باہر کیا گیا، آج عراق ایک دفعہ پھر ترقی کی جانب گامزن ہو گیا ہے۔ شام میں خانہ جنگی شروع کرنے والوں کا منصوبہ یہ تھا کہ اسرائیل کے مقابل کھڑے ہونے والے شام کو کمزور اور غیر مستحکم کرکے ختم کیا جائے، تاہم ایران نے شام کی درخواست پر میدان سنبھالا اور بعد ازاں روس نے بھی شام کا ساتھ دیا اور دہشت گردوں کو شکست سے دوچار کیا گیا۔ کسی بھی ملک میں ہونے والی دہشت گردی قابل مذمت ہے۔ امریکہ نے داعش کو بنایا تاکہ وہ خطے میں اپنے مفادات حاصل کر سکے اور مسلمانوں کی توانائیوں کو ضائع کیا جائے۔

ایک سوال کے جواب میں ایرانی پارلیمان کے اسپیکر کا کہنا تھا کہ امریکہ نے دو ہزار گیارہ میں افغانستان میں داخل ہوتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ دہشت گردی اور منشیات کے خاتمہ کے لئے یہاں آیا ہے۔ سولہ سال گزرنے کے بعد افیون کی پیدوار میں چودہ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ کیسی جنگ تھی جس کے ذریعے دہشتگردی کے ساتھ ساتھ منشیات میں بھی اضافہ ہوا۔ ہمارا یقین ہے کہ امریکہ دہشت گردوں کے خاتمہ نہیں بلکہ انہیں پروان چڑھانے کے لئے اس خطے میں آیا۔ کلبھوشن چابہار میں ایک تاجر کے طور پر گیا، ہمارے پاس کوئی ایسی اطلاعات نہیں تھیں کہ وہ جاسوسی کی غرض سے داخل ہوا ہے۔ تاہم چابہار کی بندرگاہ انٹیلی جنس نقطہ نظر سے ایسی اہم جگہ نہیں ہے۔ آج کے دور میں سیٹلائیٹ پر تمام واضح ہے۔ کیا کوئی اس بات کی گارنٹی دے سکتا ہے کہ سی آئی اے کے ایجنٹ پاکستان میں موجود نہیں ہیں۔

اسرائیل کے تعلقات رکھنا ایک مسلم ریاست کے لئے باعث ننگ و عار ہے، سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے اس بات کا انکشاف کیا کہ وہ اسرائیل سے تعلقات کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ امریکہ مسلمان ممالک میں تفریق کو گہرا کرکے اپنا اسلحہ بیچنا چاہتا ہے۔ ٹرمپ بیت المقدس کے معاملہ پر اپنے احمقانہ فیصلے کی بدولت شکست کھا چکا ہے۔ غاصب ریاست کا دارالخلافہ بیت المقدس منتقل کرنا ٹرمپ کا جاہلانہ فیصلہ تھا جسے غیرمسلم دنیا نے بھی مسترد کیا۔ بعض ممالک یمن کے مسئلہ پر جھوٹ بول کر القدس کے مسئلہ سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔ دراصل یمن کے عوام اور آرمی سعودی رویہ اور بربریت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ سکڈ میزایل ٹو اور تھری یمنی آرمی کے پاس موجود ہیں۔

.......

/169